کوئٹہ تفریحی اعتبار سے بھی خشک ہوچکا ہے
- مصنف, ہارون رشید
- عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، کوئٹہ
بی بی سی اردو کے نامہ نگار ہارون رشید چھ سال بعد دوبارہ صوبہ بلوچستان پہنچے ہیں۔ وہ اپنے مشاہدات کو ایک ڈائری کی صورت میں قلمبند کر رہے ہیں۔ یہ ان کی ڈائری کی تیسری قسط ہے۔
کہتے ہیں کالی بلی راستہ کاٹ لے تو اچھا نہیں ہوتا۔ اسلام آباد سے کوئٹہ کی فلائٹ بھی بس شاید اسی وجہ سے مس ہوتے ہوتے رہ گئی۔ائیر پورٹ جاتے ہوئے کسی اعلی فوجی افسر کے قافلے کے گزرنے کی وجہ سے اسلام آباد ہائی وے تقریبا پندرہ منٹ بند رہی۔
شاید اسی لیٹ آنے کی سزا قومی ائیر لائین نے انسٹھ نمبر کی آخری نشست دے کر دی۔<link type="page"><caption> </caption><url href="http://www.bbc.co.uk/urdu/pakistan/2011/06/110628_baloch_situation_ar.shtml" platform="highweb"/></link>
<link type="page"><caption> ’ابھی جنگ شروع ہوئی نہیں، آپ جا رہے ہیں‘</caption><url href="http://www.bbc.co.uk/urdu/pakistan/2011/06/110628_baloch_situation_ar.shtml" platform="highweb"/></link>
لیکن پرواز خود بھی نامعلوم وجوہات کی بنا پر نصف گھنٹہ لیٹ روانہ ہوئی۔ طیارے میں داخل ہوئے تو ایسا محسوس ہوا کہ چند اہلکار ساتھ کی نشستیں کسی سیاسی جلسے میں تصادم کی صورت اکھاڑ پچھاڑ رہے ہیں۔
چھ نشستیں ہٹیں تو ایک سٹریچر نصب کر دیا گیا۔ مریض دیکھ کر ویسے ہی ڈپریشن کا دورہ آتا ہے لیکن پرواز روانہ ہوگئی مریض نہ آیا۔ پھر خیال کیا کہ اسلام آباد کے کھاتے پیتے لوگ کم بیمار ہوتے ہیں ایسے سفر کی ضرور صرف بلوچستان کے مریضوں کے نصیب میں لکھی ہے جو علاج کے لیے کراچی ایسے ہی جاتے ہوں گے۔
بلوچستان میں سڑک اور ریل کی ایسی حالت کہاں کہ کسی کو آرام دے سکیں۔ کبھی دن میں کوئٹہ ریلوے سٹیشن سے دس گاڑیاں آیا جایا کرتی تھی اب محض تین رہ گئی ہیں۔ وہ بھی اگر پٹریاں بم دھماکوں سے سلامت ہوں اور ریل انجن کے لیے ایندھن ہو تو۔
یہی روزانہ کی ایک یا دو کوئٹہ کی پروازیں ہیں جس نے اس شہر کو ملک کے دیگر علاقوں سے رابطے میں رکھا ہوا ہے۔ ورنہ ریل اور سڑک سے سفر سوچنا بھی محال ہے۔ ریل گاڑیوں اور بسوں پر حملے اس سفر کو مزید ناپسندیدہ بنا دیتے ہیں۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
جہاز کے انتہائی مہنگے ٹکٹوں کی وجہ سے غریب طبقہ زمینی راستوں سے سفر ناصرف سوچتا ہے بلکہ کرنے پر مجبور بھی ہے۔
