ملالہ پر حملہ ’ویک اپ کال‘ ہے، حنا ربانی

آخری وقت اشاعت:  جمعـء 12 اکتوبر 2012 ,‭ 06:27 GMT 11:27 PST

’ملالہ یوسفزئی (کے واقعے) نے وہ کر دیا ہے جو کئی فوجی آپریشن نہیں کر سکے ہیں‘۔ حنا ربانی کھر

پاکستان کی وزیرِ خارجہ حنا ربانی کھر نے کہا ہے کہ ان کی نظر میں ملالہ یوسف زئی پر ہونے والے حملے نے نہ صرف پاکستان بلکہ ساری دنیا کو جھنجھوڑا ہے تاکہ ہم خطرے کی موجودگی کو پہچان سکیں۔

ان کا کہنا تھا کہ ’ہمارے لیے سب سے واضح خطرہ وہ لوگ ہیں جنہوں نے تشدد کو اپنا لیا ہے اور وہ اس کے لیے کس حد تک جا سکتے ہیں یہ انہوں نے اس حملے سے واضح کر دیا ہے۔‘

انہوں نے یہ بات ایک امریکی نجی ٹی وی چینل سی این این کو دیے گئے ایک خصوصی انٹرویو میں کہی۔

وزیر خارجہ حنا ربانی کھر کا کہنا ہے کہ ملالہ یوسفزئی (کے واقعے) نے وہ کر دیا ہے جو کئی فوجی آپریشن نہیں کر سکے ہیں اور اب ہمارے سامنے مستقبل کا سوال بالکل واضح ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ ’ہمارے سامنے اب دو راستے ہیں، ایک وہ جس کی ملالہ نمائندگی کرتی ہیں اور دوسرا وہ جو یہ (دہشت گرد) مسلط کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔‘

وزیرِ خارجہ نے بتایا کہ ملالہ حملے کے سلسلے میں کئی گرفتاریاں عمل میں آ چکی ہیں اور حکومت کو یقین ہے کہ وہ جلد ہی اس حملے کے ذمہ داروں کو پکڑنے میں کامیاب ہو جائے گی۔

"ہمارے سامنے اب دو راستے ہیں، ایک وہ جس کی ملالہ نمائندگی کرتی ہیں اور دوسرا وہ جو یہ (دہشت گرد) مسلط کرنے کی کوشش کر رہے ہیں"

پاکستانی وزیرِ خارجہ

بی بی سی اردو سروس میں گل مکئی کے نام سے سوات سے ڈائریاں لکھ کر عالمی شہرت حاصل کرنے والی ملالہ یوسفزئی کو منگل کے روز سوات کے شہر مینگورہ میں فائرنگ کر کے زخمی کر دیا گیا تھا اور تحریکِ طالبان پاکستان نے اس حملے کی ذمہ داری قبول کی تھی۔

اس وقت ملالہ راولپنڈی میں زیرِ علاج ہیں اور ڈاکٹروں کا کہنا ہے کہ آئندہ چند دن ان کی زندگی کے لیے انتہائی اہم ہیں۔

تنظیم کے ترجمان احسان اللہ احسان نے بی بی سی کو فون پر بتایا کے ملالہ یوسف زئی پر حملہ ان کے طالبان مخالف خیالات کی وجہ سے کیا گیا تھا۔

اپنے ’ایجنڈے‘ کے لیے تشدد کا استعمال کرنے والوں کی طرف اشارہ کرتے ہوئے حنا ربانی نے اس واقعہ کو نہ صرف پاکستان بلکہ دنیا بھر میں لوگوں کے لیے ایک اہم گھڑی قرار دیا جس میں اس ’حقیقی‘ خطرے کو پہچانا جانا چاہیے۔

ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ پاکستان اسی (ملالہ حملے کی ذمہ دار) سوچ کے خاتمے کے لیے کوشاں رہا ہے جس کی ایک کڑی دو سال قبل سوات میں کیا جانے والا آپریشن تھا۔ اس حوالے سے انہوں نے کہا کہ سوات سے نکالے جانے کے بعد ان دہشت گرد گروہوں نے افغانستان میں کنڑ اور نورستان کے علاقوں میں پناہ لی جس کے بعد حکومتِ پاکستان نے افغان حکومت اور اتحادی افواج سے کہا کہ وہ اس معاملے پر سنجیدگی سے غور کریں اور ان علاقوں میں شدت پسندوں کو محفوظ پناہ گاہیں قائم نہ کرنے دی جائیں۔

ملک بھر میں اس حملے کے بعد سے طالبان کے خلاف احتجاجی مظاہرے کیے گئے

پاکستانی وزیرِ خارجہ کا کہنا تھا ’ ان گروہوں کی سوات میں دوبارہ حملہ کرنے کی صلاحیت اس بات کا ثبوت ہے کہ ہمیں ان مسائل کو مشترکہ طور پر حل کرنا ہوگا بجائے ایک دوسرے پر الزام تراشی کرنے کے جو کہ بدقسمتی سے ماضی میں ہوتا رہا ہے۔‘

پاکستانی عوام کے جذبات اور اس حملے کے ردِ عمل کے بارے میں انہوں نے کہا کہ تمام پاکستانیوں نے حملہ آوروں کی جانب سے دی گئی وجوہات کو مسترد کر دیا ہے جو کہ پاکستان کے مستقبل کے لیے انتہائی خوش آئند بات ہے۔

اس حملے کے بعد پاکستان میں طالبان مخالف جذبات کی ایک لہر دوڑ گئی ہے۔ ملک بھر میں اس حملے کے بعد سے طالبان کے خلاف احتجاجی مظاہرے کیے گئے۔

ان مظاہروں میں عام شہریوں کی بڑی تعداد کے علاوہ مختلف سیاسی جماعتوں اور غیر سرکاری تنظیموں کے ارکان بھی نظر آئے۔

اسی بارے میں

متعلقہ عنوانات

BBC © 2014بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔

]]>