،تصویر کا کیپشنلاہور کے عجائب گھر میں ’فاقہ کش سدھارتھ‘ کا یہ مجسمہ مہاتما گوتم بدھ کے انتقال کے کوئی چھ سات سو برس بعد بنایا گیا۔یہاں اس زمانےکی منظر کشی کی گئی جب وہ محل چھوڑ کر چھ برس تک فاقہ کشی کرتے ہوئے تپسیا یعنی عبادت کرتے رہے۔
،تصویر کا کیپشنبدھا کاخوبصورت جسم ہڈیوں کا ڈھانچہ بن گیا۔ اس سے تاثر ملتا ہے کہ مجسمہ ساز شاید وہیں کہیں موجود تھا جب درخت تلے مہاتما بدھ جوگیانہ استغراق میں بیٹھے تھے۔ماہرین کے مطابق یہ مجسمہ بدھ کہانی کی بہترین ترجمانی ہے۔
،تصویر کا کیپشنروایات کے مطابق فاقہ کشی کے دوران ہی گوتم بدھ کو ابتدائی گیان حاصل ہوا۔وہ سوچتے تھے کہ جسمانی خواہشات سے ماورا ہوکر موت و حیات پر حاوی ہوا جاسکتا ہے۔مجسمہ ساز نے ان کے چہرے پر روحانی تازگی اور آسودگی دکھائی ہے۔
،تصویر کا کیپشنماہرین کا کہناہے اگر اس مجسمے کی آدھ کھلی آنکھوں میں جھانکا جائے تو آج بھی اس میں زندگی کے رنگ دکھائی دیتے ہیں اور کوئی بھی ان آنکھوں پر فدا ہوسکتا ہے۔
،تصویر کا کیپشناس تصویر میں دکھایا گیا ہے کہ سدھارتھ کی پیدائش سے پہلے ان کی والدہ کو خواب میں ایک ہاتھی ان کے جسم میں داخل ہورہا ہے۔نجومیوں نے پیشنگوئی کی کہ ان کے گھر کسی بڑی شخصیت کی پیدائش ہونے والی ہے۔
،تصویر کا کیپشناس ریلیف میں شہزادہ سدھارتھ کی پیدائش دکھائی گئی ہے۔روایات کے مطابق سدھارتھ جو بعد میں مہاتما بدھ بنے اپنی ماں کے پہلوسے پیدا ہوئے تھے۔بدھا دنیاوی پیدائش سے پہلے خداؤں کے ساتھ جنت میں رہتے تھے۔
،تصویر کا کیپشنروایات کے مطابق جب بدھی ستوا (سدھارتھ) پیدا ہوئے تو سات متبرک اشیاء کا بھی جنم ہوا جن میں سے ان کے ملازم چھندک اور گھوڑا کنٹھک شامل تھے۔یہاں پر ان دونوں کی جنم کا منظر دکھایا گیا ہے۔
،تصویر کا کیپشنتخیل میں وہ شہزادہ سدھارتھ دکھایا گیا جس نے ابھی بن واس نہیں لیا۔یہ چھٹی صدی عیسوی کا مجسمہ ہے اور اس میں بدھا کے نقش و نگار مقامی لوگوں جیسے دکھائے گئے ہیں۔
،تصویر کا کیپشنروایت ہے کہ شہزادہ سدھارتھ کی نوجوانی محل میں گذری تھی ایک روز وہ محل سے نکلے تو جنازہ دیکھ کر پریشان ہوگئے اور انہیں پہلی بار پتہ چلاکہ موت بھی کوئی چیز ہوتی ہے اور پھر سو برس کے بوڑھے کی حالت دیکھ کر وہ کانپ گئے اور انہیں علم ہوا کہ ایک وقت بڑھاپا کا بھی ہوتاہے۔ان واقعات نے ان کے دل و دماغ میں ہلچل مچا دی اور وہ فلسفہ موت وحیات میں پھنس کررہ گئے۔ان کا والدہ نے سوچا کہ شادی ان کے مسئلے کا حل ہے۔شادی کے لیےسوئمبر رچایا گیا۔
،تصویر کا کیپشنبدھا اپنے محل سے فرار ہورہے ہیں،ان کا گھوڑا کھنٹک ان کے پاس لایا جارہا تاکہ وہ محلاتی زندگی کو خیر باد کہہ سکیں۔نچلے حصے میں انہیں محل سے نکلتے دکھایا گیاہے۔
،تصویر کا کیپشنکنچک یعنی دولت کے دیوتا کا خیالی مجسمہ
،تصویر کا کیپشناس زمانے میں جب کتابیں لکھنے کا رواج نہیں تھا تو پتھروں پر بنے یہی نقوش تاریخ کو محفوظ کر رہے تھے۔ بدھا کی وفات کا منظر ان کا مردہ جسم بستر پر پڑا ہے۔