آخری وقت اشاعت:  جمعرات 7 اکتوبر 2010 ,‭ 15:40 GMT 20:40 PST

کراچی میں خودکش دھماکے، دس ہلاک

اس مواد کو دیکھنے/سننے کے لیے جاوا سکرپٹ آن اور تازہ ترین فلیش پلیئر نصب ہونا چاہئیے

ونڈوز میڈیا یا ریئل پلیئر میں دیکھیں/سنیں

پاکستان کے ساحلی شہر کراچی میں حکام کے مطابق صوفی بزرگ عبداللہ شاہ غازی کے مزار کے احاطے میں دو خودکش حملوں کے نتیجے میں دسں افراد ہلاک اور پچپن سے زائد زخمی ہوگئے ہیں۔

تحریکِ طالبان پاکستان نے ان دھماکوں کی ذمہ داری قبول کر لی ہے۔

کلِک مزاروں اور گدی نشینوں پر حملے

پولیس کے مطابق دونوں دھماکے مزار کے داخلی دروازے پر ہوئے ہیں۔ صوبہ سندھ کے وزیرِ داخلہ ذوالفقار مرزا نے جائے وقوعہ پر موجود صحافیوں کو بتایا کہ دونوں دھماکے خودکش تھے اور حملہ آور مزار کے اندر داخل ہونا چاہتے تھے۔

ان کا کہنا تھا ایک حملہ آور کو مزار کے باہر سکیورٹی بیرئر پر روکا گیا جہاں اس نے خود کو دھماکے سے اڑا لیا۔ ان کا کہنا تھا کہ حکام کو جائے وقوعہ سے دو سر ملے ہیں۔

کراچی کے ایڈیشنل پولیس سرجن ڈاکٹر موسٰی نے بی بی سی اردو کے نامہ نگار ریاض سہیل کو بتایا ہے کہ دھماکے کے بعد سات مکمل لاشیں جبکہ دو سر اور چار ٹانگیں ہسپتال لائی گئی ہیں۔

شہر کے ہسپتالوں میں ہنگامی حالت کا اعلان کر دیا گیا

اس سے قبل وزیرِاعلٰی سندھ کے مشیر جمیل سومرو نے بی بی سی اردو سے بات کرتے ہوئے ہلاکتوں کی تعداد پانچ بتائی تھی۔

دھماکے کے وقت مزار پر جمعرات کی وجہ سے معمول سے زیادہ رش تھا۔ دھماکے کے فوری بعد پولیس اور امدادی کارکنوں نے امدادی کارروائیوں کا آغاز کر دیا اور زخمیوں کو جناح اور سول ہسپتال منتقل کر دیا گیا۔ شہر کے ہسپتالوں میں ہنگامی حالت کا اعلان بھی کر دیا گیا۔

سندھ کے صوبائی وزیر داخلہ ذوالفقار مرزا نے کراچی میں واقع تمام مزاروں کو تین روز کے لیے زائرین کے لیے بند کرنے کا اعلان کیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ سکیورٹی خدشات کی وجہ سے یہ قدم اٹھایا گیا ہے۔

دوسری طرف سنی تحریک کے رہنما نے دھماکوں کی جگہ پر صحافیوں سے بات کرتے ہوئے دھماکوں کی مذمت کی ہے۔ان کا کہنا ہے کہ اگر حکومت لوگوں کی سکیورٹی فراہم نہیں کر سکتی تو بتا دے کہ لوگ اپنی حفاظت خود کریں۔

جناح ہسپتال کے شعبۂ حادثات کی سربراہ ڈاکٹر سیمی جمالی کا کہنا ہے کہ ان دھماکوں کے بعد اب تک ہسپتال میں پینسٹھ سے زائد زخمیوں کو لایا گیا ہے۔ بی بی سی سے بات کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ زخمیوں میں سے متعدد کی حالت تشویشناک ہے۔

تحریکِ طالبان پاکستان کے ایک نائب ترجمان احسان اللہ احسان نے بی بی سی اردو کے دلاور خان وزیر کو فون پر بتایا ہے کہ یہ دھماکے تحریکِ طالبان کا کام ہیں اور وہ ان حملوں کی ذمہ داری قبول کرتے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ بریلوی مسلمان طالبان کے مخلاف ہیں اسی لیے انہیں نشانہ بنایا گیا ہے۔

خیال رہے کہ ماضی میں شدت پسندی کے واقعے کے پیش نظر عبداللہ شاہ غازی کے مزار دو بار بند کیا جا چکا ہے۔

[an error occurred while processing this directive]

BBC © 2014بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