لکھوی کا مقدمہ، منتقلی کی درخواست مسترد

- مصنف, مناء رانا
- عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، لاہور
لاہور ہائی کورٹ نے ممبئی حملوں میں مبینہ طور پر شریک ملزم ذکی الرحمن لکھوی کا مقدمہ اڈیالہ جیل راولپنڈی سے لاہور منتقل کرنے کی درخواست حکومت کی سکیورٹی فراہم کرنے کی یقین دھانی پر مسترد کر دی ہے۔
کالعدم تنظیم لشکر طیبہ کے مبینہ آپریشنل چیف اور ممبئی حملوں میں مبینہ طور پرملوث ہونے کے ملزم ذکی الرحمن کے وکیل سلطان احمد خواجہ نے لاہور ہائی کورٹ میں درخواست دی تھی کہ دہشتگردی کی خصوصی عدالت ذکی الرحمن لکھوی کیس کی سماعت اڈیالہ جیل راولپنڈی میں ہو رہی ہے اور چونکہ یہ جیل شہر سے باہر ہے اور اس کا راستہ سنسنان ہے اس لیے وکلاء اور گواہان کو جان کا خطرہ ہے۔
درخواست گزار کا مؤقف تھا کہ چونکہ بھارتی سفارت خانہ اسلام آباد میں ہے اس لیے بھارتی ایجنٹ درخواست گزار اور ان کے وکیل کو نقصان پہنچا سکتے ہیں۔
لاہور ہائی کورٹ کے چیف جسٹس خواجہ محمد شریف نے جمعرات کو اس درخواست پر فیصلہ محفوظ کر لیا تھا۔ سلطان احمد خواجہ نے بی بی سی کو بتایا کہ چیف جسٹس نے معلومات لیں ہیں جن کے مطابق لاہور کی جیل میں مقدمہ سننے کے انتظامات نہیں۔
انہوں نے کہا کہ حکومت نے چیف جسٹس لاہور کو یقین دھانی کرائی ہے کہ ہمیں راولپنڈی میں سیکیورٹی فراہم کی جائے گی اس لیے عدالت نے ہماری درخواست منظور نہیں کی۔ انہوں نے کہا کہ عدالت نے حکومت کو ہدایت دی ہے کہ اگر مزید سکیورٹی کی ضرورت پڑے تو وہ بھی فراہم کی جائے۔
ایڈوکیٹ سلطان احمد خواجہ کا کہنا ہے کہ وہ سمجھتے ہیں کہ حکومت کی یقین دھانی کے باوجود ہمیں خطرہ ہے کیونکہ بھارتی حکومت اس سارے معاملے پر نظر رکھ رہی ہے اور ہم نے محسوس کیا ہے کہ اسلام آباد میں بھارتی سفارت خانہ موجود ہے اور را کے ایجنٹ وہاں موجود ہیں اور ہمیں ان سے جان کا خطرہ ہے۔



