
پاکستان سمیت دنیاکے کئی ممالک میں متنازعہ فلم کے خلاف احتجاج جاری ہے۔
پاکستان میں توہین رسالت کے معاملے پر حکومت اور سیاستدانوں کی ایک مرتبہ پھر کمزوری کھل کر سامنے آگئی، دین کے معاملے میں یا تو ان سے مل جاؤ یا پھر خاموشی ہی بہتر۔
لوگوں کو سمجھانے بھجانے کی کوشش جیسے مشکل اور دقت طلب کوشش کی ضرورت ہی محسوس نہیں کی گئی۔ یہ سب کچھ گزشتہ جعمے کو دیکھنے کو ملا۔
رہی سہی کسر الجھے الجھے رہنے والے وزیر اطلاعات قمر زمان کائرہ نے لوگوں کو چھٹی کے دن گھروں میں آرام نہ کرنے بلکہ احتجاج میں حصہ لینے پر اُکسانے اور بعد میں حکومتی اتحادی عوامی نیشنل پارٹی کے غلام احمد بلور صاحب نے انعامی رقم کے اعلان سے پوری کردی۔
عام انتخابات کی تلوار بھی حکومت کے سر پر لٹک رہی ہے لہٰذا اس نے بھی انہیں کسی نڈر اقدام سے باز رکھا۔ جیسے جیسے نماز جعمہ قریب آتا گیا ویسے ویسے حکومت ایک ایک کر کے ایسے اقدامات کرتی رہی جس سے اس کے خیال میں عوامی جذبات ٹھنڈے ہو جائیں۔ لیکن جعمے تک شاید کافی دیر ہوچکی تھی۔ حکومت نے اپنے آپ کو تو شاید بچا لیا لیکن ان سترہ افراد کی جانوں اور اربوں روپے کی نجی املاک کو نہیں بچا سکی جو مظاہرین کے بےوجہ ظلم کا نشانہ بنے۔
حکومتی پالیسی اس حد تک تو یقیناً کامیاب رہی کہ اس نے سرکاری تعطیل کا اعلان، قومی کانفرنس منعقد کرکے اور امریکی سفیر کو طلب کرکے عوامی غم و غصے کا رخ اپنی جانب سے ہٹا کر امریکہ یا دیگر مغربی سفارت خانوں کی جانب محدود کر دیا۔ اگر ایسا نہ کرتی تو ماضی کی طرح سرکاری دفاتر بھی شاید مظاہرین کے نشانے پر ہوتے۔

اگر احتجاج پرامن ہوتے تو کئی جانیں بچ سکتی تھیں اور املاک محفوظ رہتے۔
لیکن ان مظاہرین میں ایسے بھی تھے جو اپنے اپنے ایجنڈے کے ساتھ آئے تھے۔ کئی بظاہر واضح حکمت عملی کے ساتھ بھی آئے تھے۔ انہیں معلوم تھا کہ وفاقی دارالحکومت کے کس ہوٹل کا کیوں محاصرہ کرنا ہے، سینما گھروں کو برداشت نہیں کرسکتے لہٰذا انہیں نشانہ کیوں بنانا ہے اور اگر کچھ بھی نہیں مل رہا تو چلو چوراہوں کے سنگل تو کہیں نہیں گئے انہیں توڑ کر وہاں سے گزرنے والے ایک آدھ امریکی کو مشکل میں ڈالنا ہے۔
کاش اگر پرامن احتجاج کا یقین دلایا جاتا اور نجی و سرکاری املاک کو نقصان نہ پہنچانے کی ضمانت ہوتی تو شاید لاکھوں ادنیٰ مسلمان بھی سڑک پر آکر احتجاج کر لیتے۔ وہ کیسا نظارہ ہوتا کہ اسلام آباد کی شاہراہ دستور لاکھوں پرامن مسلمان مظاہرین سے بھری ہوتی جو بعد میں انتہائی منظم طریقے سے منتشر بھی ہوجاتے۔ لیکن ایسے احتجاج کو قابو میں رکھنے کی نا تو حکومت کے بس کی بات تھی اور نہ بحثیت قوم ہمارے ماضی کا کردار ایسا کوئی خطرہ مول لینے کی اجازت دیتا تھا۔
کمزور حکومتی رٹ ایک مرتبہ پھر آڑے آئی۔ حکومت نے اس سیاسی و مذہبی ایشوز کو بھی انتظامی طریقے سے حل کرنے کی کوشش کی۔ کمزور رٹ میں شاید یہ ہی ممکن تھا۔
موبائل سروس کی بندش کو ہی لے لیں۔ اس کی بندش سے متعلق خبروں کی جمعے کی صبح تک سرکاری تردید کے باوجود ملک کے اکثر چھوٹے بڑے شہروں میں اسے اچانک بند کر دیا گیا۔ معلوم نہیں تردید عوام کو یا دہشت گردوں کو مغالطے میں رکھنے کی کوشش تھی۔
انٹرنٹ کے اس جدید دور میں چھوٹی موٹی بات اب زبان زد عام ہوتے دیر نہیں لگتی۔ آج گھر میں کیا پکا ہے تک ہزاروں کو معلوم ہوجاتا ہے، تو انتہائی حساس ہتک آمیز فلمیں اور کارٹونوں کی خبریں کیسے جنگل کی آگ کی مانند عام ہوتے دیر لگ سکتی ہے۔ بار بار اپنا ہی گھر جلانا کہاں کی عقلمندی ہے۔ اگر سوچیں تو دشمن کا کام کتنا آسان ہوگیا ہے۔






























