’اٹارنی جنرل نے عدالتی حکم سے تجاوز کیا‘

آخری وقت اشاعت:  منگل 28 اگست 2012 ,‭ 13:40 GMT 18:40 PST

عدالت نے اس درخواست پر فیصلہ محفوظ کرتے ہوئے کہا کہ اس کیس کا فیصلہ ایک دو روز میں سنا دیا جائے گا

سپریم کورٹ نے ڈاکٹر ارسلان افتخار اور بحریہ ٹاؤن کے سابق سربراہ ملک ریاض کے درمیان پیسوں کے مبینہ لین دین کے معاملے سے متعلق دائر درخواست کی سماعت کے دوران کہا ہے کہ اٹارنی جنرل نے نیب سے تحقیقات کروانے سے متعلق خط لکھ کر عدالتی حکم سے تجاوز کیا ہے۔

عدالت عظمیٰ کا کہنا تھا کہ انہوں نے اپنے حکم نامے میں یہ کہا تھا کہ ریاستی مشینری اس معاملے کی تحقیقات کے لیے حرکت میں آئے۔

یاد رہے کہ ملک ریاض نے الزام عائد کیا تھا کہ انہوں نے سپریم کورٹ میں اپنے اور بحریہ ٹاؤن کے خلاف مقدمات میں ریلیف حاصل کرنے کے لیے ڈاکٹر ارسلان افتخار کو نقدی اور ان کے بیرون ممالک دوروں کے دوران اٹھنے والے اخراجات کی مد میں بتیس کروڑ سے زائد کی رقم خرچ کی تھی۔

قومی احتساب بیورو یعنی نیب نے جب اس معاملے کی تحقیقات شروع کیں تو چیف جسٹس کے صاحبزادے نے اس کے خلاف سپریم کورٹ میں نظرِ ثانی کی اپیل دائر کردی تھی جس پر سپریم کورٹ نے نیب کے حکام کو تاحکم ثانی اس معاملے کی تحقیقات کرنے سے روک دیا تھا۔

نامہ نگار شہزاد ملک کے مطابق جسٹس جواد ایس خواجہ کی سربراہی میں سپریم کورٹ کے دو رکنی بینچ نے ارسلان افتخار کی جانب سے دائر کی جانے والی نظرثانی کی سماعت کی۔

"چیئرمین نیب کا رویہ تعصبانہ ہے اور ان سے انصاف ملنے کی امید نہیں ہے۔ اس معاملے کی تحقیقات کے لیے جوڈیشل کمیشن تشکیل دیا جائے اور پھر اس معاملے کو انسداد رشوت ستانی کے محکمے کو بھجوا دیا جائے۔"

ڈاکٹر ارسلان کے وکیل سردار اسحاق

ڈاکٹر ارسلان کے وکیل سردار اسحاق نے اپنی درخواست کے حق میں دلائل دیتے ہوئے کہا کہ چیئرمین نیب کا رویہ تعصبانہ ہے اور ان سے انصاف ملنے کی امید نہیں ہے۔

انہوں نے کہا کہ اس معاملے کی تحقیقات کے لیے جوڈیشل کمیشن تشکیل دیا جائے اور پھر اس معاملے کو انسداد رشوت ستانی کے محکمے کو بھجوا دیا جائے۔

انہوں نے کہا کہ چیئرمین نیب کے بحریہ ٹاؤن کے سابق سربراہ ملک ریاض کے ساتھ ذاتی مراسم ہیں اس کے علاوہ ان کی بیٹی بحریہ ٹاؤن میں ملازمت کرتی ہیں جب کہ نیب کے ڈائریکٹر جنرل فنانشل کرائم اس تحقیقاتی ٹیم کے سربراہ ہیں وہ بھی آج کل بحریہ ٹاؤن میں ہیں۔

انہوں نے کہا کہ عدالت نے اٹارنی جنرل عرفان قادر کو اس معاملے کی چھان بین کے لیے حکومتی مشینری کو حرکت میں لانے کو کہا تھا جبکہ انہوں نے اپنے تئیں نیب حکام کو اس معاملے کی تحقیقات کے لیے خط لکھ دیا جو کہ اختیارات سے تجاوز کے زمرے میں آتا ہے۔

ڈاکٹر ارسلان کے وکیل نے ملک ریاض اور اٹارنی جنرل کے درمیان تعلقات سے متعلق شواہد بھی عدالت میں پیش کیے۔ انہوں نے کہا عرفان قادر ملک ریاض کے وکیل بھی رہ چکے ہیں جس پر بینچ میں شامل جسٹس خلجی عارف حسین نے کہا کہ اٹارنی جنرل کو یہ معاملہ عدالت کے نوٹس میں لانا چاہیئے تھا۔ اس کے علاوہ انہیں معاملے میں خود پیش ہونے کی بجائے کسی اور کو پیش ہونے کا کہنا چاہیئے تھا۔

"اس معاملے کی تحقیقات کرنے والی ٹیم سے متنازع افراد کو نکالے جانے کے بعد اب نظرثانی کی درخواست کی ضرورت نہیں ہے۔ اگر اس معاملے کی تفتیش تبدیل کردی گئی تو پھر ہر کوئی شخص سپریم کورٹ کا رخ کرے گا کہ اسے تفتیشی ٹیم پر اعتماد نہیں ہے۔"

ملک ریاض کے وکیل زاہد بغاری

ملک ریاض کے وکیل زاہد بخاری نے عدالت کو بتایا کہ اٹارنی جنرل نے محض پیغام رساں کا کردار ادا کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ نیب عدالتی حکم پر ہی اس معاملے کی تحقیقات کر رہا ہے۔ بینچ میں موجود جسٹس خلجی عارف حسین نے کہا کہ عدالت نے نیب کو کبھی بھی اس واقعے کی تحققیات کرنے کے بارے میں نہیں کہا۔

زاہد بخاری کا کہنا ہے کہ اس معاملے کی تحقیقات کرنے والی ٹیم سے متنازع افراد کو نکالے جانے کے بعد اب اس نظرثانی کی درخواست کی ضرورت نہیں ہے۔

انہوں نے کہا کہ اگر اس معاملے کی تفتیش تبدیل کردی گئی تو پھر ہر کوئی شخص سپریم کورٹ کا رخ کرے گا کہ اسے تفتیشی ٹیم پر اعتماد نہیں ہے۔

ملک ریاض کے وکیل کا کہنا تھا کہ سابق وزیر اعظم یوسف رضا گیلانی کے صاحبزادے علی موسیٰ گیلانی نے بھی ایفیڈرین کیس میں تفتیش تبدیل کرنے کی استدعا کی تھی جو مسترد کرد ی گئی۔

نیب کے ایڈیشنل پراسکیوٹر جنرل نے عدالت کو اس بات کی یقین دہانی کروائی کہ اس معاملے کی تحقیقات شفاف طریقے سے کی جائیں گی۔

عدالت نے اس درخواست پر فیصلہ محفوظ کرتے ہوئے کہا کہ اس کیس کا فیصلہ ایک دو روز میں سنا دیا جائے گا۔

اسی بارے میں

متعلقہ عنوانات

BBC © 2014بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔

]]>