پی تھری سی اورین: کثیر المقاصد جہاز

،تصویر کا ذریعہBBC World Service
پاکستان کے جنوبی صوبہ سندھ کے دارالحکومت کراچی میں پاکستان بحریہ کی ’مہران بیس‘ میں شدت پسندوں کا نشانہ بننے والے دو طیارے ’پی تھری سی اورین‘ چند سال قبل ہی امریکہ کی جانب سے فراہم کیے گئے تھے۔
پی تھری سی اورین طیارے آبدوز شکن، فضائی نگرانی اور زمینی حملوں کے لیے انتہائی کارگر جنگی جہاز تصور کیا جاتا ہے۔
پاکستان اور امریکہ کے مابین دو ہزار پانچ میں ہونے والے معاہدے کے تحت امریکہ نے پاکستان کو آٹھ پی تھری سی اورین ایئرکرافٹ فراہم کرنے کا معاہدہ کیا تھا۔ حکام کے مطابق تاحال تین پاکستان کو مل چکے ہیں جبکہ پانچ ابھی ملنے ہیں۔
ایٹمی دھماکوں کے بعد پاکستان پر عائد پابندیوں کے اختتام کے بعد امریکہ اور پاکستان کے درمیان یہ پہلا دفاعی سودا تھا۔
جن میں سے پہلا طیارہ دو ہزار سات میں پاکستان بحریہ کے بیڑے میں شامل کیا گیا تھا۔ امریکی کمپنی لاک ہِیڈ مارٹن ایرو ناٹیکل سیسٹمز کمپنی یہ طیارے بناتی ہے۔
نامہ نگار اعجاز مہر کے مطابق امریکی نیوی کے تعلقات عامہ کے شعبہ کے مطابق اس طیارے کی لاگت چھتیس ملین ڈالر ہے جو کہ تین ارب ساڑھے نو کروڑ روپے بنتی ہے۔
کمپنی کے مطابق یہ طیارے میری ٹائم پیٹرول ایئرکرافٹ بھی کہلاتے ہیں اور انیس سو ساٹھ میں پہلی بار امریکی بحریہ میں شامل کیے گئے۔
لیکن اس کے بعد ان طیاروں کو اپ گریڈ کیا گیا اور اینالاگ ریکارڈرز کو ڈیجیٹل ریکارڈرز میں تبدیل کیا گیا۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
تاہم یہ معلوم نہیں کہ پاکستان کو فراہم کردہ یہ طیارے اتنے ہی جدید آلات سے لیس ہیں جو کہ امریکی بحریہ کے پاس موجود ہیں یا نہیں۔
لاک ہِیڈ مارٹن ایرو ناٹیکل سیسٹمز کمپنی کے مطابق چار ٹربو انجن والے یہ طیارے کی لمبائی ایک سو سولہ اعشاریہ سات فٹ جبکہ اونچائی تینتیس اعشاریہ سات فٹ ہے۔
طیارے کا وزن ایک لاکھ انتالیس ہزار سات سو ساٹھ پونڈ ہے جبکہ یہ بیس ہزار پونڈ بارود / میزائل اٹھا سکتا ہے۔







