بلوچستان میں کارروائی روکنے کا امریکی مطالبہ

آخری وقت اشاعت:  بدھ 31 اکتوبر 2012 ,‭ 22:21 GMT 03:21 PST

اقوامِ متحدہ کے اس جائزہ اجلاس میں اس بار اڑتالیس ممالک میں انسانی حقوق کے حالات کا جائزہ لیا جا رہا ہے

امریکہ نے پاکستان کے صوبہ بلوچستان میں بڑھتے ہوئے تشدد پر تشویش ظاہر کرتے ہوئےالزام لگایا ہے کہ صوبے میں سکیورٹی دستے ’مارو اور پھینک دو‘ کی پالیسی کے تحت شہری حقوق کے حامیوں ، بلوچ کارکنوں ، ان کے اہلِ خانہ، صحافیوں، سیاسی کارکنوں اور طالبِ علم رہنماؤں کو نشانہ بنا رہے ہیں چنانچہ بلوچ سماج منتشر ہورہا ہے اور اعتدال پسندی کے لیے مواقع سکڑتے جا رہے ہیں۔

یہ بات جنیوا میں امریکی مندوب نے اقوامِ متحدہ کی انسانی حقوق کونسل کے جائزہ اجلاس میں پاکستان میں انسانی حقوق کی صورتِ حال پر بحث کے دوران کہی۔

امریکی مندوب نے مطالبہ کیا کہ بلوچستان میں منحرفین کو بزور خاموش کرنے کی کارروائی روکی جائے اور قومی سطح پر تشدد، شہریوں کو جبری طور پر غائب کرنے اور ماورائے عدالت ہلاکتوں کے ذمہ داروں کو کٹہرے میں لایا جائے۔

امریکی مندوب نے احمدیوں اور عیسائیوں کے علاوہ اہلِ تشیع پر بڑھتے ہوئے حملوں اور ان کی چھان بین میں مبینہ تساہل پر بھی تشویش ظاہر کی ہے۔

قبل ازیں پاکستانی وزیرِ خارجہ حنا ربانی کھر نے اجلاس سے خطاب کے دوران امریکہ کی ڈرون حملوں کی پالیسی پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ ان حملوں کے سبب دہشت گردی کے خلاف عمومی حمایت حاصل کرنے میں حکومت کو ناکامی ہو رہی ہے۔

پاکستانی وزیرِ خارجہ نے کہا کہ چار برس پہلے اقوامِ متحدہ کی انسانی حقوق کونسل کے جائزہ اجلاس نے پاکستان کے لیے جو سفارشات مرتب کی تھیں ان میں سے بیشتر پر عمل درآمد ہوچکا ہے یا پھر کوشش ہو رہی ہے۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان میں عدلیہ اور میڈیا مکمل طور پر آزاد ہے۔ تاہم انہوں نے اس بات کا تذکرہ نہیں کیا کہ پاکستان گذشتہ چار برس میں صحافیوں کے لیے سب سے غیر محفوظ ممالک میں شمار ہونے لگا ہے۔

"پاکستان نے سول اور سیاسی حقوق کے کنونشن، ٹارچر (تشدد) کے خلاف کنونشن ، معذوروں کے حقوق اور بچوں کے حقوق سے متعلق کنونشن سمیت نو میں سے سات بنیادی سمجھوتوں کو تسلیم کر لیا ہے۔ موجودہ پارلیمنٹ نے خواتین کے حقوق سے متعلق جتنی قانون سازی کی ہے اس کی مثال گذشتہ پینسٹھ برس کی ملکی تاریخ میں نہیں ملتی۔"

پاکستانی وزیرِ خارجہ حنا ربانی کھر

پاکستانی وزیرِ خارجہ نے کہا کہ اس وقت ملک میں کوئی سیاسی قیدی نہیں ہے۔ انہوں نے بلوچستان کے حالات کا براہ راست تذکرہ کرنے سے گریز کرتے ہوئے کہا کہ دہشت گردی کے خلاف اقدامات میں بین الاقوامی قوانین کی پاسداری کی جا رہی ہے۔

قانون نافذ کرنے والے اداروں کے حوالے سے انہوں نے کہا کہ وہ شدت پسندوں سے نمٹنے کی کاروائیوں میں انسانی حقوق کے احترام اور پیشہ ورانہ معیارات پر کاربند ہیں اور ان اداروں کے افسروں کے خلاف شکایات کو متعلقہ ادارے ، پارلیمنٹ اور عدلیہ سنجیدگی سے لے رہے ہیں۔

