پاکستان میں بجلی کا بحران شدید

،تصویر کا ذریعہBBC World Service

پاکستان میں گرمیوں کی آمد کے ساتھ ہی بجلی کی لوڈ شیڈنگ میں اضافے نے پورے ملک میں عوام کی مشکلات میں شدید اضافہ کر دیا ہے۔

بجلی کی طویل بندش کے خلاف کچھ مقامات پر لوگوں نے بدھ کو گھروں سے باہر نکل کر احتجاج کے ذریعے اپنے غصے کا اظہار کیا۔

لاہور سے بی بی سی کی نامہ نگار مناء رانا کے مطابق شہری علاقوں کے لوگ آٹھ گھنٹے اور دیہی علاقوں کے عوام بارہ سے سولہ گھنٹے کی بجلی کی لوڈ شیڈنگ جھیل رہے تھے کہ ان کی تکلیف میں ایک دم ہی بہت اضافہ ہو گیا یعنی لوڈ شیڈنگ کا دورانیہ مزید بڑھ گیا ہے۔

ملک میں جاری لوڈ شیڈنگ میں مزید اضافے کی وجہ بجلی پیدا کرنے کے ایک نجی بجلی گھر کے واجبات ادا نہ کرنے کے سبب ہوا جس سے بجلی کی قلت میں مزید اضافہ ہو گیا اور اس وجہ سے شہروں میں لوڈ شیڈنگ کا دورانیہ دس سے چودہ گھنٹے جبکہ دیہات میں بیس گھنٹوں تک جا پہنچا ہے۔ اس بجلی گھر سے دو ہزار میگا واٹ بجلی پیدا ہوتی ہے۔

پاکستان میں بجلی کی تقسیم کے ادارے پیپکو کے جرنل مینجر اعجاز رفیق کا کہنا ہے تیل فراہم کرنے والی کمپنی کو واجبات ادا کر دیے گئے ہیں اور ایک دو روز میں موجودہ بد ترین صورت حال پر قابو پا لیا جائے گا۔

ماہرین کے مطابق اس بحرانی کیفیت کے ختم ہونے کے باوجود معمول کی لوڈ شیڈنگ تو جوں کی توں ہی رہے گی تاہم موسم کی شدت میں اضافے پر ائیر کنڈشنروں کا استعمال شروع ہو گا اور بجلی کی طلب بہت زیادہ بڑھ جائے گی۔

پیپکو کے جرنل مینجر اعجاز رفیق کے مطابق موسم گرم ہونے سے برف پگھلے گی اور ڈیموں میں پانی آنے سے بجلی کی پیداوار بہتر ہو سکے گی اور اگر نجی بجلی گھروں کو تیل اور گیس کی فراہمی ٹھیک رہی تو حالات خراب نہیں ہوں گے۔

اعجاز رفیق نے بتایا کہ پاکستان میں اس وقت اکتیس نجی بجلی گھر ہیں جن کو چلانے کے لیے مجموعی طور پر روزانہ ساڑھے بتیس ہزارمیٹرک ٹن فرنس تیل کی ضرورت ہے۔

انہوں نے تسلیم کیا کہ یہ تیل کبھی چودہ ہزار میٹرک ٹن ملتا ہے تو کبھی پندرہ ہزار میٹرک ٹن جس کے سبب یہ بجلی گھر اپنی اہلیت کے مطابق بجلی پیدا نہیں کر پاتے۔

ماہرین کے مطابق تمام حالات آئیڈیل ہوں تب بھی آٹھ سے دس گھنٹے کی لوڈ شیڈنگ تو نا گزیر ہے ہی۔

بجلی نہ آنے سے جہاں لوگ گرمی سے بےحال ہو رہے ہیں وہیں توانائی کے اس بحران سے پاکستان کی صنعتیں بھی بری طرح متاثر ہو رہیں ہیں جس سے بےروز گاری میں بھی بہت اضافہ ہوا ہے۔

پاکستان چیمبرز آف کامرس کے سابق صدر ظفر اقبال کا کہنا ہے کہ لوڈشیڈنگ سے بہت سے صنعتیں بند ہو گئیں ہیں جس سے مزدور بے روز گار ہو گئے ہیں اور یہ حالات آگے چل کر مزید سنگین ہوں گے اور جب لوگوں کے گھروں کے چولہے بجھیں گے تو وہ احتجاج کے لیے سڑکوں پر نکل آئیں گے۔