
لاہور میں آتشزدگی سے ہلاکتوں کے واقعات پہلے بھی پیش آ چکے ہیں
پاکستان کے صوبہ پنجاب کے دارالحکومت لاہور کے نواحی علاقے میں جوتے بنانے والے ایک کارخانے میں آتشزدگی سے کم از کم اکیس افراد ہلاک اور چودہ زخمی ہو گئے ہیں۔
یہ آگ منگل کی دوپہر بند روڑ کے قریب علاقے فیروز والا میں واقع فیکٹری میں لگی اور مرنے والوں میں سے زیادہ تر کی موت دم گھٹنے سے ہوئی۔
لاہور کے ضلعی رابطہ آفیسر نور الامین مینگل کا کہنا ہے کہ ابتدائی اطلاعات کے مطابق فیکٹری کے جنریٹر میں آگ لگی جس نے عمارت میں موجود کیمیکل کو اپنی لپیٹ میں لے لیا۔
لاہور پولیس کے ایک سینیئر اہلکار نے خبر رساں ایجنسی اے پی کو بتایا کہ آگ اس وقت لگی جب لوڈشیڈنگ کی وجہ سے کارخانے میں موجود افراد نے جنریٹر چلانے کی کوشش کی اور اس دوران وہاں موجود کیمیائی مادے نے آگ پکڑ لی۔
نامہ نگار عباد الحق کے مطابق ریسکیو ڈبل ون ڈبل ٹو کے مطابق جس وقت فیکٹری میں آگ لگی اس وقت عمارت میں پینتیس افراد موجود تھے۔
امدادی کارکنوں کے مطابق عمارت کا ایک ہی دروازہ تھا جس کی وجہ سے عقبی دیوار توڑ کے لاشوں اور زخمیوں کو نکالا گیا۔
میو ہسپتال کے سربراہ ڈاکٹر زاہد پرویز نے ذرائع ابلاغ کو بتایا کہ زیادہ تر مزدوروں کی ہلاکت دم گھٹنے سے ہوئی۔ان کے بقول زخمیوں میں سے دو کی حالت نازک ہے۔
پولیس کے مطابق بعض لاشیں اتنی بری جھلس گئی ہیں کہ ان کی شاخت کرنے میں مشکل ہورہی ہے۔
ادھر پنجاب حکومت نے اس واقعہ کی تحقیقات کا حکم دے دیا اور وزیراعلیٰ پنجاب کی معائنہ ٹیم اس واقعے کی تحقیقات کرے گی۔






























