
پاکستان کے وزیر داخلہ رحمان ملک نے ملالہ یوسف زئی پر حملے کی ذمہ داری قبول کرنے والے تحریک طالبان پاکستان کے ترجمان احسان اﷲ احسان کے سر کی قیمت دس لاکھ ڈالر مقرر کی ہے۔
سی این این کے ساتھ انٹرویو میں انہوں نے ملا فضل اﷲ کو اس حملے کا ذمہ دار قرار دیا ہے جو سوات آپریشن کے دوران افغانستان فرار ہو گئے تھے۔
انہوں نے انٹرویو میں کہا ’ہماری سکیورٹی فورسز اور انٹیلیجنس ایجنسیاں اس حملے میں ملوث افراد کی تلاش کر رہی ہیں۔ میرے پاس کچھ نام ہیں جو کہ میں بتانا نہیں چاہتا کیونکہ اس سے ہماری تفتیش پر اثر پڑے گا لیکن میں پاکستانی عوام اور پوری دنیا کو یقین دلانا چاہتا ہوں کہ ہم ان کو عنقریب گرفتار کر لیں گے۔‘
وفاقی وزیر نے کہا کہ ملالہ یوسف زئی پر حملے کا منصوبہ افغانستان میں تیار کیا گیا تھا۔
انہوں نے سی این این کو بتایا کہ ’چار افراد وہاں (افغانستان) سے آئے تھے۔۔۔ ایک شخص کی نشاندہی ہو گئی ہے اور اس کے کچھ ساتھی گرفتار ہوئے ہیں۔ ایک شخص کی منگیتر کو حراست میں لیا گیا ہے۔‘
واضح رہے کہ دس اکتوبر کو میڈیا سے بات کرتے ہوئے وفاقی وزیر داخلہ نے کہا تھا کہ اس قسم کے واقعات کی ذمہ داری حکیم اللہ محسود کیوں نہیں لیتا۔ ان کا کہنا تھا کہ کوئی بھی شخص جیسے کہ احسان اللہ احسان اپنے آپ کو ترجمان ظاہر کر کے ذمہ داری قبول کر لیتا ہے۔
یاد رہے کہ دس اکتوبر کو صوبہ خیبر پختونخوا کے وزیرِ اطلاعات میاں افتخار حسین نے ملالہ یوسفزئی پر حملہ کرنے والے ملزمان کی گرفتاری میں مدد دینے والے افراد کے لیے ایک کروڑ روپے انعام کا اعلان کیا تھا۔






