حنا ربانی کھر کا کہنا تھا کہ پاکستان نے سول اور سیاسی حقوق کے کنونشن، ٹارچر (تشدد) کے خلاف کنونشن، معذوروں کے حقوق اور بچوں کے حقوق سے متعلق کنونشن سمیت نو میں سے سات بنیادی سمجھوتوں کو تسلیم کر لیا ہے۔

تاہم پاکستانی وزیرِ خارجہ نے یہ وضاحت نہیں کی کہ شہریوں کے جبری اغوا سے متعلق بین الاقوامی کنونشن پر پاکستان اب تک دستخط کرنے سے کیوں ہچکچا رہا ہے۔

حنا ربانی کھر نے کہا کہ موجودہ پارلیمنٹ نے خواتین کے حقوق سے متعلق جتنی قانون سازی کی ہے اس کی مثال گذشتہ پینسٹھ برس کی ملکی تاریخ میں نہیں ملتی۔

پاکستانی وزیرِ خارجہ سمیت بہت سے مندوبین نے ملالہ یوسف زئی کا تذکرہ کرتے ہوئے اسے امید کی علامت قرار دی

ساڑھے تین گھنٹے کی کارروائی کے دوران اناسی ممالک کی جانب سے پاکستان کو انسانی حقوق کے تعلق سے مختلف تجاویز دی گئیں۔

برطانیہ، جرمنی، فرانس، اٹلی، ڈنمارک، سویڈن اور کینیڈا سمیت زیادہ تر مغربی ممالک نے توہین ِ مذہب کے قانون میں بین الاقوامی کنونشنز کی روشنی میں تبدیلی اور شہریوں کے جبری اغوا کے خلاف بین الاقوامی کنونشن پر دستخط، خواتین، بچوں اور مذہبی و نسلی اقلیتوں کے حقوق کی موثر قانونی پاسداری، جبری شادی کے رجہان اور انسانی سمگلنگ کی حوصلہ شکنی کے لیے موجود قوانین پر موثر عمل درآمد کے علاوہ انسانی حقوق کے کارکنوں اور صحافیوں کے جانی تحفظ پر بھی زور دیا۔

الجزائر، سعودی عرب، بحرین اور انڈونیشیا بیشتر افریقی و ایشیائی مسلمان ممالک اور چین، نیپال، بھوٹان، برما اور سری لنکا سمیت علاقائی ممالک نے پاکستان کو درپیش سنگین اقتصادی، سیاسی اور اندرونی دہشت گردی کے چیلنجوں کے تناظر میں انسانی حقوق کے شعبے میں قانون سازی میں پیش رفت پر اطمینان ظاہر کیا۔

پاکستانی وزیرِ خارجہ سمیت بہت سے مندوبین نے ملالہ یوسف زئی کا تذکرہ کرتے ہوئے اسے امید کی علامت قرار دیا۔ تاہم بھارت نے پاکستان کے لیے ہونے والے اس جائزہ اجلاس میں بوجوہ شرکت نہیں کی جبکہ بھارتی وفد جنیوا میں ہی موجود ہے۔

اقوامِ متحدہ کے اس جائزہ اجلاس میں اس بار اڑتالیس ممالک میں انسانی حقوق کے حالات کا جائزہ لیا جا رہا ہے۔ چار سال کے عرصے میں اقوامِ متحدہ کے ایک سو بانوے ارکان میں سے ہر ایک کو ہر چار برس بعد اس جائزے سے گزرنا پڑتا ہے۔

اگرچہ اس جائزے کی سفارشات پر عمل درآمد لازمی نہیں لیکن بین الاقوامی اخلاقی دباؤ کے سبب ہر رکن ملک کچھ نا کچھ سفارشات پر عمل کرنے پر مجبور ہو ہی جاتا ہے۔

جب سے اقوامِ متحدہ کی انسانی حقوق کونسل نے گردشی جائزے کا طریقہ اپنایا ہے تب سے رکن ممالک کی جانب سے حتمی مفارشات پر عمل درآمد کی اوسط شرح چالیس فیصد تک پہنچ گئی ہے۔ انسانی حقوق سے جڑے حلقے اس پیش رفت کو خوش آئند قرار دے رہے ہیں۔

اسی بارے میں

متعلقہ عنوانات

BBC © 2014بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔

]]>