
پاکستان کے سب سے بڑے شہر کراچی میں جمعے کی رات مختلف علاقوں میں فائرنگ کے تین الگ الگ واقعات میں کم سے کم دس افراد ہلاک اور تیرہ زخمی ہوگئے ہیں۔
انسپکٹر جنرل سندھ پولیس فیاض لغاری نے بی بی سی سے کو بتایا کہ فائرنگ کے تینوں واقعات شہر کے وسط میں ہوئے اور ان میں صرف سنی مسلک سے تعلق رکھنے والے افراد کو نشانہ بنایا گیا ہے۔
انہوں نے بتایا کہ یہ واقعات جمعہ کے واقعے کا ردعمل ہو سکتا ہے جس میں یوم القدس کی ریلی پر بم حملے میں صرف شیعہ مسلک سے تعلق رکھنے والے افراد کو نشانہ بنایا گیا تھا۔ تاہم انہوں نے کہا کہ اس قسم کے واقعات میں اس سے قبل کبھی اتنا جلدی اور ایسا ردعمل سامنے نہیں آیا۔
تحقیقات کے حوالے سے فیاض لغاری نے بتایا کہ پولیس اس سے قبل فرقہ وارانہ فسادات اور قتل کی وارداتوں میں قید ملزمان سے جیل میں تفتیش کر رہی ہے تاکہ حالیہ واقعے میں ملوث ملزمان کی گرفتا میں مدد مل سکے۔
انہوں نے بتایا کہ عید پر شہر بھرمیں پانچ ہزار پولیس اہلکاروں کو اہم مقامات اور عید کے اجتماعات کی سکیورٹی سونپی گئی ہے اور شہر بھر میں پولیں کو ہائی الرٹ کر دیا گیا ہے۔
نامہ نگار حسن کاظمی کے مطابق پہلا واقعہ کراچی کے علاقے شاہراہ پاکستان پر واٹر پمپ کے قریب پیش آیا جہاں ایک موٹر سائیکل پر سوار دو نامعلوم افراد نے گولیاں مار کر دوافراد کو ہلاک کردیا۔
دوسرے واقعے میں نیو کراچی کے ڈسکو موڑ کے قریب واقع ایک ہوٹل پر بیٹھے افراد پر تین نامعلوم افراد نے فائرنگ کردی جس سے وہ شدید زخمی ہوگئے۔ ان افراد کو فوری طور پر ہسپتال لے جایا گیا جہاں ان میں پانچ افراد کی ہلاکت کی تصدیق ہوچکی ہے جبکہ چھٹا شخص شدید زخمی ہے۔
فائرنگ کا تیسرا واقعہ نارتھ کراچی کے سیکٹر فائیو سی میں پیش آیا جہاں مسلح افراد کی فائرنگ سے تین افراد ہلاک ہوگئے۔
اس طرح رات بارہ بجے سے صبح تک ہلاک ہونے والوں کی تعداد دس ہوگئی ہے۔
شاہراہ پاکستان پر فائرنگ کے واقعے کے بعد کشیدگی پھیل گئی اور مشتعل افراد نے پتھراؤ شروع کردیا جس سے ٹریفک معطل ہوگئی۔ بعد ازاں رینجرز اور پولیس کی اضافی نفری نے جائے وقوعہ پر پہنچ کر حالات کو قابو کیا۔
تازہ ترین اطلاعات کے مطابق فائرنگ سے متاثرہ علاقوں میں سخت کشیدگی ہے اور آئی جی سندھ فیاض لغاری نے ان واقعات کا نوٹس لیتے ہوئے تمام متعلقہ ایس ایس پیز کو متاثرہ علاقوں کا دورہ کرنے کی ہدایت کی ہے۔






























