توہین رسالت مقدمہ، طالبان کی دھمکی

کالعدم تنظیم تحریک طالبان پاکستان نے دھمکی دی ہے کہ اگر توہین رسالت کی مبینہ مرتکب مسیحی خاتون آسیہ بی بی کے معاملے میں بیرونی دباؤ قبول کیا گیا تو ایسے فیصلے کی بھر پور انداز میں مزاحمت کی جائیگی۔
پنجاب کے ضلع ننکانہ میں ایک عدالت نے مسیحی خاتون آسیہ بی بی کو توہین رسالت قانون کے تحت موت کی سزا سنائی تھی۔ آسیہ بی بی نے اس سزا کو لاہور ہائی کورٹ میں چیلنج کر دیا لیکن گورنر پنجاب نے آسیہ بی بی سے جیل میں ملاقات کی تھی اور ان سے معافی کی درخواست لے کر صدر مملکت سے انہیں معافی دلانے کا وعدہ کیا تھا۔
<link type="page"><caption> آسیہ بی بی کی معافی کا امکان</caption><url href="http://www.bbc.co.uk/urdu/pakistan/2010/11/101120_asia_taseer_si.shtml" platform="highweb"/></link>
عیسائیوں کے مذہبی پیشوا پوپ بینیڈکٹ نے بھی پاکستان سے <link type="page"><caption> آسیہ بی بی کی رہائی کی اپیل</caption><url href="http://www.bbc.co.uk/urdu/pakistan/2010/11/101118_benedict_aasia_ha.shtml" platform="highweb"/></link> کی تھی۔ پوپ بینیڈکٹ نے اپنے ہفتے وار خطاب میں پاکستان سے کہا تھا کہ پاکستان میں عیسائی برادری کو اکثر تشدد اور امتیازی سلوک کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔
تحریک طالبان پاکستان کے نائب امیر اور باجوڑ ایجنسی میں عسکریت پسندوں کے کمانڈر مولوی فقیر محمد نے جمعرات کو کسی نامعلوم مقام سے بی بی سی کو ٹیلی فون کر کے بتایا کہ اگر آسیہ بی بی کے معاملے میں بیرونی دباؤ قبول کیا گیا تو ایسے فیصلے کی مزاحمت کی جائے گی۔
طالبان کمانڈر مولوی فقیر نے کہا کہ پاکستان ایک نظریاتی اسلامی ملک ہے جس کی اپنی مذہبی حدود ہیں اور جس سے کسی بھی صورت روگردانی نہیں کرنی چاہیے۔

انہوں نے مزید بتایا کہ مسیحی عورت کے حوالے سے عدالت سے جو فیصلہ ہوا ہے اس پر عمل درآمد کو یقینی بنایا جائے۔ مولوی فقیر محمد کے مطابق پاکستان پہلے ہی سے اندرونی خلفشار اور مسائل کا شکار ہے اور ایسے میں توہین رسالت کی مرتکب خاتون کو سزا نہ دے کر ملک مزید عدم استحکام کا شکار ہوسکتا ہے۔
طالبان کمانڈر کا کہنا تھا کہ اگر آسیہ بی بی کے معاملے میں بیرونی دباؤ قبول کیا گیا تو اس کے خطرناک نتائج برآمد ہوسکتے ہیں اور طالبان بھی ایسے کسی فیصلے کی بھرپور انداز میں مزاحمت کرینگے۔ تاہم انہوں نے یہ واضح نہیں کیا کہ یہ مزاحمت کس قسم کی ہوگی۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
خیال رہے کہ مولوی فقیر محمد نے کافی عرصہ کے بعد ذرائع ابلاغ کے کسی ادارے سے رابطہ کیا ہے۔







