
خیبرپختونخوا کے شہر نوشہرہ کے قریب، کاکا صاحب زیارت پر بم دھماکے سے چار افراد ہلاک اور پچیس زخمی ہو گئے ہیں۔
کاکا صاحب زیارت، نوشہرہ سے پندرہ کلو میٹر دور ہے اور اِن دنوں وہاں عید میلہ جاری تھا۔
مقامی پولیس کا کہنا ہے کہ عید میلے میں لوگوں کی بڑی تعداد شریک تھی جب وہاں بم دھماکہ ہوا۔ پولیس کے مطابق، بم ایک سائیکل میں نصب کیا گیا تھا اور ٹائمر کے ذریعے اُس کا دھماکہ ہوا۔
دھماکے میں کم سے کم چار افراد ہلاک اور پچیس زخمی ہوئے جنہیں نوشہرہ ڈسٹرکٹ ہسپتال پہنچایا گیا۔
واضح رہے کہ اِسی زیارت پر گزشتہ سال بھی بم دھماکہ ہوا تھا جس کی ذمہ داری طالبان نے قبول کی تھی۔
دھماکے کے بعد پولیس نے کاکا صاحب زیارت کے قصبے میں سرچ آپریشن کیا لیکن کوئی گرفتاری عمل میں نہیں آئی۔
کالعدم تحریکِ طالبان پاکستان کے ترجمان احسان اللہ احسان نے بی بی سی کو بتایا ہے کہ اس حملہ سے طالبان کا کوئی تعلق نہیں ہے۔
طالبان ترجمان نے اس حملے کا الزام پاکستان کی سکیورٹی فورسز پر عائد کرتے ہوئے کہا کہ ان کا اس حملے سے کوئی تعلق نہیں ہے۔
نوشہرہ میں اس سے پہلے بھی کئی حملے ہوئے ہیں جن کی ذمہ داری زیادہ تر طالبان نے قبول کی ہے اور گذشتہ چھ ماہ کے دوران نوشہرہ سے طالبان کے تین اہم کمانڈروں کو گرفتار کیا گیا ہے۔
یاد رہے کہ کالعدم تحریکِ طالبان پاکستان اور حقانی گروپ سمیت دیگر شدت پسند تنظیموں کے کمانڈر نوشہرہ کے قریب واقع علاقے اکوڑہ میں موجود اسلامی مدرسہ دار العلوم حقانیہ سے فارغ التحصیل ہیں۔






























