دو شہروں کا قصہ

آخری وقت اشاعت:  بدھ 29 اگست 2012 ,‭ 18:53 GMT 23:53 PST

رواں ماہ بابو سر میں نامعلوم حملہ آوروں نے گلگت جانے والے کم سے کم اُنیس مسافروں کوگولیاں مار کر ہلاک کر دیا

یہ سب کچھ شاید تب سے شروع ہوا جب جھنگ شہر میں داخل ہونے والا دروازہ ’ کھیوہ گیٹ‘ سے ’بابِ عمر‘ بنا اور جھنگ صدر سے باہر نکلنے والا دروازہ ’بابِ علی‘۔

وہ بازار جہاں نویں محرم کے جلوس کو جلوس سے باہر والے لوگ پانی اور شربت کی سبیلیں پلایا کرتے تھے اور ماتمیوں کی زنجیروں سے زخمی پشت پر پر عرق گلاب چھڑکا کرتے تھے اب اسی بازار سے گزرنے والے ماتمی جلوس کے شرکاء کے پیروں تلے کیلیں بچھائي گئي تھیں۔

یہ جنرل یحییٰ خان کی ملک پر نافذ کردہ مارشل لاء کا پہلا دن تھا۔

ورنہ یہی جھنگ کا بازار تھا جہاں بیٹھ کر پنجابی لوک شاعر اور گانے والے یہاں کی لازوال رومانوی داستان مرزا صاحباں کہتےتھے اور اسی بازار کا کھیوہ گیٹ صاحباں کے ابا سردار کھیوہ خان کے ہی نام پر تھا۔ جب بیری والی مسجد بیری والی مسجد تھی۔ جب نقارے پر پڑتے سوزے تال سے پتہ پڑ جاتا تھا کہ شہر میں منادی ہو رہی ہے کہیں کوئي سید فوت ہوا ہے۔

جہاں اب تک لوگ ایک دوسرے کی شادی غمی میں بغیر کسی عقیدے کی تفریق کے جایا کرتے تھے۔ جہاں اب تک مسجدوں کے لاؤڈ سپیکروں سے انتقال کے اعلان کے ساتھ یہ اعلان نہیں ہوتا تھا کہ ’شیعہ حضرات جنازے میں شرکت کی زحمت نہ کریں‘ یا ’سنّی حضرات جنازے میں شرکت کی زحمت نہ کریں‘۔

مسجدوں اور امام بارگاہوں میں مناظرے تو ہوتے تھے لیکن پنجاب کی جگت کی حس اور ماہیوں کی ملی جلی صنف میں جسے وقتی کہا جاتا تھا۔ ابھی چودہ سو سال پرانے دلیل دلیلوں اور برداشت و حوصلے کے ساتھ سننے اور کہنے جاتے تھے نہ کہ بندوق کے ساتھ ۔

آسماناں تے وڈہ ملہنے

دھمی پتہ لگ ویسی

تیڈی چاٹ الاری دا۔

کوئی عجب بات نہیں کہ ایک طرف تو آغا حسن عابدی جیسے شیعہ عقیدے سے تعلق رکھنے وانے بینکار کے بنک کو افغان جہاد کیلیے استعمال کیا گیا اور دوسری طرف پاکستان جیسے سنی اکثریتی ملک کے بنکوں کے کھاتیداروں کی اکثریت نے خود کو زکوۃ میں کٹوتی سے بچنے کیلیے شیعہ گنوایا اور شاید اب بھی اس حساب سے ملک کی اکثریت شیعہ ہے۔

اسی جگتی ماہیے میں بھی کتنا نہ حسن و آرٹ ہے۔

’سجاد تیرا سینہ درداں دا خزینہ ہے‘ جیسے مشہور نوحے کی یہ سطر شہر میں بچوں کو بغیر کسی خاندانی عقیدے کی تفریق کے فلمی گانون کی طرح محرموں کے دنوں میں یاد رہتی تھی۔ اب اس شہر میں بچے ’ کلاشن، کلاشن‘ کھیلتے ہیں، ’شیعہ سنی شیعہ سنی‘ کھیلتے ہیں۔

جہاں رام ریاض جیسا افسانہ نگار تھا۔ ہیر اور روڈو سلطان جیسے دربار تھے۔ ’نشہ عجیب ترے آستاں سے ملتا ہے‘ اس دن روڈو سلطان کے میلے کے بوندی والے لڈو نیویارک میں بھی میں نے کھائے۔

