ملالہ پر حملہ: ’گینگ کی شناخت ہوگئی ہے‘

آخری وقت اشاعت:  بدھ 10 اکتوبر 2012 ,‭ 11:16 GMT 16:16 PST

پاکستان کے وفاقی وزیر داخلہ رحمان ملک کہا ہے کہ ملالہ یوسفزئی کو تین بار سکیورٹی فراہم کرنے کی پیشکش کی گئی لیکن ان کے والد نے سکیورٹی لینے سے انکار کر دیا۔

یہ بات انہوں نے پشاور میں میڈیا سے بات کرتے ہوئے کہی۔

انہوں نے مزید کہا کہ جس شخص نے ملالہ پر گولی چلائی اس کی اور اس کے گینگ کی شناخت ہو گئی ہے۔ ’میں وعدہ کرتا ہوں قوم سے کہ ان کو پکڑیں گے اور بھاگنے نہیں دیں گے۔‘

ملالہ یوسفزئی کے حملہ آوروں کے بارے میں تفصیلات بتاتے ہوئے انہوں نے کہا ’ہمیں یہ معلوم ہو گیا ہے کہ وہ کون ہیں، کتنے روز قبل سوات میں آئے تھے اور کن کن کو استعمال کیا اور طریقہ واردات کیا تھا۔‘

انہوں نے مزید کہا کہ اس میں غلطی ڈرائیور کی بھی ہے کہ وہ سکول کی بچیوں کو لے کر جا رہا ہے اور اس نے گاڑی کیوں روکی۔

’دو دہشت گردوں نے گاڑی کو روکا اور ایک نے ڈرائیور سے کہا کہ وہ اپنی بچی تلاش کر رہے ہیں۔ ایک نے ڈرائیور کو باتوں میں لگایا جبکہ دوسرا پیچھے گیا اور بچیوں سے پوچھا کہ ملالہ کون ہے۔ ایک بچی نے کہا کہ ملالہ یہ ہے۔ دہشت گرد نے پائیدان پر کھڑے ہو کر گولی ماری۔‘

انہوں نے کہا کہ جتنا یہ علاقہ دہشت گردی سے متاثر ہوا ہے کوئی اور علاقہ نہیں ہوا۔ ’پختونخوا کا کوئی بھی ایسا گھر نہیں ہے جو دہشت گردی سے متاثر نہ ہوا ہو۔‘

وفاقی وزیر داخلہ نے کہا کہ دہشت گردوں کی کمر توڑ دی گئی ہے۔ ’یہ جو واقعات کرتے ہیں مجھے نہیں معلوم کہ ان سے کون کراتا ہے آیا باہر کے لوگ ملوث ہیں یا مقامی افراد ملوث ہیں۔‘

رحمان ملک نے کہا کہ وہ لوگ جو طالبان کی حمایت کرتے رہے ان سے کہتا ہوں کہ ’خدارا اب تو ان کی حمایت کرنا چھوڑ دو‘۔

ملالہ یوسفزئی کی حالت کے بارے میں رحمان ملک نے کہا کہ ڈاکٹروں کے مطابق ان کی حالت خطرے سے باہر ہے اور ان کی 48 گھنٹے تک نگرانی کریں گے۔

’میں نے فضائی ایمبولینس اور بیرون ملک منتقل کرنے کے تمام احکامات معطل کر دیے ہیں۔ ایک نیورو سرجن امریکہ اور ایک برطانیہ میں سٹینڈ بائی پر ہیں اور جب بھی ضرورت پڑی تو ان کو پاکستان بلا لیا جائے گا۔‘

اسی بارے میں

متعلقہ عنوانات

BBC © 2014بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔

]]>