
پولیس کو چار ماہ قبل اغواء کیے جانے والے آئی سی آر کے اہلکار کی لاش گذشتہ ماہ کوئٹہ سے ملی تھی
بین الاقوامی امدادی تنظیم ریڈ کراس (آئی سی آر سی) کا کہنا ہے کہ ہیلتھ پروگرام منیجر خلیل رسجد ڈیل کی پاکستان میں ہلاکت کے بعد ان کی تنظیم نے پاکستان میں تنظیم کی موجودگی پر نظرِ ثانی کرنے کا فیصلہ کیا ہے جبکہ فی الحال تنظیم کی سرگرمیاں معطل کر دی گئی ہیں۔
آئی سی آر سی کے جنوبی ایشیا کے لیے ہیڈ آپریشنز جیکس ڈی ماؤ نے جمعرات کو ایک بیان میں کہا ہے کہ پاکستان میں انسانی ہمدری کی بنیاد پر کی جانے والی امدادی کارروائیوں اور تنظیم کے خلاف ہونے والے حالیہ حملے کے بعد اپنے سٹاف کو پیش آنے والے خطرات کے پیشِ نظر ہم اپنی کارروائیوں کو جاری رکھنے کے لیے ازسرِ نو جائزہ لینے پر مجبور ہوگئے ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ اس حوالے سے فوری اقدامات کیے گئے ہیں جن میں آئی سی آر سی کے پشاور اور کراچی میں واقع دفاتر میں کام روک دیا گیا ہے۔
اسلام آباد میں بی بی سی کی نامہ نگار عنبر شمسی نے پاکستان میں آئی سی آر سی کے ترجمان ارشد یوسفزئی سے رابطہ کیا تو انہوں نے بتایا کہ پاکستان میں پہلی بار آئی سی آر سی کے کارکن کو اغواء کے بعد تشدد کرنے کے بعد ہلاک کر دیا گیا جن کی لاش گزشتہ ہفتے کوئٹہ سے برآمد ہوئی جسے مددِ نظر رکھتے ہوئے آئی سی آر سی اس بات کا جائزہ لے رہی ہے کہ آیا پاکستان میں وہ محفوظ ہیں یا نہیں۔
ان کے مطابق اس سلسلے میں جمعرات کو یہ فیصلہ کیا گیا ہے کہ ہم پشاور اور کوئٹہ کے دفاتر کو غیر معینہ مدت کے لیے معطل کر دیتے ہیں۔
اس سوال پر کہ اس فیصلے سے پاکستان میں جاری منصوبے کس حد تک متاثر ہوں گے تو انہوں نے بتایا کہ خلیل ڈیل کی ہلاکت کے بعد کوئٹہ میں ہمارے دفتر بند ہو گئے تھے جس کے بعد پشاور اور کراچی میں واقع دفاتر کو بھی بند کر دیا گیا ہے۔
انہوں نے بتایا کہ پشاور میں ان کی تنظیم کا سب سے بڑا منصوبہ ایک سرجیکل ہسپتال ہے جہاں متاثرین کو امداد دی جاتی ہے۔ انہوں نے مزید بتایا کہ متاثرہ افراد میں صرف خیبر پِختون خواہ یا قبائلی علاقوں کے افراد نہیں بلکہ افغانستان کے بعض افراد کو امداد دی جاتی ہے۔
"خلیل ڈیل کی ہلاکت کے بعد کوئٹہ میں ہمارے دفتر بند ہو گئے تھے جس کے بعد پشاور اور کراچی میں واقع دفاتر کو بھی بند کر دیا گیا ہے۔ پاکستان میں اپنی کارروائیاں دوبارہ شروع کرنے کے حوالے سے جائزہ لے رہے ہیں اور اس میں کچھ ہفتے لگ سکتے ہیں جس کے بعد دوبارہ سرگرمیاں شروع کی جا سکتی ہیں۔"
ارشد یوسفزئی
ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا وہ پاکستان میں اپنی کارروائیاں دوبارہ شروع کرنے کے حوالے سے جائزہ لے رہے ہیں اور اس میں کچھ ہفتے لگ سکتے ہیں جس کے بعد دوبارہ سرگرمیاں شروع کی جا سکتی ہیں۔
دوسری جانب آئی سی آر سی کے پاکستانی وفد کے سربراہ پال کیسلا کا کہنا ہے کہ ہیلتھ پروگرام منیجر خلیل رسجد ڈیل کی بلوچستان میں ہلاکت کے بعد وہاں جاری آپریشنز کو پہلے ہی روک دیا گیا ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ ہمیں اس بات کا پورا احساس ہے کہ ہمارے ان اقدامات کی وجہ سے پاکستان میں زخمی، بیمار، جسمانی طور پر معذور اور دیگر متاثرہ افراد تک ہماری امدادی کارروائی متاثر ہو گی۔
انہوں نے کہا کہ ہم فی الوقت صورت حال کا جائزہ لے رہے ہیں اور آنے والے ہفتوں میں ہم پاکستان میں اپنی موجودگی اور سیٹ اپ کے بارے میں کوئی فیصلہ کریں گے۔
یاد رہے کہ ڈاکٹر خلیل ڈیل کو اس سال پانچ جنوری کو کوئٹہ سے نامعلوم افراد نے اغواء کیا تھا بعد میں طالبان نے اس کی ذمہ داری قبول کرتے ہوئے ان کی بازیابی کے لیے دس کروڑ روپے تاوان طلب کیا تھا۔
پولیس کو چار ماہ قبل اغوا کیے جانے والے بین الاقوامی امدادی تنظیم ریڈ کراس کے اہلکار کی لاش گذشتہ ماہ کوئٹہ سے ملی تھی۔
خلیل ڈیل کے اغوا کے بعد آئی سی آر سی نے بلوچستان میں جاری صحت کے مختلف منصوبوں پر کام بند کر دیا تھا جبکہ دیگر بین الاقوامی تنظیموں نے بھی اپنی سرگرمیاں کم کر دی تھیں۔






























