کابینہ کی دفاعی کمیٹی کا اجلاس طلب

،تصویر کا ذریعہAP
وزیر اعظم نے ملک میں سیکورٹی کی صورت حال پر غور کرنے کے لیے وفاقی کابینہ کی دفاعی کمیٹی کا اجلاس پچیس مئی کو اسلام آباد میں طلب کرلیا ہے۔
وزیر اعظم ہاؤس کی جانب سے جاری ہونے والے بیان میں کہا گیا ہے کہ حالیہ دہشت گردی کے واقعات کے پیش نظر ملک کی سیکورٹی کی صورت حال پر نظرثانی کے لیے اجلاس طلب کیا گیا ہے۔
اسلام آباد سے نامہ نگار شہزاد ملک نے بتایا کہ اس اجلاس میں وزیر دفاع اور وزیر داخلہ سمیت تینوں مسلح افواج کے سربراہان بھی شرکت کریں گے۔ اس اجلاس میں فوج کے خفیہ ادارے آئی ایس آئی کے سربراہ کی بھی شرکت کا امکان ہے۔
یاد رہے کہ القاعدہ کے رہنما اُسامہ بن لادن کی ہلاکت کے بعد بھی وفاقی کابینہ کی دفاعی کمیٹی کا اجلاس طلب کیا گیا تھا۔
دوسری جانب کراچی میں پاکستان نیوی کی مہران بیس پر شدت پسندوں کے حملے کے بعد اسلام آباد سمیت ملک کے دیگر علاقوں میں واقع حساس تنصیبات کے اردگرد تعینات سیکورٹی اہلکاروں کی تعداد میں اضافہ کردیا گیا ہے۔
پیر کے روز اسلام آباد میں نیوی اور پاکستان ائرفورس کے ملازمین کو اُن کے دفاتر لیکر آنے والی محکمے کی گاڑیوں کے ساتھ کمانڈوز کی گاڑیاں بھی تھیں۔ اس کے علاوہ راستے میں جو پولیس کے ناکے آتے تھے وہاں پر بھی ائرفورس اور نیوی کے مسلح افراد تعینات تھے۔ یہی عمل چھٹی کے وقت بھی دھرایا گیا اور ناکے پر موجود دیگر گاڑیوں کو روک کر حساس ادارے کا گاڑیوں کو پہلے گُزارا گیا۔
راولپنڈی میں بھی جی ایچ کیو کے ملازمین کو لانے اور لے جانے والے کے لیے فوجی کمانڈوز ان گاڑیوں کے ساتھ تھے تاہم ان سیکورٹی اہلکاروں میں مقامی پولیس کے اہلکاروں کو شامل نہیں کیا گیا۔
اسلام آباد میں ناکوں پر پولیس کے علاوہ رینجرز کے اہلکاروں کو بھی تعینات کیا گیا ہے۔ رینجرز کے اہلکار صرف اسلام آباد میں داخل ہونے والے مرکزی راستے پر تعینات تھے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
چیف کمشنر اسلام آباد طارق پیرزادہ کا کہنا تھا کہ حساس نوعیت کے ان مقامات کے علاوہ بین الاقوامی تعلیمی اداروں کے باہر بھی سیکورٹی میں اضافہ کردیاگیا ہے۔
بی بی سی سے گفتگو کرتے ہوئے اُنہوں نے کہا کہ یہ تمام اقدامات شدت پسندی کے واقعات کو روکنے کے لیے کیے گئے ہیں۔
اُنہوں نے کہا کہ شدت پسندی کے خطرات موجود ہیں اور مشکوک افراد پر کڑی نظر رکھی جارہی ہے۔
سیکورٹی ڈویژن میں تعینات ایک اہلکار نے اپنا نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بی بی سی کوبتایا کہ وزارت داخلہ کی طرف سے دو ہفتے قبل اُسامہ بن لادن کی ہلاکت کے ممکنہ ردعمل سے متعلق ایک انتباہ جاری کیا گیا تھا جس میں کہا گیا تھا کہ کالعدم تنظیموں کی طرف سے اس واقعہ کے بعد شدت پسندی کی وارداتیں ہوسکتی ہیں تاہم اس میں کسی مخصوص عمارت کو نشانہ بنانے کی کوئی نشاندہی نہیں کی گئی تھی۔







