
ملالہ پر حملے پر پورے ملک میں شدید ردِعمل دیکھنے میں آیا ہے
صوبہ خیبر پختونخوا کے ضلع سوات میں چودہ سالہ ملالہ یوسفزئی پر حملے کے الزام میں پولیس نے چھپن مشکوک افراد کو حراست میں لیا ہے لیکن پولیس کے مطابق تمام افراد کو پوچھ گچھ کے بعد رہا کر دیا گیا ہے۔
ملالہ یوسفزئی پر حملے کے ملزمان کی گرفتاری کے لیے سوات اور دیگر علاقوں میں پولیس نے چھاپے مارے ہیں۔
پولیس کے مطابق اکتالیس افراد بدھ کو اور پندرہ افراد جمعرات کی صبح حراست میں لیے گئے۔
ان تمام افراد سے پوچھ گچھ کی گئی اور ان کے بارے میں معلومات حاصل کرنے اور جانچ پڑتال کے بعد انہیں رہا کر دیا گیا۔
سوات میں پولیس اہلکاروں نے بتایا کہ اب تک کسی اہم ملزم کو گرفتار نہیں کیا جا سکا ہے تاہم اس بارے میں کوششیں جاری ہیں۔
اس واقعے کے تفتیشی افسر انسپکٹر عبدالواحد خان سے جب رابطہ قائم کیا گیا تو انھوں نے مختصر گفتگو میں بتایا کہ اب تک انھیں کوئی کامیابی حاصل نہیں ہوئی ہے، تاہم انھوں نے کہا کہ پولیس ملزمان کی گرفتاری کے لیے کوششیں کر رہی ہے۔
سوات کے ڈپٹی انسپکٹر جنرل پولیس اور ضلعی پولیس افسر سے رابطے کی بارہا کوشش کی گئی لیکن ان سے رابطہ نہیں ہو سکا۔
سوات سے تعلق رکھنے والی قومی امن ایوراڈ یافتہ ملالہ یوسفزئی کو منگل کو نامعلوم افراد نے اس وقت فائرنگ کر کے زخمی کر دیا تھا جب وہ سکول سے گھر جانے کے لیے سکول وین میں سوار تھیں۔
حکام کا کہنا ہے کہ ملزمان نے پہلے ملالہ یوسفزئی کے بارے میں معلومات حاصل کر کے ان کی شناخت کی اور پھر ملالہ پر فائرنگ کی جس سے ملالہ یوسفزئی سمیت تین طالبات زخمی ہو گئی تھیں۔






























