ارسلان کیس: نیب سے تحقیقات واپس لے لی گئیں

آخری وقت اشاعت:  جمعرات 30 اگست 2012 ,‭ 07:57 GMT 12:57 PST
ڈاکٹر اسرلان اور ملک ریاض

سپریم کورٹ نے ڈاکٹر ارسلان اور ملک ریاض کے درمیان پیسوں کی مبینہ لین دین کی تحقیقات نیب سے واپس لے کر ڈاکٹر شعیب سڈل کے حوالے کر دی

سپریم کورٹ نے پاکستان کے چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری کے بیٹے ڈاکٹر ارسلان افتخار اور نجی تعمیراتی کمپنی کے سابق سربراہ ملک ریاض کے درمیان بتیس کروڑ روپے سے زائد رقم کی مبینہ لین دین کی تحقیقات نیب (قومی احرساب بیورو) سے واپس لیکر ڈاکٹر شعیب سڈل کو دینے کا فیصلہ کیا ہے۔

ڈاکٹر شعیب سڈل کے ایک رکنی تحقیقاتی کمیشن کو ایک ماہ کے اندر اپنی تحقیقات مکمل کرکے رپورٹ پیش میں کرنے کو کہا گیا ہے۔

عدالت نے اپنے حکم میں کہا ہے کہ اس واقعہ کی تحقیقات سے متعلق ڈاکٹر شعیب سڈل حکومتی مشینری کے علاوہ وکلاء اور فرنزِک ماہرین کی خدمات بھی حاصل کرسکتے ہیں۔

ایک رکنی کمیشن ڈاکٹر ارسلان افتخار، ملک ریاض ان کے داماد سلمان احمد اور اس معاملے سے جڑے دیگر افراد سے تحقیقات کرے گا۔

ڈاکٹر شعیب سڈل پولیس سروس کے ریٹآئرڈ افسر ہیں اور وہ ٹیکس معملات کے وفاقی محتسب بھی رہے ہیں۔ ٹیکس مہتسب کی حیثیت میں انہوں نے افغانستان میں ایساف فورسز کے لیے سامان سے بھرے ہوئے کنٹینرز کی بھی تحقیقات کی تھیں جس کی رپورٹ میں کہا گیا تھا کسٹم کی مد میں قومی خزانے کو پچاس ارب روپے سے زائد کا نقصان پہنچایا گیا تھا۔

جسٹس جواد ایس خواجہ کی سربراہی میں سپریم کورٹ کے دو رکنی بینچ نے جعمرات کو ارسلان افتخار کی جانب سے دائر کی جانے والی نظرثانی کی درحؤاست کی سماعت پر فیصلہ سنایا۔

نظر ثانی کی اس درخواست میں ڈاکٹر ارسلان افتخار نے اس معاملے کی تحقیقات میں نیب حکام پر ’تعصبانہ‘ رویے کا الزام عائد کیا تھا اور اس ضمن میں فریقین کے وکلاء نے اٹھائیس اگست کو اپنے دلائل مکمل کیے تھے۔

اس سے پہلے سپریم کورٹ نے از خود نوٹس لیتے ہوئے اٹارنی جنرل کوحکم دیا تھا کہ اس معاملے کی تحقیقات کے لیے سرکاری مشینری حرکت میں لائی جائے۔

لیکن اب عدالت نے اپنے فیصلے میں کہا ہے کہ اٹارنی جنرل نے اس واقعہ کی تحقیقات کے لیے نیب حکام کو خط لکھ کر اپنے اختیارات سے تجاوز کیا اور عدالت نے کبھی نہیں کہا تھا کہ اس معاملے کی تحقیقات نیب سے کروائی جائیں۔

"ملک ریاض کے وکیل زاہد بخاری نے اس کمیشن کی تشکیل پر اعتراض کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس ضمن میں عدالت نے ان سے مشاورت نہیں کی"

نیب کے حکام نے اس معاملے کی تحقیقات کی مد میں ملک ریاض کو دو مرتبہ جبکہ ڈاکٹر ارسلان افتخار کو ایک مرتبہ پیش ہونے کا حکم دیا تھا۔

عدالت نے کہا کہ اٹارنی جنرل عرفان قادر نے اس بات کو بھی عدالت سے چھپایا کہ وہ ملک ریاض کے وکیل بھی رہے ہیں جبکہ نیب کے چیئرمین نے اٹارنی جنرل کے خط پر تابعداری کے ساتھ عمل کیا۔

سپریم کورٹ نے اس معاملے میں اٹارنی جنرل عرفان قادر کے کنڈیکٹ پر بھی انہیں نوٹس جاری کر دیاہے۔

عدالت نے مشترکہ تحقیقاتی ٹیم میں شامل ایس پی فیصل بشیر میمن کی جانب سے ملک ریاض کو عدالت میں پیشی کے موقع پر غیر ضروری پرٹوکول دینے اور اس ضمن میں جمع کروائے گئے جواب کو غیر تسلی بخش قرار دے کر ان کا تبادلہ پولیس ہیڈ کواٹر میں کرنے کا حکم دیا ہے۔

دوسری جانب ملک ریاض کے وکیل زاہد بخاری نے اس کمیشن کی تشکیل پر اعتراض کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس ضمن میں عدالت نے ان سے مشاورت نہیں کی۔ انہوں نے کہا کہ ان کے موکل اس کمیشن کو تسلیم نہیں کرتے اور یہ معاملہ عدالت میں اٹھایا جائے گا۔

اسی بارے میں

متعلقہ عنوانات

BBC © 2014بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔

]]>