
پاکستان کے وفاقی وزیر داخلہ رحمان ملک کہا ہے کہ ملالہ یوسفزئی کو تین بار سکیورٹی فراہم کرنے کی پیشکش کی گئی لیکن ان کے والد نے سکیورٹی لینے سے انکار کر دیا۔
یہ بات انہوں نے پشاور میں میڈیا سے بات کرتے ہوئے کہی۔
انہوں نے مزید کہا کہ جس شخص نے ملالہ پر گولی چلائی اس کی اور اس کے گینگ کی شناخت ہو گئی ہے۔ ’میں وعدہ کرتا ہوں قوم سے کہ ان کو پکڑیں گے اور بھاگنے نہیں دیں گے۔‘
ملالہ یوسفزئی کے حملہ آوروں کے بارے میں تفصیلات بتاتے ہوئے انہوں نے کہا ’ہمیں یہ معلوم ہو گیا ہے کہ وہ کون ہیں، کتنے روز قبل سوات میں آئے تھے اور کن کن کو استعمال کیا اور طریقہ واردات کیا تھا۔‘
انہوں نے مزید کہا کہ اس میں غلطی ڈرائیور کی بھی ہے کہ وہ سکول کی بچیوں کو لے کر جا رہا ہے اور اس نے گاڑی کیوں روکی۔
’دو دہشت گردوں نے گاڑی کو روکا اور ایک نے ڈرائیور سے کہا کہ وہ اپنی بچی تلاش کر رہے ہیں۔ ایک نے ڈرائیور کو باتوں میں لگایا جبکہ دوسرا پیچھے گیا اور بچیوں سے پوچھا کہ ملالہ کون ہے۔ ایک بچی نے کہا کہ ملالہ یہ ہے۔ دہشت گرد نے پائیدان پر کھڑے ہو کر گولی ماری۔‘
انہوں نے کہا کہ جتنا یہ علاقہ دہشت گردی سے متاثر ہوا ہے کوئی اور علاقہ نہیں ہوا۔ ’پختونخوا کا کوئی بھی ایسا گھر نہیں ہے جو دہشت گردی سے متاثر نہ ہوا ہو۔‘
وفاقی وزیر داخلہ نے کہا کہ دہشت گردوں کی کمر توڑ دی گئی ہے۔ ’یہ جو واقعات کرتے ہیں مجھے نہیں معلوم کہ ان سے کون کراتا ہے آیا باہر کے لوگ ملوث ہیں یا مقامی افراد ملوث ہیں۔‘
رحمان ملک نے کہا کہ وہ لوگ جو طالبان کی حمایت کرتے رہے ان سے کہتا ہوں کہ ’خدارا اب تو ان کی حمایت کرنا چھوڑ دو‘۔
ملالہ یوسفزئی کی حالت کے بارے میں رحمان ملک نے کہا کہ ڈاکٹروں کے مطابق ان کی حالت خطرے سے باہر ہے اور ان کی 48 گھنٹے تک نگرانی کریں گے۔
’میں نے فضائی ایمبولینس اور بیرون ملک منتقل کرنے کے تمام احکامات معطل کر دیے ہیں۔ ایک نیورو سرجن امریکہ اور ایک برطانیہ میں سٹینڈ بائی پر ہیں اور جب بھی ضرورت پڑی تو ان کو پاکستان بلا لیا جائے گا۔‘






























