’بھائی پھنس گئے میں چھلانگ لگا کر بچ گیا‘

آخری وقت اشاعت:  بدھ 12 ستمبر 2012 ,‭ 12:14 GMT 17:14 PST

ریسکیو عملے نے سیڑھی لگائی تو نیچے اترنے میں کامیاب ہوئے: محمد حسن

کراچی میں ملبوسات تیار کرنے والے کارخانے میں جب منگل کی شام آگ لگی تو وہاں کام کرنے والے اللہ ورایو نے تیسری منزل سے چھلانگ لگا کر اپنی جان بچائی لیکن اس کے پانچ بھائی فیکٹری کے اندر ہی پھنس کر رہ گئے۔

ہم جب فیکٹری پہنچے تو اللہ ورایو زخمی ٹانگ کے ساتھ تیسری منزل سے اتاری جانے والی ہر لاش پر نظر رکھے ہوئے تھے اذیت اور انتظار کی یہ کیفیت ختم ہونے کا نام نہیں لے رہی تھی۔

اللہ ورایو کے مطابق شام کے چار بجے تھے کہ فیکٹری میں دھماکہ ہوا ، اس وقت وہ فیکٹری کے پچھلے حصے میں موجود تھے دھماکے کے ساتھ ہی آگ بھڑک اٹھی اور لوگوں نے بھاگنا شروع کردیا۔

’تقریباً سو ڈیڑھ سو لوگ ہوں گے جو ایک دوسرے کے اوپر چڑھ گئے، دھوئیں کی وجہ سے ہم بے ہوش ہوگئے ایک پائپ لگا ہوا تھا جس میں سے تھوڑا پانی آیا تو مجھے ہوش آگیا اور میں نے چیخیں مارنا شروع کر دیں‘۔

ایک اسنارکل نے دیوار میں سوراخ کیا، جہاں سے میں نے چھلانگ لگائی نیچے لوگوں نے مجھے پکڑا مگر مجھے چوٹیں آئیں، میرے پانچ بھائی وہاں ہی پھنس گئے تھے، میں نے ریسکیو ورکرز کی منت سماجت کی کہ انہیں نکالو مگر میری کسی نے نہ سنی جس کے بعد میں بے ہوش ہوگیا، مجھے ہپستال منتقل کر دیا گیا‘۔

News image"میرے پانچ بھائی وہاں ہی پھنس گئے تھے، میں نے ریسکیو ورکرز کی منت سماجت کی کہ انہیں نکالو مگر میری کسی نے نہ سنی جس کے بعد میں بے ہوش ہوگیا"

اللہ ورایو

اندرونِ سندھ کے شہر نوشہروفیروز سے تعلق رکھنے اللہ ورایو گزشتہ تین سال سے اس فیکٹری میں کام کر رہے تھے اور انہوں نے اپنے آبائی علاقے سے آنے والے دوسرے رشتے داروں کو بھی یہاں کام دلوایا تھا۔

اللہ ورایو کے مطابق فیکٹری سے باہر نکلنے کا صرف ایک ہی راستہ تھا، جہاں آگ لگی ہوئی تھی، پچھلے حصے کی سیڑھی اور چھت پر جانے والے راستے کے دروازے پر چوکیدار نے تالہ لگایا ہوا تھا۔

ان کے مطابق انہوں نے چوکیداروں کو چابیاں اوپر پھینکنے کے لیے کہا مگر کسی نے ان کی نہ سنی۔ انہوں نے بتایا کہ کارخانے کی کھڑکیاں لوہے کی سلاخوں کی مدد سے بند تھیں، لوگوں نے انہیں توڑنے کی کوشش کی مگر وہ نہ ٹوٹیں ۔

اللہ ورایو کا ایک رشتے دار نوجوان محمد حسن کھڑکی توڑ کر نکلنے میں کامیاب ہوا۔ ان کے مطابق ریسکیو کے عملے نے سیڑھی لگائی جس کے بعد وہ نیچے اترنے میں کامیاب ہوئے ورنہ انہیں بھی چھلانگ لگانی پڑتی۔

جائے حادثہ پر موجود نسرین نامی خاتون کو ان کے دیور محمد محمود کی تلاش تھی۔ وہ منگل کی صبح فیکٹری آئے تھے، جس کے بعد سے ان کا کوئی پتہ نہیں چل سکا۔ انہیں یہ ملازمت شروع کیے ابھی تین روز ہی ہوئے تھے۔

نسرین نامی خاتون کو ان کے دیور محمد محمود کی تلاش تھی

نسرین کا کہنا ہے کہ شام کو نیوز چینل سے فیکٹری میں آگ لگنے کا پتہ چلا تھا، جس کے بعد وہ رات کو بھی یہاں آئے تھے مگر کچھ پتہ نہیں چلا۔ بدھ کی صبح انہوں نے سول ، عباسی، اور جناح ہپستال کا چکر لگایا مگر محمد محمود کا کوئی پتہ نہیں چل سکا۔

نسرین کے ساتھ ان کے شوہر، بھائی اور بھتیجے فیکٹری کے مختلف کونوں میں موجود تھے اور ہر نکلنے والی لاش دیکھ رہے تھے۔

نسرین نے بتایا کہ ان کے دیور کا دوست پندرہ منٹ پہلے نکل گیا تھا اور اس نے بتایا کہ ان کے دیور نیچے مشین پر کام کر رہے تھے۔

یہ خاندان کئی گھنٹے وہاں موجود رہا، جب ہم واپس دفتر کی طرف نکلے تو اس خاندان کو آنسو بہاتے ہوئے پایا اور انہوں نے بتایا کہ محمد محمود کی لاش گھر پہنچ گئی ہے۔

اسی بارے میں

متعلقہ عنوانات

BBC © 2014بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔

]]>