
پاکستان کے سب سے بڑے شہر کراچی میں ملبوسات بنانے والے کارخانے میں آتشزدگی کا واقعہ ملکی تاریخ میں آگ سے ہونے والی ہلاکتوں کے لحاظ سے سب سے بڑا سانحہ ہے۔
پاکستان کے مختلف علاقوں میں ناقص تعمیرات اور حفاظتی اقدامات کی وجہ سے آگ لگنے کے واقعات غیر معمولی نہیں ہیں تاہم حکام کہنا ہے کہ آگ لگنے کے واقع میں کبھی اتنی بڑی تعداد میں ہلاکتیں نہیں ہوئیں۔
اسلام آباد کے فائر ڈیپارٹمنٹ کے سینئیر اہلکار طالب حسین نے نامہ نگار آصف فاروقی کو بتایا کہ ملک میں کئی مقامات پر اس سے بڑی آگ لگ چکی ہیں جس میں بڑے پیمانے پر املاک کا نقصان ہوا لیکن اس سے پہلے آگ لگنے سے اتنا جانی نقصان نہیں ہوا۔
انہوں نے بتایا کہ چار برس قبل راولپنڈی کی پانچ منزلہ تجارتی عمارت جل کر ملبے کا ڈھیر بن گئی تھی لیکن اس میں بھی کل سترہ افراد ہلاک ہوئے تھے جن میں تیرہ آگ بجھانے والے عملے کے ارکان تھے۔
لاہور میں پنجاب حکومت کی ریسکیو سروس کے اہلکار کرامت کا کہنا ہے کہ منگل کی رات لاہور کے نواحی علاقے میں جوتے بنانے والے ایک کارخانے میں آتشزدگی سے بائیس افراد ہلاک اور چودہ زخمی ہوئے۔ ان کے بقول لاہور میں حالیہ تاریخ میں آگ لگنے سے ہونے والی ہلاکتوں کا یہ ایک بڑا واقعہ ہے۔
اس سے پہلے گڑھی شاہو لاہور میں ایک نجی ٹیلی وژن چینل کے دفتر میں آگ لگنے سے پانچ افراد ہلاک ہوئے تھے۔
اسلام آباد کے فائر ڈیپارٹمنٹ سے ریٹائر ہونے کے بعد راولپنڈی کی ریسکیو سروس میں سینئیر فائر افسر کے عہدے پر فائز غلام محمد ناز نے بتایا کہ کراچی کے صنعتی علاقے میں آگ لگنے کے واقعات معمول بن چکے ہیں۔
انہوں نے بھی اس رائے سے اتفاق کیا کہ آگ لگنے کے کسی ایک واقعے میں اتنی زیادہ ہلاکتیں پاکستان میں کبھی ریکارڈ نہیں کی گئی۔






