آدھا گھنٹہ تاخیر میں پی آئی اے کی پوری کوشش تھی کہ تمام مسافر پانی تو نہیں پسینے سے ضرور نہا لیں۔ کسی بے بس نجی کمپنی کی طرح ایئر کنڈیشننگ نظام اس وقت تک نہیں چلا جب تک طیارہ روانہ نہیں ہوا۔ یا پھر اے سی اتنا تھکا ہوا تھا کہ کھڑے جہاز میں کام نہیں کر رہا تھا۔

ہر کسی نے کلاس روم کے شرارتی طالب علم کی طرح بار بار ہاتھ اٹھا کر اے سی چیک کیے لیکن ٹھنڈی ہوا نہیں آنی تھی سو نہیں آئی۔ جہاز نے ٹیک آف کیا تو ایک سائڈ کا سامان کا ریک کھلا جب اترا تو دوسری جانب یہی چمتکار دیکھنے کو ملا۔
یہاں لوگوں کو قومی فضائی کمپنی سے یہ شکایت بھی پرانی ہے کہ مسافر کم ہونے کی صورت میں اکثر نجی بس سروس کی طرح پرواز منسوخ بھی کر دی جاتی ہے۔ ایک اور شکایت کراچی اسلام آباد روٹ کا کرایہ محض چھ یا سات ہزار روپے بتایا جانا ہے جبکہ کوئٹہ سے یہی سفر یہاں کے مسافروں کو بارہ تیرا ہزار میں پڑتا ہے۔
خیر کوئٹہ آیا، سامان لیا اور سیدھا حکم ہوا کہ صوبائی اسمبلی پہنچیں جہاں آئندہ برس کا بجٹ منظور ہونے کے یادگار مناظر اپنی آنکھوں سے دیکھ سکیں۔
ایئرپورٹ کے راستے میں پیپلز پارٹی کے جھنڈے یا پھر دھول چھائی ہوئی ہے۔ عسکری پارک جو دو ہزار دو تک ہرا بھرا دلکش منظر پیش کرتا تھا اب بڑی اور جلی ہوئی گھاس سے اٹا پڑا ہے۔ کسی سرکاری افسر نے بتایا کہ رش اور پانی کی کمی کی وجہ سے یہ حال ہوا ہے۔ دو تین سال پہلے مغربی حصے میں میاں غنڈی نامی نیا پارک بھی بنایا گیا ہے لیکن باہر سے وہ بھی خشک معلوم ہوتا ہے۔
کوئٹہ واقعی آب و ہوا کے اعتبار سے نہیں بلکہ تفریحی اعتبار سے بھی خشک ہے۔ اپنی تفریح کا خود سامان پیدا کرسکتے ہیں تو واہ واہ ورنہ صبر سے کام لیں۔ شہر میں واحد چلنے والا سنیما میں رات نو بجے کے بعد کا ایک شو چلتا ہے جس کے متعلق بتایا جاتا ہے کہ شہر پہنچنے والے ٹرک ڈرائیوروں کا خصوصی خیال رکھتے ہوئے اہتمام کیا جاتا ہے۔
ایئرپورٹ سے اسمبلی تک جو شہر کا حصہ دیکھا آبادی کے دباؤ اور دھول کے اڑاؤ کا ہی احساس ہوا۔ ہاں دو چار سکیورٹی چوکیاں بھی نظر آئیں جو چھ سال پہلے نہیں تھیں۔
اسمبلی پہنچے تو بجٹ اتنے آسان اور پرسکون حالات میں منظور ہوا کہ جمہوریت پر رشک آنے لگا۔ پینسٹھ اراکین کے ایوان میں حزب اختلاف تو سرے سے موجود نہیں تو کسی نے کوئی کٹ موشن بھی نہ پیش کیا نہ اعتراض کرکے کسی کا وقت برباد کیا۔ وزیر خزانہ شق وار اجازت طلب کرتے رہے اور ایوان دیتا گیا۔
بلوچستان اسمبلی اتنے موثر انداز میں چل رہی ہے کہ سپیکر کو اکثر ہر اجلاس کے آغاز پر فکر لاحق ہوتی ہے کہ تلاوت کے بعد کیا کریں گے۔ نئی آئینی ترمیم کے تحت خیر اب اجلاس کے سو دن پورے کرنے ہیں تو بیٹھنا تو پڑے گا۔ ستاون وزراء کی موجودگی میں کسی کو کیا شکایت ہوسکتی ہے؟







