منگل باغ کے سر کے قیمت مقرر

منگل باغ
،تصویر کا کیپشنحکومت نے منگل باغ اور ان کے چار ساتھیوں کو گرفتاری میں مدد دینے پرانعام کااعلان کیا ہے
    • مصنف, رفعت اللہ اورکزئی
    • عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، پشاور

حکومت پاکستان نے کالعدم تنظیم لشکر اسلام کے سربراہ منگل باغ ، ان کے چار ساتھیوں اور تحریک طالبان پاکستان خیبر ایجنسی کے ایک کمانڈر کو زندہ یا مردہ پکڑنے میں معاونت پر لاکھوں روپے کے انعامات مقرر کرنے کا اعلان کردیا ہے۔

یہ اعلان حکومت کی طرف سے اخبارات کو جاری کئے گئے ایک اشتہار میں کیا گیا ہے۔

اردو زبان میں جاری کئے گئے اشتہار میں خیبر ایجنسی میں سرگرم مبینہ شدت پسند تنظیم لشکر اسلام کے سربراہ منگل باغ کی سر کی قیمت پچاس لاکھ روپے مقرر کی گئی ہے جبکہ ان کے دیگر تین ساتھیوں سیفور قبیلہ سپاہ ، عدنان قبیلہ بر قمبرخیل اور واحد قبیلہ شلوبرقمبر خیل کو پکڑنے میں معاونت کرنے پر بیس بیس لاکھ روپے کا انعام مقرر کیا گیا ہے۔

اس کے علاوہ اشتہار میں تحریک طالبان پاکستان باڑہ کے ایک کمانڈر مولوی نذیر کو زندہ یا مردہ پکڑنے پر بھی بیس لاکھ روپے کا اعلان کیا گیا ہے۔ یہ اشتہار اتوار کو صوبہ سرحد اور ملک کے قومی اخبارات میں شائع کیا جارہا ہے۔

اشتہار میں کہا گیا ہے کہ ’خیبر ایجنسی میں مندرجہ بالا افراد کی خونی کاروائیوں کی وجہ سے آئے دن بے گناہ مسلمان موت کی وادی میں جا رہے ہیں اور ان کے معصوم بچے یتیم اور بے آسرا ہو رہے ہیں۔ ان سنگدل اور خوف خدا سے عاری لوگوں کی مذموم اور ظالمانہ حرکات نہ صرف آفریدی قوم بلکہ تمام قبائل کی بدنامی کا باعث بن رہی ہیں۔ایسے لوگ یقیناً قاتل انسانیت اور سزا کے حقدار ہیں۔ ان لوگوں کو کیفر کردار تک پہنچانے میں حکومت کا ساتھ دیں۔‘

اشتہار میں کسی کمانڈر کی تصویر نہیں دی گئی ہے۔ اشتہار میں تمام کمانڈروں کے نام ، ولدیت اور قبیلوں کے نام بھی دیئے گئے ہیں ۔

یہ اشتہار ایسے وقت جاری کیا گیا ہے جب خیبر ایجنسی کی تحصیل باڑہ میں گزشتہ چند ہفتوں سے شدت پسندوں تنظیموں کے خلاف فوجی آپریشن جاری ہے۔

ادھر یہ بھی اطلاعات ہیں کہ خیبر ایجنسی کی مقامی انتظامیہ نے اعلان کیا ہے کہ علاقے میں بدستور آپریشن جاری رہے گا اور جو لوگ علاقے سے نقل مکانی کرنا چاہتے ہیں ان کے لیے جلوزئی میں عارضی کمیپ بنائے گئے ہیں جہاں ان کےلیے تمام تر انتظامات کئے گئے ہیں۔

خیال رہے کہ خیبر ایجنسی میں بظاہر چار مبینہ عسکری تنظیمیں سرگرم عمل ہیں جن میں لشکر اسلام، امر بالمعروف و نہی عن المنکر، انصار الااسلام اور تحریک طالبان پاکستان شامل ہیں۔ حکومت کی جانب سے ان تنظیموں پر اغواء برائے تاوان، پاکستانی سکیورٹی فورسز اور نیٹو کو سامان لے جانے والے گاڑیوں پر حملوں کے الزامات لگائے جاتے رہے ہیں۔