دوہری شہریت کیا اکھاڑ لے گی؟

رحمان ملک کی دوہری شہریت کا معاملہ سپریم کورٹ میں زیرِ بحث رہا

،تصویر کا ذریعہBBC World Service

،تصویر کا کیپشنرحمان ملک کی دوہری شہریت کا معاملہ سپریم کورٹ میں زیرِ بحث رہا
    • مصنف, وسعت اللہ خان
    • عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، کراچی

اُس وقت صدارتی نظام پاکستان کی نہیں ایوب خان کی ضرورت تھی۔اگر پاکستان کی ضرورت ہوتی تو محمد علی جناح کاہے کو نئی مملکت کے لئے پارلیمانی نظام تجویز کرتے۔

اُس سمے اپنے ہی بنائے ہوئے آئین میں چوتھی ترمیم ذوالفقار علی بھٹو کی اقتداری ضرورت تھی۔ کیونکہ وزیرِ اعظم بنتے ہی انہیں عوامی طاقت پر اعتماد سے زیادہ ستر کے انتخابات میں ضمانتیں ضبط کروانے والے علمائے کرام کا خوف لاحق ہوچکا تھا۔ ورنہ تو چوتھی ترمیم سے پہلے بھی اقلیتیں پاکستان میں مساوی حقوق کا ڈراؤنا خواب مسلسل کات ہی رہی تھیں۔

اُس روز آئین میں آٹھویں ترمیم پاکستان کی نہیں ضیا الحق کی ضرورت تھی۔ ورنہ غیر جماعتی اسمبلی کی کنپٹی پر گن رکھ کے اس ترمیم کی منظوری کے لئے ہاتھ کیوں کھڑے کروائے جاتے جس کا مقصد تمام غیر آئینی فرمانوں اور آرڈینینسوں کو آئینی لفافے میں بند کر کے ان کی بدبو مارنا تھا۔

اُس ہفتے پندھرویں ترمیم اسلامی جمہوریہ پاکستان سے زیادہ دو تہائی اکثریت سے بھی غیر مطمئن نواز شریف کی ضرورت تھی جو اس ترمیم کے ذریعے قرونِ وسطی سٹائیل کے پہلے پاکستانی پوپ بننا چاہتے تھے۔ پھر وہ اپنی ہی طاقت سے ڈر گئے۔

اُس ماہ پی کیپ پر صدارتی جناح کیپ فٹ کرنا پاکستان کی نہیں بلکہ باوردی پرویز مشرف کی بقائی ضرورت تھی ۔اس کے لئے پی سی او ججوں سے جو عدالتی انجیر پتا حاصل کیا گیا، پاکستان اس کے بغیر بھی خوب چل رہا تھا۔

ہاں آئین میں اٹھارویں ، انیسویں ، بیسویں اور اکیسویں ترمیم وفاق اور جمہوریت کی ضرورت تھیں لہذا سب نے ہی ان ترامیم کی حمایت کی ۔لیکن دوہری شہریت رکھنے والے پاکستانیوں کو رکنِ پارلیمان بننے کی اجازت سے متعلق بائیسویں ترمیم کا مسودہ کسی اور کی ضرورت ہو تو ہو کم از کم پاکستان کی فوری ضرورت نہیں ۔

پھر بھی یہ سوال مسلسل مجھے کچوکے لگا رہا ہے کہ دوہری شہریت والے اگر پارلیمان کے رکن بن بھی جائیں تو کون سا ایسا نقصان ہوگا جو اکہری شہریت رکھنے والے نہیں پہنچا پائے ؟؟؟

جس وزیرِ اعظم نے امریکیوں کو سوویت یونین کی جاسوسی کے لئے پشاور کا فضائی اڈہ پٹے پر دیا ۔جن جرنیلوں نے چار دفعہ مارشل لا لگایا، دس کروڑ بے وقوفوں کے لئے بنیادی جمہوریت کا کنڈر گارڈن کھولا ، نافرمان و ناہنجار بنگالیوں کو پتلی گلی سے بھگا دیا، افغان جنگ میں پاکستان کو سی آئی اے کی کلاشنکوفی ٹکٹکی پر چڑھا مذہبی شدت پسندی کے رسے سے باندھ ہیروئن میں لتھڑے کوڑے مارے، پاکستان کو اس کے شہریوں، بندرگاہوں، ہوائی اڈوں اور شاہراہوں سمیت نائن الیون کے نیلام گھر میں ٹکے سیر بیچ ڈالا۔ جنہوں نے پورے ملک کو اوجڑی کیمپ بنا کر اپنی ہی لیبارٹری میں تیار کردہ نجی مجاہدوں کے سامنے ڈال دیا۔ جنہوں نے پاکستان کو ایک جیتی جاگتی سانس لیتی نعمت سے زیادہ کسی مہنگی ویسٹ اوپن کارنر پراپرٹی کی اسٹیٹ ایجنٹی نگاہ سے دیکھا۔ ان میں سے بھلا کونسا طالع آزما دوہری شہریت پکڑے گھوم رہا تھا ؟؟

