
باجوڑ کا علاقہ افغانستان کے صوبہ کنڑ سے ملحق ہے
پاکستان کے قبائلی علاقے باجوڑ میں حکام کا کہنا ہے کہ افغانستان سے آنے والے شدت پسندوں نے سالارزئی کے علاقے میں ایک حفاظتی چوکی پر حملہ کیا ہے۔
سکیورٹی ذرائع نے بی بی سی کو بتایا کہ شدت پسندوں کے حملے میں تین سکیورٹی اہلکار ہلاک اور دو زخمی ہو گئے ہیں۔
سکیورٹی ذرائع نے دعویٰ کیا ہے کہ سکیورٹی فورسز کی کارروائی میں گزشتہ چوبیس گھنٹے کے دوران کم از کم تیس شدت پسند مارے گئے ہیں۔
علاقے میں شدت پسندوں اور سکیورٹی فورسز کے مابین جھڑپوں کا سلسلہ جاری ہے۔
سکیورٹی فورسز کے ساتھ تحصیل سلارزئی کا امن لشکر بھی شدت پسندوں کے خلاف کارروائی میں حصہ لے رہا ہے۔
سکیورٹی ذرائع کے مطابق دشوار گزار پہاڑی دروں پر مشتمل اس علاقے میں داخل ہونے والے شدت پسندوں کے خلاف کارروائی میں مشکلات کا سامنا ہے۔
بی بی سی کے نامہ نگار رفعت اللہ اورکزئی کے مطابق علاقے میں جاری جھڑپوں کے حوالے سے معلومات کے حصول میں مشکلات کا سامنا ہے۔
حکام کے مطابق سرحد پار سے آنے والے شدت پسند گزشتہ تین دن سے پاکستانی علاقے میں حملے کر رہے ہیں۔
باجوڑ کی مقامی انتظامیہ کے اہلکار نے خبر رساں ادارے ایسوسی ایٹڈ پریس کو بتایا کہ علاقے میں تین دن سے جاری جھڑپوں میں چار فوجی،نیم فوجی دستوں کے چھ ارکان اور اڑتیس شدت پسند مارے گئے ہیں۔
باجوڑ کا علاقہ افغانستان کے صوبہ کنڑ سے ملحق ہے اور جمعہ کو کنڑ میں ہی اتحادی فوج کے فضائی حملے میں تحریک طالبان پاکستان باجوڑ ایجنسی کے سربراہ ملا داد اللہ اپنے بارہ ساتھیوں سمیت ہلاک ہوئے ہیں۔
پاکستانی طالبان کے ایک ترجمان سراج الدین نے بی بی سی کو بتایا ہے کہ طالبان نے سالارزئی میں پیشت کے علاقے پر قبضہ کیا ہوا ہے اور اتوار کو چوکی پر حملے میں آٹھ اہلکار مارے گئے ہیں۔ تاہم ان کے دعوؤں کی آزاد ذرائع سے تصدیق نہیں ہو سکی ہے۔
طالبان شدت پسند ماضی میں بھی افغانستان سے سرحد پار کر کے پاکستانی علاقے میں حفاظتی چوکیوں اور سکیورٹی اہلکاروں کو نشانہ بناتے رہے ہیں اور پاکستان افغانستان اور وہاں موجود اتحادی افواج پر کنڑ اور نورستان میں موجود پاکستانی طالبان کے خلاف ضروری کارروائی نہ کرنے کا الزام لگاتا ہے۔






























