’جوہری اثاثے مکمل حفاظت میں ہیں‘

فائل فوٹو ، جوہری پلانٹس
،تصویر کا کیپشنترجمان نے پاکستان کے جوہری پروگرام کے بارے میں عالمی برادری کے خدشات کو بے بنیاد قرار دیا ہے
    • مصنف, شہزاد ملک
    • عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، اسلام آباد

دفتر خارجہ کے ترجمان عبدالباسط نے کہا ہےکہ پاکستان کے جوہری اثاثے مکمل حفاظت میں ہیں اور ان اثاثوں کی حفاظت کے لیے پاکستان کو کسی ملک کے تعاون کی ضرورت نہیں ہے۔

جمعرات کو ہفتہ وار بریفنگ کے دوران ترجمان نے کہا کہ سٹریٹجک ڈائیلاگ کے تحت جوہری پلانٹس کی حفاظت کے لیے امریکہ اور جوہری توانائی کے بین الاقوامی ادارے کے ساتھ تعاون جاری ہے۔

انہوں نے کہا کہ جو ممالک بھارت کے ساتھ جوہری معاہدےکر رہے ہیں اُنہیں اس بات کا احساس ہونا چاہیے کہ اس سے خطے میں عدم استحکام پیدا ہوگا۔انہوں نے کہا کہ دنیا کو بھارت کے ساتھ ایٹمی معاہدے کرتے ہوئے اپنا دوہرا معیار ترک کرنا چاہیے۔

ترجمان نے پاکستان کے جوہری پروگرام کے بارے میں عالمی برادری کے خدشات کو بے بنیاد قرار دیا۔انہوں نے کہا کہ فرانس کے ساتھ سول جوہری تعاون سمیت فریم ورک معاہدے پر مذاکرات جولائی سے شروع ہو گے اور اس بات کا امکان ہے کہ یہ مذاکرات دسمبر تک مکمل ہو جائیں گے۔ عبدالباسط کا کہنا تھا کہ پاکستان کی امداد کے لیے مجوزہ امریکی بل میں ڈاکٹر قدیر خان تک رسائی کی شرط پاکستانی کوششوں کی وجہ سے ختم کی گئی ہے۔ایک سوال کے جواب میں ترجمان نے کہا کہ قبائلی علاقوں میں عسکریت پسندوں کو غیر ملکی عناصر کی طرف سے اسلحہ کی فراہمی کی تحقیقات کی جارہی ہے۔

انہوں نے کہا کہ سوات اور مالاکنڈ میں شدت پسندوں کے خلاف آپریشن کی وجہ سے ان علاقوں سے نقل مکانی کرنے والے افراد کی دوبارہ آبادکاری یا کسی دوسرے علاقے میں امریکی فوجیوں کی تعیناتی کا کوئی امکان موجود نہیں ہے۔

ترجمان نے کہا کہ متاثرین سوات کی بحالی کی امداد کے معاملے پر دفتر خارجہ میں ایک کوارڈینیشن ڈیسک قائم کیا جا رہا ہے۔ بھارت کے ساتھ تعلقات کے حوالے سے دفتر خارجہ کے ترجمان نے اس اُمید کا اظہار کیا کہ بھارت کی نئی حکومت پاکستان کے ساتھ جامع مزاکرات کا عمل دوبارہ شروع کرے گی۔ انھوں نے کہا کہ بھارت کے زیر انتظام کشمیر میں ہونے والے انتخابات کشمیریوں کے حق خودارادیت کا متبادل نہیں ہیں۔

انہوں نے کہا ممبئی حملوں کے متعلق بھارت کی طر ف سے کچھ مذید شواہد بھارت میں تعینات پاکستانی ہائی کمشنر کے حوالے کر دیےگئے ہیں جو کہ وزارت داخلہ کو بھجوا دیےجائیں گے۔