کیا اسٹیبلشمنٹ کی دائی غلام اسحاق خان یا ٹیسٹ ٹیوب بے بی سردار بروٹس احمد خان لغاری یا آمریت کے کپڑے دھوتے دھوتے آخری عمر میں ’داغ تو اچھے ہوتے ہیں‘ کا بھاشن دینے والے روئداد خان پاکستان کے علاوہ بھی کسی ملک کے شہری رہے ہیں ؟؟

اور جن ججوں نے نظریہِ ضرورت کا سور حلال کیا، ایک منتخب وزیرِ اعظم کو پھانسی چڑھانے والے کی شیروانی پر گرنے والے سرخ دھبے اپنے رومال سے صاف کئے اور ایک دوتہائی وزیرِ اعظم کو ہائی جیکنگ کیس کا بخار دکھا جلاوطنی کے جہاز پر چڑھا دیا۔ ان میں سے کس کس جج کی شہریت کسی اور جگہ کی رہی ؟

اور جنہوں نے ریلوے کو چبا ڈالا، سٹیل ملز کو ہاجمولا سمجھ کے منہ میں رکھ لیا، بینکوں کو کھکھل، پی آئی اے کو توپ دم کر دیا، اور جنہوں نے حاجیوں کو لوٹ لیا، اور جن سجیلوں بانکوں نے این ایل سی کو ریڑھے پر بیٹھا دیا، اور جن این آر او زدگان نے سڑکیں کاغذ کی زمین پر بچھائیں اور دریاؤں کے حفاظتی پشتوں کے کشتے لگا دیے اور جن چشمک بازوں نے قلم کو بالاخانے پر بیٹھا کر حرف کو قلم کا دلال بنا دیا۔ اور جن سرفروشوں نے ڈاکٹروں سے تسلیم شدہ پاگلوں تک کو چوکوں میں تالیوں اور مقدس نعروں کے شور میں نذرِ آتش کر دیا۔ اپنی ہی عورتوں کی چیخوں پر غیرت و حمیت کا تیل چھڑک دیا، اپنے بچوں کا مستقبل پولیو کے حوالے کردیا۔ اور جنہوں نے اسکولوں میں بھوت اور اساتذہ پر کتے چھوڑ دیے اور علم کو بھونکنے پر لگا دیا۔ ان میں سے کس کس کی قومیت دوہری ہے ؟

عوام کو گھاس کھلا کھلا کر قطرہ قطرہ جمع کردہ جوہری ٹیکنولوجی کا اتوار بازار لگانے والا وہ ڈاکٹر، ہر زمینی مرض کا معالج وہ ملک ریاض، رینٹل اندھیرے روشنی کے بھاؤ بیچنے والا وہ راجہ صاحب آف گوجر خان، سلمان تاثیر فیم ہم سب کی آنکھوں کا تارا وہ غازی ممتاز قادری اور سینکڑوں غائب سلیم شہزادوں کے سینوں اور کھوپڑیوں کو گولیوں سے ہوا دار بنا کے ویرانوں میں پھینکنے والا وہ محبِ وطن سایہ۔۔۔ بھلا ان میں سے کس کس نے امریکہ ، برطانیہ ، بلجئیم اور جرمنی سے وفاداری کا حلف اٹھا رکھا ہے ؟؟؟

تو کیا پاکستان کی قسمت کے حساس فیصلے اور قومی راز واقعی اکہری شہریت یافتہ خواندہ و نیم خواندہ پارلیمنٹیرینز کے ہاتھوں اور سینوں میں ہیں یا راولپنڈی، آبپارہ، فیڈرل سیکرٹیریٹ، مدارس، کارپوریٹ و میڈیا ہاؤسز، لندن اور واشنگٹن میں بیٹھے گردشی پتلیاں نچانے والے بھی تمام اہم فیصلوں میں برابر کے راز داں ہیں؟

کبھی ان غیر پارلیمانی پتلی سازوں یا ان کے لواحقین و بے نام نورتنوں کے سرخ نیلے پاسپورٹ، گرین کارڈ ، پرمننٹ ریذیڈنسی سرٹیفکیٹ یا کم از کم میلبرن، کوالالمپور، دوبئی، جدہ، جوہانسبرگ، جنیوا، کان، بارسلونا، اوسلو، ٹورانٹو، نیویارک، ہیوسٹن، کیمن آئی لینڈ وغیرہ کے رہائشی و فرنچائز ڈاک پتے طلب فرما کے ہی دکھا دیویں حضور ۔۔۔۔۔کہ ہم غریب ہوئے ہیں انہی کی دولت سے۔۔۔۔۔۔

فرصت ملے تو اس پہ بھی غور فرمائیے گا کہ جس پاکستان کی کمر دوہرے کردار نے دوہری کردی اس کو دوہری شہریت کی درفنتنی اور کتنا دوہرا کر سکتی ہے ؟؟؟