یا پھر یہ سب کچھ سندھ میں خیرپور میرس کے پاس سے اس چھوٹے شہر ٹھیڑی سے شروع ہوا جہاں شیعہ سنی فساد کے بعد ایوب خان جیسا آمر ملک پر دس سال حکومت کر گیا۔

یا یہ سب کچھ پھر تب سے شروع ہوا جب سے تمام ملک کے ساتھ ہوا جب تمام آمروں کا آمر جنرل ضیاءالحق ملک پر نازل ہوا۔ جب اہل تشیع سے ہزاروں تعلق رکھنے والوں نے اپنے مطالبات کے حق میں اسلام آباد میں چیف مارشل لاء ایڈمنسٹریٹر سیکرٹریٹ کا گھیراؤ کیا۔ یہ وہ دن تھے جب بھٹو کو پھانسی مل چکی تھی اور پڑوسی ملک ایران میں انقلاب آ چکا تھا۔

اسلام آباد سیکرٹریٹ کا گھیراؤ کرنے والوں کی پولیس سے مدبھیڑ کے جواب میں گولی چلائی گئی جس میں ایک ہلاک ہونے والے کا تعلق جھنگ کے ساتھ والے جڑواں شہر شورکوٹ سے تھا۔ مرنے والا شور کوٹ کے مقامی شیعہ رہنما کا چھوٹا بھائی تھا۔ اب جھنگ اور شور کوٹ کے اپنے شیعہ شہید تھے جن کی تعزیت کیلیے ایرانی قونصل جنرل بھی آئے۔

اسلام آباد سیکرٹریٹ کا گھیراؤ کی قیادت کرنے والے رہنما اور مفتی پر ضیاءالحق سے مل جانے کا الزام بھی لگا۔ اس واقعے کے بعد ضیاءالحق نے ایک طرف تو مصطفیٰ گوکل، علامہ نصیر الاجتہادی جیسی شیعہ شخصیات اپنی کابینہ اور مجلس شوریٰ میں شامل کر لیں تو دوسری طرف سپاہ صحابہ جیسی شدت پسند تنظمیں بنانے کے پیچھے بھی ہاتھ انہی کا بتایا جاتا ہے۔

یہ قمیضیں اترواکر شناخت کرنے اور قتل کرنے کی رسم بھی جھنگ سے آئی

ضیاء نے ایک طرف فخر امام اور عابدہ حسین جسے شیعہ با اثر سیاستدان بھی اپنے غیر جماعتی نظام میں داخل کرنے دیے دوسری طرف حق نواز جھنگوی اور مولانا طارق اعظم جیسے رہنما بھی۔

یا پھر یہ تب ہوا جب جھنگ شہر میں سنی مولوی شیریں قتل کردیا گیا اور اب جھنگ شور کوٹ کے کے راستوں پر ناکہ لگا اور لوگوں کی قمیضیں اتروا کر شناخت کر کے قتل کیا گیا۔ یہ قمیضیں اتروا کر شناخت کرنے اور قتل کرنے کی رسم بھی جھنگ سے آئی۔ جواب میں سنی خاندان سے تعلق رکھنے والا میٹرک میں پڑھنے والا لڑکا قتل کر دیا گیا۔

سب جھنگ سے آیا۔ لاہور اندرون شہر سے نکلنے والے ذوالجناح بھی جھنگ سے تھے اور ذوالجناحوں کے جلوسوں پر فائرنگ کرنے والے بھی جھنگ سے۔

اب جھنگ کے ’چھور‘ افغانستان اور کشمیر جا پہنچے۔ سلیم فوجی اور ذوالقرنین، لشکر جھنگوی اور سپاہ محمد۔ حرکت الانصار، کمہاروں، جرولیوں، موچیوں اور سیدوں کے لڑکے اب بن بن کے مجاہد اور غازی جانے لگے۔

کوئی عجب بات نہیں کہ ایک طرف تو آغا حسن عابدی جیسے شیعہ عقیدے سے تعلق رکھنے والے بینکار کے بینک کو افغان جہاد کیلیے استعمال کیا گیا اور دوسری طرف پاکستان جیسے سنی اکثریتی ملک کے بینکوں کے کھاتیداروں کی اکثریت نے خود کو زکوۃ میں کٹوتی سے بچنے کیلیے شیعہ گنوایا اور شاید اب بھی اس حساب سے ملک کی اکثریت شیعہ ہے۔

اسی بارے میں

متعلقہ عنوانات

BBC © 2014بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔

]]>