’ہرغریب خاندان کی انشورنس ہوگی‘

’بینظیر انکم سپورٹ پروگرام سیاسی بنیادوں پر نہیں چلایا جا رہا ہے بلکہ اس کے ذریعے اپوزیشن کے ووٹر بھی مستفید ہوئے ہیں‘
،تصویر کا کیپشن’بینظیر انکم سپورٹ پروگرام سیاسی بنیادوں پر نہیں چلایا جا رہا ہے بلکہ اس کے ذریعے اپوزیشن کے ووٹر بھی مستفید ہوئے ہیں‘

بینظیر انکم سپورٹ پروگرام کی چیئرپرسن فرزانہ راجہ نے کہا ہے کہ اس پرگرام کے تحت ہر غریب خاندان کی ایک لاکھ روپے تک کی لائف انشورنس کی جائے گی۔

اسلام آباد میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ہر خاندان جو اس وقت بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام میں شامل ہے، اسے ایک لاکھ روپے کی لائف انشورنس مہیا کی جائے گی۔

انہوں نے مزید بتایا کہ اگر کسی خاندان کے کمانے والے شخص کی اچانک موت ہو جاتی ہے تو ان کے خاندان کو پندرہ دنوں کے اندر سٹیٹ لائف انشورنس کارپوریشن ایک لاکھ روپے کی رقم ادا کر دے گا تاکہ اس خاندان کی مشکلات قدرے کم ہو سکیں۔ان کے مطابق بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام کے تحت اب تک تقریباً دس لاکھ افراد کو لائف انشورنس دی جا چکی ہے اور مزید بیس لاکھ افراد کو اس کےلیے رجسٹرڈ کیا جا چکا ہے۔

بظیر انکم سپورٹ پروگرام کے بارے میں فرزانہ راجہ نے بتایا کہ جب تین سال پہلے انہیں اس پروگرام کی ذمے داری سونپی گئی تھی اور کہا گیا تھا کہ تقریباً پنتیس لاکھ افراد کو اس پروگرام سے فائدہ پہنچانا ہے تو سمجھ میں نہیں آ رہا تھا کہ ایسا کیسے ممکن ہوگا۔

انہوں نے کہا، ‘آج ہم چالیس لاکھ افراد کی بینظیر انکم سپورٹ پروگرام کے ذریعے مدد کر رہے ہیں اور اس برس تیس جون کے بعد یہ تعداد تقریباً ستر لاکھ تک پہنچ جائے گی۔‘

فرزانہ راجہ کے مطابق غریب لوگوں کو روزگار مہیا کرنے کے لیے وسیلہِ حق پروگرام شروع کیا گیا ہے جس کی اب تک بیس قرعہ اندزیاں ہو چکی ہیں اور اس کے تحت غریب خاندانوں کو کاروبار کےلیے نہ صرف تربیت دی جاتی بلکہ کاروبار بھی شروع کروایا جاتا ہے۔

انہوں صحافیوں کو بتایا کہ اس پروگرام کے تحت ہر سال تقریباً ڈیڑھ لاکھ افراد کو فنی تربیت دی جائے گی اور اس کا مقصد نوجوانوں کی پیشہ وارانہ صلاحیت کو بڑھانا ہے۔

ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ تیس جون تک تقریباً ستر لاکھ افراد کو بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام کے تحت مدد فراہم کی جائے گی اور اگلے مالی سال کےلیے ایک سو ارب روپے درکار ہوں گے۔

انہوں ان خبروں کی بھی سختی سے تردید کی کہ کسی بھی ادارے کا فنڈ بینظیر انکم سپورٹ پروگرام میں استعمال ہو رہا ہے۔

ایک اور سوال کے جواب میں انہوں نے بتایا کہ یہ پروگرام سیاسی بنیادوں پر نہیں چلایا جا رہا ہے بلکہ اس پروگرام کے ذریعے اپوزیشن کے ووٹر بھی مستفید ہوئے ہیں۔