سب غازی سب شہید

’سلمان تاثیر نے جو حد پار کی وُہ ہم سب کے اندر موجود ہے‘
،تصویر کا کیپشن’سلمان تاثیر نے جو حد پار کی وُہ ہم سب کے اندر موجود ہے‘
    • مصنف, محمد حنیف
    • عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، کراچی

سلمان تاثیر کی ہلاکت کو افسوس ناک واقعہ قرار دینے والے ٹی وی اینکر اور تجزیہ نگار جھوٹ بولتے ہیں۔

ان میں سے کئی دبے دبے لفظوں میں کھُل کر یہ کہہ چکے ہیں اور کئی یہ لکھ چکے ہیں کہ سلمان تاثیر ناموسِ رسالت پر بیان دے کر ایسی حد پار کر چکے ہیں جس کے دوسری طرف موت ہے۔

وہ موت قادری کے ہاتھ سے آسکتی ہے، محلے کے کِسی مولوی کے ہاتھوں ہوسکتی ہے،ایک بپھرے ہوے ہجوم کے ہاتھوں ہوسکتی ہے، کِسی جج کے قلم سے لکھی جاسکتی ہے۔ یہ موت گورنر کا حفاظتی حِصار توڑ کر اُس تک پہنچ سکتی ہے۔اور جیسا کہ پہلے ہو چکا ہے جیل کی کسی کوٹھڑی میں بھی آسکتی ہے۔

یہ حد کِسی عالِم دین کے فتوے سے مقرر نہیں ہوئی نہ یہ جنرل ضیاء نے مقرر کی تھی نہ ہی سارا قصور مذہبی جماعتوں کا ہے۔ یہ ایمانی لکیر ہم سب کے دِلوں کی اندر کھنچی ہوئی ہے۔

ہمیں آخر اپنے ملک میں دو فیصد سے بھی کم غیر مُسلموں سے اتنا خوف کیوں آتا ہے؟ آخر ہمیں اُس مہربان نبّی کی عزت کے نام پر گلے کاٹنے کا اِتنا شوق کیوں ہے جِس نے ایک قتل کو ساری انسانیت کا قتل قرار دیا تھا۔ آخر غازی عِلم دین شہید کو غازی اور شہید کہہ کر اپنے کونسے ڈر کو چھپا رہے ہیں اور اپنے اندر چھپے کس مجاہد کو دلاسا دے رہے ہیں؟

آخر ہم روزہ رکھنے سے لے کر سورج گرہن کے اسباب جانے کے لیے مفتی منیب الرحمٰن کے پاس کیوں بھاگے بھاگے جاتے ہیں؟

آخر ہمیں کس نے یقین دلایا کہ قوم کی بیٹی ڈاکٹر عافیہ کو بچانے کے لیے قوم کی بیٹی آسیہ کا سر تن سے جدا کرنا ضروری ہے؟

اُسی اِسلام آباد شہر میں جہاں سلمان تاثیر کا قتل ہوا صِرف دو ہفتے پہلے ناموسِ رسالت کانفرنس میں کون کون شامل تھا۔ کیا اُس میں وہ لوگ شامل نہیں تھے جن کے پارٹی منشور میں ہر شیعہ، احمدی، ہندو، یہودی کو قتل کرنے کا عندیہ نہیں دیا گیا۔

کیا ایسے لوگ ہمارے معاشرے میں، میڈیا میں اور سرکاری اداروں میں شامل نہیں ہیں؟ کیا ایسے لوگوں کے ساتھ ہم شادیوں اور مہندیوں میں کھانا نہیں کھاتے؟

سلمان تاثیر نے جو حد پار کی وُہ ہم سب کے اندر موجود ہے۔ کبھی کبھی ہم ڈرتے ہیں کہ ہم نے اس حد کے دوسری طرف تو قدم نہیں رکھ دیا؟ ہمیں اپنا ایمان اتنا کمزور لگتا ہے کہ اُس کی سلامتی کے لیے کسی کو قربانی کا بکرا بنانا ضروری ہے۔

اور اگر ہمارا دِل اِتنا کمزور ہے کہ ہم خود چُھری نہیں چلا سکتے تو چلانے والے کی مدح تو کر سکتے ہیں۔ وہ جو اپنے آپکو لبرل مسلمان سمجھتے ہیں وُہ زیادہ سے زیادہ اپنی ناک پکڑ کر مُنہ دوسری طرف پھیر لیتے ہیں۔ کیا مفکرِ پاکستان علامہ اِقبال نے غازی عِلم دین شہید کے جنازے پر نہیں فرمایا تھا کہ یہ ان پڑھ ہم سے بازی لے گیا؟