کراچی میں صاف پانی کی چوری

- مصنف, ریاض سہیل
- عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، کراچی
پاکستان کے سب سے بڑا شہر کراچی میں ایک اندازے کے مطابق پچاس لاکھ سے زائد شہری پینے کے پانی سے محروم ہیں۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ شہر کو مہیا کیے جانے والے پانی کا چالیس فیصد چوری ہوجاتا ہے جو بعد میں مہنگے داموں واپس شہریوں کو فروخت کیا جا رہا ہے۔
شہر میں پانی کے کئی رنگ نظر آتے ہیں کچھ علاقوں میں یہ عسکری پانی ہے تو کہیں امیروں کا تو کہیں یہ غریبوں کا پانی ہے۔ جس کے پاس جتنا پیسہ اور اثرو رسوخ ہے اس کے پاس اتنے ہی وافر مقدار میں صاف پانی دستیاب ہے۔
کئی لوگ ایسے ہیں جو پانی کے حصول کے لیےگھنٹوں لائنوں میں اپنی باری کا انتظار کرتے ہیں تو کہیں گھروں کے باہر کئی گھنٹے پانی بہتا نظر آتا ہے۔ شہر کا مرکزی علاقہ مچھر کالونی ہو یا کراچی یونیورسٹی کے قریب جھونپڑیوں میں رہائش پذیر غریب سب پانی کے حصول کے لیے مشکلات کا شکار نظر آتے ہیں۔
مچھر کالونی میں چھ سے سات سو روپے میں پانی کا ٹینکر دستیاب ہے۔ یہاں کئی ایسی دوکانیں بھی ہیں جہاں دس لیٹر پانی پانچ روپے میں فروخت کیا جاتا ہے۔ان دوکانوں نیچے پانی ذخیرہ کرنے کے ٹینک بنائے گئے ہیں۔ کالونی کے رہائشیوں کا کہنا ہے کہ اگر کوئی شخص دو سو روپے ماہانہ کماتا ہے تو اس کے پانی کا خرچہ چالیس سے پچاس روپے ہے۔
کراچی کو پانی کی فراہمی کینجھر جھیل اور حب ڈیم کے ذریعے کی جاتی ہے۔ کینجھر جھیل کے ذریعے یومیہ چھ سو ملین گیلن پانی جبکہ حب ڈیم سے تیس سے پچھہتر ملین گیلن یومیہ پانی کی فراہمی ہوتی ہے۔ حب ڈیم کا دارومدار چونکہ بارش پر ہے اس لیے وہاں سے پانی کی فراہمی میں کمی بیشی ہوتی رہتی ہے۔
لیاری، کیماڑی، ملیر اور گڈاپ ٹاؤن سمیت کئی علاقوں میں پانی کی عدم دستیابی کی شکایت عام ہے۔ غریب بستیوں کی ترقی کے لیے کام کرنے والے ادارے اورنگی پائلٹ پراجیکٹ کی اہلکار پروین رحمان کا کہنا ہے کہ کراچی کا تیس فیصد علاقہ جو پائپ لائن کے آخری سرے پر ہے وہ پانی سے محروم ہیں یہ سب غریب آبادیاں ہیں اور ان کے حصے کا پانی چوری کرکے بیچا جاتا ہے۔
کراچی شہری حکومت کے ناظم مصطفیٰ کمال کا دعویٰ ہے کہ شہر میں پانی کی کوئی کمی نہیں ہے ان کے مطابق اس سے پہلے تینتیس فیصد تقسیم میں لیکیج تھی جسے کم کرکے بارہ فیصد تک لایا گیا ہے آج نوے فیصد علاقوں کے نلکوں میں پانی موجود ہے ۔
کراچی میں پانی کی فروخت ایک منافعع بخش کاروبار بن چکی ہے، یہ پانی منرل واٹر کی بوتلوں ، صاف کیا ہوا پانی اور ٹینکروں کے ذریعے فروخت ہوتا ہے۔مگر سوال یہ ہے کہ ان حضرات کے پاس یہ پانی کہاں سے آتا ہے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
اورنگی پائلٹ پراجیکٹ کی اہلکار پروین رحمان کہتی ہیں یہ پانی مرکزی پائپ لائنوں سے چوری کیا جاتا ہے جو کل پانی کا بیالیس فیصد ہے جس سے یومیہ ایک کروڑ روپے کی آمدنی ہوتی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ مرکزی پائپ لائن میں غیر قانونی طریقے سے کنکشن کیے جاتے ہیں یا سوراخ کر کے پانی ٹینکروں کے ذریعے فروخت کیا جاتا ہے۔
ٹینکر ہائیڈرنٹس سے پانی حاصل کرتے ہیں ، جن میں سے کچھ ہائیڈرنٹس غیر قانونی بھی ہیں۔ کچھ عرصہ قبل تک اس کاروبار میں رینجرز بھی شامل رہی تھی مگر شہری حلقوں کے اعتراضات کے بعد ان سے ہائیڈرنٹس واپس لے لیے گئے۔ سٹی ناظم مصطفیٰ کمال کا کہنا ہے کہ اس وقت رینجرز کے پاس صرف ایک ہائیڈرنٹ ہے جہاں سے وہ اپنی ضروریات کا پانی حاصل کر رہے ہیں۔ان کے مطابق پانی کی چوری میں کمی ہوئی ہے پہلے نو ہزار ٹینکرز تھے اب صرف ستائیس سو ٹینکرز پانی فراہم کر رہے ہیں۔
