
ڈاکٹر عمران فاروق کو سولہ ستمبر دو ہزار دس کو لندن میں قتل کیا گیا تھا
لندن کی میٹروپولیٹن پولیس سروس کی انسدادِ دہشت گردی کی ٹیم کا، جو متحدہ قومی موومنٹ کے سابق کنوینر ڈاکٹر عمران فاروق کے قتل کی تحقیقات کر رہی ہے، کہنا ہے کہ ڈاکٹر فاروق قتل سے چند ماہ پہلے اپنا ایک آزاد سیاسی ’پروفائل‘بنانے کی کوشش کر رہے تھے۔
پولیس کا کہنا ہے کہ ہو سکتا ہے ڈاکٹر فاروق اپنا سیاسی کیریئر از سرِ نو شروع کرنے کے متعلق سوچ رہے ہوں۔ اس وجہ سے پولیس ہر اس شخص سے بات کرنا چاہتی ہے جو ڈاکٹر فاروق سے سیاسی حوالے سے رابطے میں تھا۔
پولیس کے علم میں ہے کہ ڈاکٹر فاروق نے جولائی دو ہزار دس میں ایک نیا فیس بک پروفائل بنایا تھا اور سماجی رابطے کی اس ویب سائٹ پر بہت سے نئے روابط قائم کیے تھے۔
ڈاکٹر عمران فاروق کی ہلاکت کی دوسری برسی کے موقع پر پولیس نے ایک مرتبہ پھر لوگوں سے اپیل کی ہے کہ اگر ان کے پاس کوئی معلومات ہیں تو وہ سامنے لائیں۔
اس سلسلے میں معلومات فراہم کرنے پر بیس ہزار پاؤنڈ کا انعام بھی مقرر کیا گیا ہے جس کے ذریعے ڈاکٹر فاروق کے قاتلوں کو گرفتار کر کے قانون کے کٹہرےمیں کھڑا کیا جا سکے۔
پچاس سالہ ڈاکٹر عمران فاروق کو جو سنہ انیس سو ننانوے میں لندن آئے تھے، سولہ ستمبر دو ہزار دس کو ایجویئر کے علاقے میں واقع گرین لین میں چاقو مار کر ہلاک کر دیا گیا تھا۔
اکتوبر میں پولیس کو حملے میں استعمال ہونے والی چھری اور اینٹ بھی ملی تھی۔
ڈاکٹر عمران فاروق کو، جو متحدہ قومی مومنٹ کے رہنما الطاف حسین کے دستِ راست سمجھے جاتے تھے، اس وقت چھری کے واروں کا نشانہ بنایا گیا تھا جب وہ گھر واپس آ رہے تھے۔ ان کے سر پر بھی چوٹیں آئی تھیں۔
اس قتل کے بعد، ایم کیو ایم کے رہنما رضا ہارون نے کہا تھا کہ ڈاکٹر عمران فاروق نے برطانیہ میں پناہ کی درخواست اس لیے دی تھی کہ ان کی زندگی کو خطرہ لاحق تھا۔
پولیس کا کہنا ہے کہ ان کا قتل ایک سوچی سمجھی سازش کا نتیجہ ہے اور لگتا ہے کہ اس کے لیے دوسرے افراد کی مدد بھی حاصل کی گئی تھی جنہوں نے ہو سکتا ہے جان بوجھ کر یا انجانے میں قتل میں معاونت کی ہو۔






























