شمالی وزیرستان:خالد خواجہ کی لاش مل گئی
خالد خواجہ کے اہل خانہ کے بقول وہ قبائلی علاقے میں طالبان پر ایک دستاویزی فلم بنانے کے لیے گئے تھے پاکستان کے قبائلی علاقے شمالی وزیرستان میں حکام کا کہنا ہے کہ بظاہر اغوا کاروں نےخفیہ ایجنسی آئی ایس آئی کے ایک سابق اہلکار خالد خواجہ کوگولیاں مار کر ہلاک کر دیا ہے۔
پولیٹکل انتظامیہ کےایک اہلکار نے بی بی سی کو بتایا کہ ان کی لاش جمعہ کی سہہ پہر میر علی کے جنوب میں سات کلومیٹر کے فاصلے پر واقع کرم کوٹ کے پہاڑی نالے سے ملی ہے۔
اہلکار کے مطابق ان کو سر اور سینے میں گولی مار کر ہلاک کیاگیا ہے۔ اہلکار کا کہنا تھا کہ لاش کے زخموں کو دیکھ کر معلوم ہوتا ہے کہ انھیں تھوڑی دیر پہلے ہی گولیاں مار کر ہلاک کیا گیا ہے۔
<link type="page"><caption> خالد خواجہ کون تھے؟</caption><url href="http://www.bbc.co.uk/urdu/pakistan/2010/04/100430_khalid_khawaja_profile.shtml" platform="highweb"/></link>
<link type="page"><caption> طالبان رہنماؤں کی رہائی کا مطالبہ</caption><url href="http://www.bbc.co.uk/urdu/pakistan/2010/04/100419_kidnap_kahlid_khwaja_video_taleban.shtml" platform="highweb"/></link>
پشاور سے ہمارے نامہ نگار دلاور خان وزیر کا کہنا ہے کہ پولیٹکل انتظامیہ کے اہلکار کے مطابق خالد خواجہ کی لاش کے ساتھ ایک خط بھی ملا ہے جس پر تحریرتھا کہ ’خالد خواجہ امریکہ کے ایجنٹ تھے، اور آئندہ جو کوئی بھی امریکہ کے لیے جاسوسی کرے گا اس کا انجام بھی ان جیسا ہوگا‘۔
اسلام آباد سے ہمارے نامہ نگار ہاروں رشید کا کہنا ہے کہ ایشن ٹائیگرز نامی ایک گروہ کی جانب سے میڈیا کو بھیجے گئے ایک پیغام میں اس ہلاکت کی ذمہ داری قبول کی گئی ہے۔ تنظیم نے اپنے پیغام میں کہا ہے کہ حکومت اور آئی ایس آئی نے ان کےمطالبات کو سنجیدگی سے نہیں لیا لہذا انہیں یہ قدم اٹھانا پڑا ہے۔
خیال رہے کہ خالد خواجہ کے اہل خانہ کے بقول وہ قبائلی علاقے میں طالبان پر ایک دستاویزی فلم بنانے کے لیےگئے تھے۔
رواں سال مارچ کی چھبیس تاریخ کو آئی ایس آئی کے ایک اور سابق اہلکار سلطان عرف کرنل امام کے ہمراہ قبائلی علاقوں کی جانب جاتے ہوئے اغوا کر لیاگیا تھا۔ اس کے چند روز بعد ’ایشین ٹائیگرز‘ نامی ایک نامعلوم تنظیم نے میڈیا کو ای میلز میں اس اغوا کی ذمہ داری قبول کرتے ہوئے ان کے بدلےحکومت سے ملا برادر جیسے چند اہم افغان طالبان کی رہائی کا مطالبہ کیا تھا۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
پچپن سالہ خالد خواجہ کے اس اغواء پر مختلف حلقوں کی جانب سے حیرت کا اظہار کیا جا رہا تھا کیونکہ انہیں بظاہر طالبان کا حامی سمجھا جاتا تھا۔ لیکن اغوا کے چند روز بعد ایک ویڈیو میں خالد خواجہ نے اسلام آباد میں لال مسجد کے واقعے میں خفیہ اداروں کےلیےکام کرنے کا اعتراف کیا تھا۔ تاہم بظاہر یہ بیان دباؤ کے تحت ان سے دلوایا گیا تھا۔
کوہاٹ سے سابق رکن قومی اسمبلی جاوید اقبال پراچہ نے ایک اخباری بیانات میں بتایا تھا کہ انہیں ایشن ٹائیگرز نے اس معاملے میں ثالثی کے لیے کہا تھا تاہم ان کی ہلاکت سے لگتا ہے کہ ان کی کوششیں کوئی زیادہ آگے نہیں بڑھ سکیں ہیں۔ ان کے علاوہ کرک سے سابق ایم این اے مولانا شاہ عبدالعزیز بھی ان کی بازیابی کے لیے کوششیں کر رہے تھے۔
ویڈیو پیغام کے بعد خالد خواجہ کی اہلیہ نے بی بی سی کو بتایا تھا کہ وہ نہیں سمجھتیں انہیں کسی طالبان گروپ نے اغوا کیا ہے۔ ’وہ وہاں طالبان سے متعلق ایک ویڈیو بنانے کے لیے گئے تھے۔ ان کے جانے سے قبل وہاں طالبان سے بات ہوچکی تھی اور وہ ان کی اجازت سے وہاں گئے تھے۔‘