کراچی میں پانی کے درست استعمال کے لیےعوام میں شعور اور آگاہی کے لیےکام کرنے والے ادارے کراچی واٹر پارٹنرشپ کی سربراہ سیمی کمال کا کہنا ہے جب تک ٹینکر کے ذریعے پانی کی فروخت اور فراہمی کو نہیں روکا جائے گا۔ اس وقت تک تمام لوگوں کو پانی کی فراہمی ممکن نہیں۔
کراچی میں بجلی کی لوڈشیڈنگ سے پانی کی کمی بھی شدت اختیار کرلیتی ہے، اور لوگ گھنٹوں نلکوں سے پانی کے منتظر رہتے ہیں۔ غریب علاقوں میں مرد ملازمتوں پر نکل جاتے ہیں اور پانی بھرنے کی زیادہ تر ذمہ داری خواتین اور بچوں پر عائد ہوتی ہے،۔گھر کے دیگر معاملات کے ساتھ انہیں پانی کے ایک ایک گلاس کا حساب رکھنا پڑتا ہے۔
شہر کے جن علاقوں میں نلکوں کے ذریعے پانی کی فراہمی ہو رہی ہے اس میں بھی اکثریت آلودہ پانی کی ہے جس کی وجہ سے شہر میں پانی سے پیدا ہونے والے بیماریوں میں اضافہ ہو رہا ہے خاص طور پر گرمیوں میں پانی کا استعمال بڑھنے کے ساتھ گیسٹرو کے مریضوں کی تعداد بڑھ جاتی ہے۔ جس کی ایک بڑی وجہ شہر کے کئی علاقوں میں پینے کے پانی کی لائن کا گندے پانی کے نالوں کے قریب یا اندر سے گزرنا ہے۔
گذشتہ دنوں کراچی واٹر اینڈ سیوریج بورڈ کی جانب سے سندھ ہائی کورٹ کو تحریری طور پر آگاہ کیا گیا کہ شہر بھر سے پانی کے پندرہ سو نمونے حاصل کیے گئے جن میں سے پانچ سو آلودہ ہیں۔ شہری حکومت کے ناظم مصطفیٰ کمال کا کہنا ہے کہ جو کنکشن رات کی تاریکی میں غیر قانونی طور پر لگائے جاتے ہیں ان میں لیکیج ہونے کے سبب گندہ پانی شامل ہوجاتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ شہری حکومت پانی اور نکاسی کی لائنوں کو الگ کر رہی ہے۔
کراچی میں آبادی کے اضافے کے ساتھ نئے رہائشی منصوبوں اور صنعتوں کے لیے پانی کی مانگ میں اضافہ ہو رہا ہے ۔سٹی ناظم مصطفیٰ کمال کا کہنا ہے کہ سال دو ہزار گیارہ تک کی ضروریات کا پانی موجود ہے اور اس کے بعد کی ضروریات کے لیے منصوبہ بنا لیا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ سمندر کے پانی کو میٹھا کرنے کے تین منصوبوں پر کام ہورہا ہے جن سے ڈیڑھ سو ملین گیلن یومیہ پانی میسر ہوگا۔
کراچی واٹر پارٹنرشپ کی سربراہ سیمی کمال پانی کی اہمیت اجاگر کرنے کے لیے آج کل گلشنِ اقبال ٹاؤن میں کام کر رہی ہیں جہاں انہوں نے پانی کی حقیقت کے نام سے پمفلٹ پانی کے بلوں کے ساتھ گھروں تک پہنچائے ہیں۔ سیمی کمال کہتی ہیں کہ اگر بجلی یا گیس کا بل نہیں دیں گے تو اگلے روز کنکشن کٹ جائے گا اگر پانی کا بل نہیں دیں گے تو پانی نہیں کٹے گا۔ انہوں نے کہا کہ یہ ٹھیک ہے پانی قدرتی نعمت ہے لوگوں کو ملنا چاہیےمگر اگر پانی سو میل دور سے لایا جارہا ہے اس کا خرچہ کون دے گا۔
ان کے مطابق ہر کسی کو پانی کا بل دینا چاہیے جو دے نہیں دے سکتا ان کو سبسڈی دی جائے یا پانی کے لیے بھی میٹر لگائے جائیں کہ اتنے فیصد پانی مفت ہوگا اس سے زائد جو استعمال کرے گا اسے ادائیگی کرنا پڑے گی تو لوگ احتیاط سے پانی استعمال کریں گے۔ حکام کے مطابق کراچی کی ڈیڑھ کروڑ سے زائد آبادی کے لیے مطلوبہ پانی سے اضافی پانی موجود ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ بدانتظامی اور کرپشن کی وجہ سے لاکھوں لوگ پانی سے محروم ہے اور ان کے حصہ کا پانی ان ہی کو مہنگے داموں فروخت کیا جارہا ہے۔







