’ملازمین بحال کرو ورنہ نجکاری منسوخ‘

،تصویر کا ذریعہBBC World Service
پاکستان کے وفاقی وزیرِ محنت و افرادی قوت سید خورشید احمد نے کراچی الیکٹرک سپلائی کارپوریشن ( کے ای ایس سی) کی انتطامیہ سے کہا ہے کہ وہ برطرف کردہ چار ہزار ملازمین کو فوری بحال کریں ورنہ حکومت نجکاری منسوخ کرکے اُسے دوبارہ سرکاری تحویل میں لے گی۔
یہ بات انہوں نے بدھ کو ایوان بالا سینیٹ میں مختلف اراکین کے اٹھائے گئے نکات کا جواب دیتے ہوئے کہی۔ انہوں نے کے ای ایس سی انتظامیہ کو خبردار کیا کہ بھوک ہڑتال پر بیٹھے آٹھ مزدور رہنماؤں کی حالت نازک ہے اور اگر ان میں سے کسی کو کچھ ہوا تو مقدمہ مینیجنگ ڈائریکٹر کے خلاف درج ہوگا۔
خورشید شاہ نے کہا کہ دنیا بھر میں یوٹیلٹی اداروں کی نجکاری کا تجربہ ناکام ثابت ہوا اور سابقہ حکومت نے کراچی کو بجلی فراہم کرنے والے ادارے کی غلط نجکاری کی ہے۔
ان کے مطابق کے ای ایس سی کی انتظامیہ نے حکومتی مداخلت کے بعد برطرف ملازین کو بحال کیا لیکن چند ماہ بعد انہیں دوبارہ برطرف کردیا جو کہ مزدور دشمنی ہے۔
اسلام آباد میں ہمارے نامہ نگار اعجاز مہر نے بتایا کہ پیپلز پارٹی، ایم کیو ایم، نیشنل پارٹی، جماعت اسلامی، مسلم لیگ (ن)، عوامی نیشنل پارٹی، مسلم لیگ (ق) کے ممبران نے متفقہ طور پر مطالبہ کیا کہ کے ای ایس سی کی انتظامیہ اگر فوری طور پر برطرف ملازمین کو بحال نہ کرے تو اس ادارے کو قومی تحویل میں لیا جائے۔
مقررین نے کہا کہ کے ای ایس سی کی انتظامیہ نے نجکاری کے معاہدے کی خلاف ورزی کی ہے۔ ان کے بقول انتظامیہ کو ساٹھ لاکھ ڈالر سے زیادہ کی سرمایہ کرنی ہے لیکن تاحال وہ نہیں کی۔ ان کے مطابق تین ہزار میگا واٹ بجلی پیدا کرنے کی صلاحیت کے باوجود صرف بارہ سو میگا واٹ بجلی پیدا ہوتی ہے۔
مقررین نے کہا کہ کے ای ایس سی کی انتظامیہ کو سینیٹ کی قائمہ کمیٹی میں طلب کیا گیا لیکن وہ نہیں آئے اور وہ خود کو بالا تر سمجھتے ہیں۔
جس پر سید خورشید شاہ نے کہا کہ پارلیمان سپریم کورٹ سے بھی سپریم ہے اس لیے کسی کو یہ حق نہیں کہ وہ پارلیمان کو انکار کرے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
ادھر سینیٹ سے حکومت نے بدھ کو لیگل پریکٹشنرز اینڈ بار کونسلز ایکٹ میں ترمیم کا بل اکثریت رائے سے منظور کرا لیا ہے۔
وزیر قانون مولا بخش چانڈیو نے جب یہ بل منظوری کے لیے پیش کیا تو جماعت اسلامی کے پروفیسر خورشید نے کہا کہ اس میں ترمیم ہونی چاہیے کہ تمام بار کونسلز کو رقوم ملنی چاہیے اور حکومت کا صوابدیدی اختیار ختم ہونا چاہیے۔
جبکہ مسلم لیگ (ق) کے ایس ایم ظفر اور مسلم لیگ (ن) کے سید ظفر علی شاہ نے بل کی مخالفت کی۔ پیپلز پارٹی، جے یو آئی، پشتنخواہ ملی عوامی پارٹی اور دیگر نے بل کی حمایت کی۔
وزیر قانون نے کہا کہ اس بل کا مقصد پاکستان بھر کی چھوٹی بڑی بار کونسلز کو سہولیات فراہم کرنے کے لیے امدادی دی جائے گی۔
سینیٹ میں ایک موقع پر مسلم لیگ (ق) کی سینیٹر نیلو فر بختیار نے کہا کہ یہ انتہائی افسوس ناک صورتحال ہے کہ جب سلمان تاثیر کے لیے جب انہوں نے فاتحہ کروائی تو کچھ لوگوں نے واک آؤٹ کیا تھا۔ اور جب قومی اسمبلی میں اسامہ بن لادن کے لیے فاتحہ کی گئی تو اس پر کوئی نہیں بولا۔
انہوں نے کہا کہ اسامہ بن لادن پاکستانی شہریوں کا قاتل ہے اس کے لیے فاتحہ نہیں ہونی چاہیے۔
نیلو فر بختیارنے کہا کہ پاکستان کی فوج وطن کی محافظ ہے اور ایبٹ آباد واقعہ کے بعد ان پر تنقید ہو رہی ہے جو کہ بہت غلط بات ہے۔ وہ ایک موقع پر آبدیدہ ہوگئیں اور کہنے لگیں کہ فوج کے خلاف تنقید کا بھرپور جواب دینا چاہیے۔
انہوں نے کہا کہ انہوں نے فوجی گھرانے میں آنکھ کھولی ہے اور انہیں پتا ہے کہ فوج نے کس قدر اس ملک کی خاطر اپنی جانوں کا نذرانہ دیا ہے۔ انہوں نے فوجی خاندانوں سے تعلق رکھنے والوں پر زور دیا کہ وہ آگے آئیں اور فوج کا دفاع کریں۔







