طالبان ترجمان مسلم خان گرفتار

- مصنف, عبدالحئی کاکڑ
- عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، پشاور
پاکستانی فوج نے سوات میں طالبان کے ترجمان اور کمانڈر مسلم خان سمیت پانچ طالبان رہنماؤں کو گرفتار کرنے کا دعوٰی کیا ہے۔
پاکستان کے فوجی ترجمان میجر جنرل اطہر عباس نے بی بی سی اردو سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ان طالبان رہنماؤں کو گزشتہ ہفتے ایک کارروائی کے دوران گرفتار کیا گیا۔
<link type="page"><caption> مسلم خان: پی پی پی سے طالبان تک</caption><url href="http://www.bbc.co.uk/urdu/pakistan/2009/09/090911_muslimkhan_profile_rh.shtml" platform="highweb"/></link>
ان کے بقول گرفتار ہونے والوں میں طالبان ترجمان مسلم خان، کمانڈر محمود خان، شموزئی کے کمانڈر فضل غفار عرف مفتی بشیر، چہار باغ کے کمانڈر عبدالرحمن اور مٹہ کے کمانڈر شمشیر کے بھائی سرتاج شامل ہیں۔
فوجی ترجمان نے کہا کہ ان طالبان رہنماؤں کی گرفتاری کے بارے میں اس لیے زیادہ تفصیلات فراہم نہیں کی جا رہی ہیں کیونکہ ان کی نشاندہی پر علاقے میں حساس نوعیت کی مزید کاروائیاں بھی ہو رہی ہیں۔
ادھر پاکستان کے ایک انگریزی اخبار ’دی نیوز‘ نے ان طالبان رہنماؤں کی گرفتاری کے حوالے سے لکھا ہے کہ ان رہنماؤں کو مذاکرات کے دوران حراست میں لیا گیا ہے۔ سلمان نامی ایک شخص نے جو مسلم خان کی غیر حاضری میں خود کوسوات طالبان کا نیا ترجمان ظاہر کرتے ہیں، اخبار کو بتایا ہے امریکہ میں مقیم سوات کے باشندے کمال خان کی ضمانت پر طالبان فوجی حکام سے بات چیت کرنے پر راضی ہوئے تھے مگر اب ان کا طالبان کی پانچ رکنی مذاکرتی ٹیم سے کسی قسم کا کوئی رابطہ نہیں ہو رہا ہے۔

تاہم میجر جنرل اطہر عباس کا کہنا ہے کہ ’یہ بات بالکل غلط ہے۔ دہشت گردوں کیساتھ کسی قسم کے مذاکرات نہیں ہورہے ہیں۔ ان طالبان رہنماؤں کو ایک فوجی کاروائی کے دوران ہی گرفتار کیا گیا ہے‘۔ انہوں نے ان رہنماؤں کی گرفتاری کو طالبان کے لیے بڑا دھچکا قرار دیا۔
یاد رہے کہ حاجی مسلم خان گزشتہ تقریباً ڈھائی سال سے سوات طالبان کی ترجمانی کا فریضہ سر انجام دیتے رہے ہیں جبکہ محمود خان کو اس وقت شہرت ملی جب طالبان نے پچھلے سال سولہ فروری کو صوبہ سرحد کی حکومت کیساتھ امن معاہدہ کیا۔ محمود خان اس پورے عمل میں پیش پیش رہے تھے۔ حکومت نے ان دونوں کی سر کی قیمت ایک ایک کروڑ روپے مقرر کی تھی۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
سوات سے یہ اطلاعات بھی ملی ہیں کہ حاجی آباد کی علاقے میں فوج کی بڑے پیمانے پر نقل و حرکت نظر آئی ہے جہاں پر مقامی لوگوں کے مطابق گزشتہ روز طالبان ایک گروپ کی صورت میں نظر آئے تھے۔ غیر مصدقہ اطلاعات کے مطابق فوج کو طالبان کے اس گروپ میں کسی اہم طالب رہنماء کی موجود گی کا شک ہے۔







