
کراچی کے ایک کارخانے میں آگ لگنے سے دو سو اناسی افراد کی ہلاکت کی تحقیقات کرنے والی پولیس ٹیم کا کہنا ہے کہ فیکٹری کے چار دروازے ہیں جن میں سے تین بند تھے جبکہ ایک دروازے کا کچھ حصہ کھلا ہوا تھا، جس کے باعث لوگ نکل نہیں پائے۔
ایس ایس پی اینٹی وائلینٹ کرائم سیل نیاز کھوسو نے بی بی سی کو بتایا کہ متعلقہ محکمے جو اس کارخانے کے معائنے کے ذمہ دار تھے، ’لگتا ہے کہ وہ بھی اپنے فرائض سر انجام نہیں دے رہے تھے‘۔
تفتیشی ٹیم کا کہنا ہے کہ شام کو چار بجے بجلی چلی گئی اور جنریٹر چالو ہوگیا، عام طور پر جب بجلی آتی تھی تو خود کار طریقے سے جنریٹر بند ہوجاتا تھا مگر اس روز چینج اوور نہیں ہوا اور دونوں کینکشن مل گئے۔
اوور لوڈ ہونے کی وجہ سے جنریٹر میں دھماکے کے ساتھ آگ لگ گئی جس نے قریبی بوائلر کو اپنی لپیٹ میں لے لیا نتیجے میں گراونڈ فلور پر آگ لگ گئی۔
ایس ایس پی نیاز کھوسو کے مطابق فیکٹری میں کپڑے، پولیسٹر اور بعض کیمیکلز کی وجہ سے آگ تیزی کے ساتھ پوری فیکٹری میں پھیل گئی اور لوگ پھنس گئے۔
ٹیم کے دوسرے رکن ایس ایس پی فاروق اعوان نے بی بی سی کو بتایا کہ انہوں نے سی سی ٹی وی کیمرے کی ریکارڈنگ بھی قبضے میں لے لی ہے، جو تفتیش میں مدد گار ثابت ہوگی۔
انہوں نے بتایا کہ فیکٹری میں زیادہ تر مال ایکسپورٹ کے لیے تیار کیا جاتا تھا، مالکان کا ایک بھائی امریکہ میں رہتا ہے اور ان کے پاس ویلڈ ویزہ بھی موجود ہیں۔
پولیس کے مطابق یہ واقعہ مالکان کی غفلت کا نتیجہ ہے جس کے ساتھ ساتھ اس کو چھپانے کی بھی کوشش کی گئی کچھ اطلاعات کے مطابق جب پہلی فائر برگیڈ پہنچی ہے تو مالکان نے اسے بھی روک دیا تھا۔
فیکٹری میں سپروائیزر کی حیثیت سے کام کرنے والے محمد ارشد کا کہنا ہے کہ تین ماہ پہلے بھی فیکٹری میں آگ لگی تھی مگر اس پر فوری قابو پالیا گیا تھا۔ انہوں نے بتایا کہ آگ بجھانے کے آلے ( سلینڈر ) موجود ہیں مگر اس کے علاوہ کوئی اور بندوبست نہیں ہے۔






























