
پاکستان تحریکِ انصاف کے سربراہ عمران خان کا امریکی شہریوں اور بین الاقوامی صحافیوں سمیت ایک لاکھ افراد کے ہمراہ وزیرستان جانا ان کے لیے ایک بہت بڑا چلینج ہوگا۔
عمران خان نے قبائلی علاقوں میں جاری امریکی جاسوس طیاروں کے حملوں کے خلاف چھ اکتوبر کو اسلام آباد سے جنوبی وزیرستان تک ایک لاکھ افراد کے ساتھ امن مارچ کرنے کا اعلان کیا ہے۔
انہوں نے کہا ہے کہ اس امن مارچ میں امریکی شہریوں، انسانی حقوق کی تنظمیوں سمیت بین الاقوامی صحافی بھی شریک ہوں گے۔
اس سے پہلے عمران خان کے لیے سیاسی نقطہ نظر سے لاہور کا جلسہ بہت بڑا چلینج تھا لیکن مبصرین کے خیال میں عمران خان لاہور میں ایک بڑا جلسہ منعقد کرنے میں کامیاب ہوئے تھے تاہم ان کے لیے اب وزیرستان جانا اور وہاں جلسہ کرنا ایک نیا چلینج ہوگا۔
واضح رہے کہ وزیرستان میں ان دنوں حالات انتہائی کشیدہ ہیں اور وہاں حکومت کی عملداری نہ ہونے کے برابر ہے۔ شمالی اور جنوبی وزیرستان دونوں قبائلی علاقوں میں روزانہ سکیورٹی فورسز کی چیک پوسٹوں پر حملے یا امریکہ کے لیے جاسوسی کے نام پر ہلاک ہونے والوں کی لاشیں ملتی رہتی ہیں اس کے علاوہ وہاں ڈرون حملے تو ایک معمول بن گیا ہے۔
چند مہینے پہلے جمعیت علماء اسلام کے رہنما اور سابق وزیراعلی اکرام خان درانی، مولانا عطاء الرحمن اور ان کے ساتھیوں نے جنوبی وزیرستان کے صدر مقام وانا کا دورہ کیا اور وہاں جامعہ دارالعلوم وزیرستان میں ایک بڑا جلسہ بھی کیا۔
جنوبی وزیرستان میں دو بڑے قبیلے محسود اور وزیر قبائل آباد ہیں۔ افغان سرحد کے قریب وزیر قبائل جبکہ مشرقی حصے میں یعنی ٹانک کی جانب محسود قبائل آباد ہے۔
طالبان مطمئین نہیں ہیں
تحریکِ طالبان پاکستان کی جانب سے عمران خان کے حالیہ وزیرستان کے دورہ کے حوالے سے کوئی بیان سامنے نہیں آیا ہے تاہم کچھ عرصہ پہلے تحریکِ طالبان کے ترجمان احسان اللہ احسان نے کہا تھا کہ عمران خان نے خود کو ’لبرل‘ کہہ کر ثابت کر دیا ہے کہ وہ امریکہ اور یورپ کے غلام ہیں۔ انہوں نے کہا تھا کہ وہ عمران کی پالیسی سے مطمئین نہیں ہیں۔
سنہ دو ہزار نو میں تحریکِ طالبان کے خلاف فوجی کارروائی کے بعد محسود قبائل کا علاقہ تقریباً خالی ہوگیا تھا لیکن گزشتہ دو سالوں کےدوران متاثرین کی واپسی کے بعد ٹانک کے قریب جنوبی وزیرستان کے سپنکئی راغزئی، چگملائی، کوٹ کائی اور بروند کے علاقے دوبارہ آباد ہوگئے ہیں۔
بتایا جاتا ہے کہ دوبارہ آباد ہونے والے علاقوں میں مکمل طور پرامن قائم ہوچکا ہے جہاں گزشتہ ایک عرصے سے شدت پسندی کا کوئی واقعہ بھی نہیں ہوا ہے لیکن یہ علاقہ بہت محدود اور چندگاؤں پر مشتمل ہے۔
جنوبی وزیرستان کے صدر مقام وانا میں اس وقت بھی الیکشن مہم زور و شور سے جاری ہے۔ مختلف سیاسی پارٹیوں کے امیدوار اپنی پارٹیوں کے جھنڈوں کے ساتھ مختلف علاقوں میں جلسے و جلوسوں میں مصروف ہیں۔
تحریکِ انصاف جنوبی وزیرستان کے چیف آرگنائزر عجب گل وزیر نے بی بی سی کو بتایا کہ پاکستان کے دوسرے علاقوں کی طرح قبائلی جوان بھی دھڑا دھڑ تحریک انصاف میں شامل ہو رہے ہیں۔
عجب گل کے مطابق تحریکِ انصاف کے سربراہ عمران کا دورہ پرامن ہوگا اور وہاں ہونے والے جلسے کے تمام انتظامات مکمل کیے جا چکے ہیں۔انہوں نے بتایا کہ عمران خان کا پہلا دورہ جنوبی وزیرستان ہوگا جبکہ شمالی وزیرستان کے دورے کا فیصلہ بعد میں کیا جائےگا۔
دریں اثناء تحریکِ طالبان پاکستان کی جانب سے عمران خان کے حالیہ وزیرستان کے دورہ کے حوالے سے کوئی بیان سامنے نہیں آیا ہے تاہم کچھ عرصہ پہلے تحریکِ طالبان کے ترجمان احسان اللہ احسان نے کہا تھا کہ عمران خان نے خود کو ’لبرل‘ کہہ کر ثابت کر دیا ہے کہ وہ امریکہ اور یورپ کے غلام ہیں۔ انہوں نے کہا تھا کہ وہ عمران کی پالیسی سے مطمئن نہیں ہیں۔
مبصرین کے خیال میں اگر حکومت نے عمران خان کے ساتھ تعاون کیا تو محسود قبائل کے وہ علاقے جہاں امن وامان قائم ہوچکا ہے ان علاقوں کا دورہ وہ آسانی کے ساتھ کرسکتے ہیں۔






























