
مسلم لیگ نون کے رہنما خواجہ آصف نے ایک پریس کانفرنس میں تحریک انصاف کے سربراہ عمران خان پر منی لانڈرنگ میں ملوث ہونے اور شوکت خانم ہسپتال کے فنڈز کے غلط استعمال کے الزامات عائد کیے تھے۔
پاکستان تحریکِ انصاف کے سربراہ عمران خان نے شوکت خانم ہسپتال اور خود پر توہین آمیز الزامات لگانے پر مسلم لیگ نون کے رہنما خواجہ محمد آصف کو دس ارب روپے ہرجانے کا نوٹس بھجوایا دیا ہے۔
معروف قانون دان سلمان اکرم راجہ کے توسط سے بھیجے گئےاس قانونی نوٹس میں خواجہ آصف کو چودہ دنوں میں غیر مشروط معافی مانگنے اور دس ارب روپے بطور ہرجانے ادا کرنے کا مطالبہ کیا گیا ہے۔
مسلم لیگ نون کے رہنما خواجہ آصف نے یکم اگست کو اسلام آباد میں ایک پریس کانفرنس کے دوران تحریکِ انصاف کے سربراہ عمران خان پر کالا دھن سفید کرنے اور اور شوکت خانم ہسپتال کے فنڈز کے غلط استعمال کے الزامات عائد کیے تھے۔
لاہور سے نامہ نگار عبادالحق کے مطابق عمران خان نے مسلم لیگ نون کے رہنما کے خلاف قانونی چارہ جوئی کرنے کا اعلان کیا تھا اور اب تحریکِ انصاف کے سربراہ نے خواجہ آصف کے خلاف ہرجانے کا قانونی نوٹس بھجوایا ہے۔
عمران خان نے اپنے قانونی نوٹس میں یہ موقف اختیار کیا ہے کہ مسلم لیگ نون کے رہنما خواجہ آصف نے شوکت خانم ہسپتال کے فنڈز کے غلط استعمال کے بارے میں الزامات لگائے ہیں جو بے بنیاد ہیں اور اس وجہ سے ہسپتال کی ساکھ کو خراب کرنے کی کوشش کی گئی ہے۔
قانونی نوٹس میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ خِواجہ آصف نے اپنی پریس کانفرنس کے ذریعے ملک کے اندر اور بیرونِ ملک لوگوں کو عطیات نہ دینے کے لیے اکسایا جس کی وجہ سے نہ صرف ہسپتال کو نقصان پہنچا بلکہ غریب اور مستحق مریض بھی متاثر ہوئے۔
عمران خان نے اپنے نوٹس میں کہا ہے کہ کیونکہ خواجہ آصف نے ان کی اور شوکت خانم کی ساکھ کو نقصان پہنچانے کی کوشش کی ہے اس لیے مسلم لیگ نون کے رہنما ان سے غیر مشروط معافی مانگیں اور دس ارب روپے کی رقم ہرجانے کے طور پر ادا کریں۔
قانونی ماہرین کا کہنا ہے کہ چودہ دنوں کی معیاد ختم کے بعد عمران خان کو یہ حق حاصل ہوجائے گا کہ وہ ملکی قانون کے تحت مسلم لیگ نون کے رہنما خواجہ آصف کے خلاف قانونی جوئی کے لیے عدالت سے رجوع کرسکیں۔






























