
پاکستان کی سپریم کورٹ نے آئی ایس آئی کی طرف سے سیاست دانوں میں مبینہ طور پر رقوم کی تقسیم سے متعلق مقدمے میں کہا ہے کہ کسی ایک شخص کے باعث پوری فوج اور آئی ایس آئی کو الزام نہیں دیا جاسکتا۔
یہ بات مقدمے کی سماعت دوران چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری نے ریمارکس میں کہی۔ اس مقدمے کی سماعت چیف جسٹس کی سربراہی میں تین رکنی بینچ کر رہا ہے۔
پاکستان کی خفیہ ایجنسی انٹر سروسز انٹیلیجنس کے سابق سربراہ نے سپریم کورٹ کو بتایا کہ انہوں نے سیاستدانوں کو رقوم صدرِ پاکستان اور آرمی چیف کے احکامات پر کی۔
آئی ایس آئی کے سابق سربراہ لیفٹیننٹ جنرل ریٹائرڈ اسد درانی نے سپریم کورٹ کو بتایا کہ انہوں نے ستر ملین کی رقم اس وقت کے صدرِ پاکستان غلام اسحٰق خان اور آرمی چیف جنرل اسلم بیگ کے احکامات پر تقسیم کی۔
انہوں نے مزید کہا کہ یہ رقم بریگیڈیئر حامد سعید کے ذریعے تقسیم کی گئی۔
انہوں نے کہا کہ ان کو بتایا گیا تھا کہ ایسا کرنا قومی مفاد میں ہے۔
اس مقدمے کی سماعت کے دوران چیف جسٹس نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ ایک جنرل ہوتے ہوئے اسد درانی نے غیر آئینی کام کیا اور اپنے حلف کی خلاف ورزی کی۔
تاہم انہوں نے آئی ایس آئی کے سابق سربراہ کو سراہا کہ انہوں نے سچ بتانے کا فیصلہ کیا ہے۔
اس سے قبل سیکریٹری ایوانِ صدر آصف حیات عدالت میں پیش ہوئے۔
یاد رہے کہ پچھلی سماعت میں سپریم کورٹ نے آئی ایس آئی کی طرف سے سیاست دانوں میں مبینہ طور پر رقوم کی تقسیم سے متعلق مقدمے میں موجودہ صدرِ مملکت کے دفتر کو فریق بنانے سے متعلق درخواست سماعت کے لیے منظور کی تھی۔
آصف حیات نے عدالت کو بتایا کہ یہ مقدمہ اس عرصے کا ہے جب ایوانِ صدر راولپنڈی میں واقع تھا اور اس وقت اس حوالے سے ریکارڈ موجود ہونے ک علم نہیں۔
انہوں نے سپریم کورٹ سے ریکارڈ نکالنے کے لیے مہلت مانگی جس پر عدالت عظمیٰ نے بدھ تک کی مہلت دے دی۔
واضح رہے کہ پچھلح سماعت میں عدالت کا کہنا تھا کہ صدر پاکستان کا عہدہ وفاق کی علامت ہوتا ہے اور ایوان صدر میں ایسے سیاسی سیل قائم ہونے سے اس ائینی عہدے پر اُنگلیاں اُٹھنا شروع ہوجاتی ہیں۔
عدالت نے اُس وقت کے صدر غلام اسحاق خان کے پرنسپل سیکرٹری روئیداد خان کو بھی فریق بنانے سے متعلق درخواست سماعت کے لیے منظور کرلی تھی۔ یہ دونوں درخواستیں پاکستانی فضائیہ کے سابق سربراہ ائرمارشل ریٹائرڈ اصغر خان کی طرف سے دائر ہوئیں تھیں۔
سپریم کورٹ نے سماعت کو منگل تک کے لیے ملتوی کردیا ہے۔






























