
سیو دی چلڈرن سنہ 1979 سے پاکستان میں کام کر رہی ہے
پاکستان میں بچوں کی فلاح کے لیے کام کرنے والی بین الاقوامی تنظیم سیو دی چلڈرن کے مطابق پاکستانی حکام نے ادارے کے غیر ملکی اہلکاروں کو دو ہفتوں کے اندر ملک چھوڑنے کا حکم دیا ہے۔
اب تک پاکستانی حکام کی جانب سے کوئی ردِ عمل سامنے نہیں آیا اور بار بار ٹیلی فون کرنے کے باوجود رابطے میں نہیں آ رہے۔
تنظیم کے مطابق اس وقت پاکستان میں چھ غیر ملکیوں سمیت دو ہزار سے زیادہ اہلکار موجود ہیں۔
سیو دی چلڈرن کے مطابق وزارتِ داخلہ کی جانب سے غیر ملکی اہلکاروں کو ملک چھوڑنے کا حکم دیا گیا اور اس کے بارے میں تنظیم کو انٹیلی جنس بیورو یا آئی بی نے آگاہ کیا۔
تنظیم کے مطابق حکام نے غیر ملکی اہلکاروں کو ملک چھوڑنے کے حکم کی بظاہر کوئی وجہ نہیں بتائی ہے تاہم اس ضمن میں حکومت سے بات چیت جاری ہے۔
نام نہ ظاہر کرنے کی شرط پر تنظیم کے ایک اہلکار نے بی بی سی کو بتایا کہ ڈاکٹر شکیل آفریدی کے امریکی خفیہ ادارے سی آئی اے کے لیے ویکسینیشن کی جھوٹی مہم چلانے کے معاملے کے بعد تنظیم کو ہراساں کیا جاتا رہا ہے۔
یاد رہے کہ گزشتہ سال ایبٹ آباد میں اسامہ بن لادن کے خلاف امریکی کارروائی کے بعد یہ بات منظرِ عام پر آئی تھی کہ سرکاری ڈاکٹر شکیل آفریدی نے القاعدہ کے رہنما کو ڈھونڈنے کے لیے امریکی خفیہ ادارے سی آئی اے کو مدد فراہم کی تھی۔ اس سلسلے میں ڈاکٹر آفریدی نے حفاظتی ٹیکوں کی جھوٹی مہم چلائی تھی۔
ان افواہوں کی بنیاد پر کہ سیو دی چلڈرن ڈاکٹر شکیل آفریدی کے ساتھ رابطے میں تھی، تنظیم کے اہلکاروں نے ایبٹ آباد کمیشن کو بھی مکمل تعاون بھی فراہم کیا۔
سیو دی چلڈرن کے اہلکار نے الزام لگایا کہ’ دو مئی کو ایبٹ آباد میں امریکی کارروائی کے بعد سے تنظیم کے ملکی اور کئی غیر ملکی اہلکاروں کو ویزے کے معاملے میں تنگ کیا گیا اور کئی علاقوں میں امدادی کارروائیوں کی اجازت نہیں دی گئی۔‘
سیو دی چلڈرن کے اہلکار کے مطابق پاکستانی حکام نے غیر ملکی اہلکاروں کو ملک چھوڑنے کا حکم دینے سے قبل کوئی اشارہ یا وارننگ نہیں دی گئی۔
سیو دی چلڈرن کا کہنا ہے کہ وہ پاکستان میں کام جاری رکھنے کے لیے پرعزم ہے اور سنہ انسی سو اناسی سے پاکستان میں ستر لاکھ بچوں کو تعلیم اور صحت کی سہولیات فراہم کی ہیں۔






























