عمران خان: توشہ خانہ ریفرنس میں فیصلے کے بعد چیئرمین تحریک انصاف کا جمعے کو لانگ مارچ کی تاریخ دینے کا اعلان، مگر یہ تاخیر کیوں؟

عمران خان

،تصویر کا ذریعہGetty Images

    • مصنف, عماد خالق
    • عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، اسلام آباد

چیئرمین تحریک انصاف عمران خان نے آئندہ ’جمعرات یا جمعے‘ کو لانگ مارچ کی تاریخ دینے کا اعلان کرتے ہوئے کہا ہے کہ ’اگر منظم احتجاج کا راستہ روکا گیا تو ملک بند ہوجائے گا۔‘

اسلام آباد میں پریس کانفرنس کے دوران ان کا کہنا تھا کہ ’جمعے کو لانگ مارچ کی تاریخ کا اعلان کر دوں گا۔ مجھے پکڑ لیں گے تو کیا لانگ مارچ نہیں ہوگی؟ کیا یہ منظم احتجاج چاہتے ہیں یا یہ چاہتے ہیں کہ ملک سری لنکا کی طرف جائے۔ منظم احتجاج کا راستہ روکا گیا تو ملک بند ہوجائے گا۔۔۔ جمعرات یا جمعے کو اعلان کروں گا۔‘

الیکشن کمیشن کی جانب سے توشہ خانہ ریفرنس میں عمران خان کی نااہلی کا فیصلہ آنے کے بعد یہ توقع کی جا رہی تھی کہ اب پی ٹی آئی بھرپور قوت سے سڑکوں پر سیاسی میدان سجائے گی اور لانگ مارچ کا اعلان ہو گا۔

پی ٹی آئی چیئرمین کے خلاف الیکشن کمیشن کا فیصلہ آنے سے قبل بہت سے پارٹی رہنماؤں نے اپنی پریس کانفرنسز اور سوشل میڈیا پر عمران خان کو اپنی ریڈ لائن قرار دیا تھا۔ ان کی نااہلی کا فیصلہ آنے کے فوری بعد متعدد پی ٹی آئی رہنماؤں نے اپنے کارکنوں اور عوام سے اس فیصلے کے خلاف احتجاج کرنے کا کہا۔

فواد چوہدری نے الیکشن کمیشن کے باہر ہی 'اس نظام کو پلٹنے' کی دھمکی دی تو اسد عمر کا کہنا تھا کہ اس فیصلے کے بعد اب عوام پیچھے ہٹنے کو کسی صورت تیار نہیں ہے۔

مگر پھر پی ٹی آئی نے پارٹی اجلاسوں کے بعد اپنے موقف میں تبدیلی لاتے ہوئے بڑے پیمانے پر ردعمل دینے کی بجائے قانونی راہ اختیار کرنے کا اعلان کیا۔

اس سلسلے میں سنیچر کو عمران خان کی جانب سے ان کے وکیل بیریسٹر علی ظفر نے اسلام آباد ہائی کورٹ میں الیکشن کمیشن کے فیصلے کے خلاف درخواست دائر کر دی ہے۔

مگر جہاں الیکشن کمیشن کے فیصلے کے بعد یہ ابہام رہا کہ عمران خان کی نا اہلی کتنی مدت کی ہے وہیں عوامی حلقوں میں یہ بات بھی زیر بحث رہی کہ پی ٹی آئی کے چیئرمین عمران خان نے جمعے کی شام کو جاری کردہ بیان میں اپنے کارکنان کو احتجاج ختم کرنے کی ہدایت کیوں کی؟

پی ٹی آئی چیئرمین اور سابق عمران خان جنھوں نے ایک جانب اپنے بیان میں کہا کہ 'انھیں میچ سے باہر رکھنے کی کوشش کی جا رہی ہے اور ایسے فیصلے میرا منھ بند کرنے کے لیے دیے جا رہے ہیں۔اور وہ حقیقی آزادی کو سیاست نہیں بلکہ جہاد سمجھتے ہیں' انھوں نے دوسری جانب اپنے لانگ مارچ کی حتمی تاریخ کا اعلان کیوں نہ کیا؟

عمران خان

،تصویر کا ذریعہEPA

پی ٹی آئی کی جانب سے احتجاج کا واضح فیصلہ کیوں نہیں کیا گیا؟

اس سوال کا جواب دیتے ہوئے پی ٹی آئی کے سنیئر رہنما اسد عمر کا کہنا تھا کہ اس سلسلے میں پارٹی کی پالیسی بالکل واضح ہے اور عمران خان اپنے فیصلے خود کرتے ہیں اور کسی اور کے ٹائم ٹیبل کے مطابق وہ فیصلے کرنے کو تیار نہیں۔ ان کی تیاری چل رہی ہے اور وہ اپنے طے شدہ وقت پر ہی لانگ مارچ کریں گے۔ انھیں کسی اشارے یا بات کا انتظار نہیں ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ گذشتہ روز الیکشن کمیشن کا فیصلہ آنے کے بعد پارٹی کے اندر بھی بہت سے ایسے لوگ تھے جنھوں نے عمران خان کو کہا کہ اس وقت عوام اور کارکنان بہت جذباتی ہیں آپ فوراً لانگ مارچ کا اعلان کر دیں مگر عمران خان نے کہا نہیں میں اپنی منصوبہ بندی کے مطابق چلوں گا اور اگر ایسی کو رکاوٹ آتی ہیں تو میں جذباتی ہو کر فیصلہ نہیں کروں گا۔

اسد عمر کا کہنا تھا کہ وہ پہلے ہی کہہ چکے ہیں کہ اکتوبر کے اندر اندر لانگ مارچ کی کال دے دیں گے۔

'ہم حکومت کو وقت دے رہے ہیں'

انھوں نے کہا کہ ہم نے لانگ مارچ کے لیے ایک جامع اور مربوط حکمت عملی ترتیب دے رکھی ہے، اس حوالے سے تمام تیاری ہو چکی ہے کہ اسلام آباد کی جانب کیا معاملہ ہو گا، تنظیموں کا کیا کردار ہو گا۔

انھوں نے کہا کہ گذشتہ روز جو فیصلہ سامنے آیا اس میں ہم جلدبازی میں کوئی ایسا قدم نہیں اٹھانا چاہتے تھےجس سے لانگ مارچ کے اصل مقصد کو نقصان پہنچتا۔

ان کا کہنا تھا کہ کل ملک بھر میں جو عوامی ردعمل سامنے آیا وہ پارٹی کی کال نہیں تھی اور گذشتہ روز کے ردعمل کے بعد پارٹی میں چند افراد کی رائے تھی کہ اس ردعمل کو بڑھاوا دیا جائے مگر پارٹی کے کور گروپ کا خیال تھا کہ لانگ مارچ کا اعلان اپنے وقت اور منصوبے کے مطابق کیا جائے۔

'عمران خان کس کے خلاف لانگ مارچ کریں گے'

سنیئر صحافی و تجزیہ کار مظہر عباس نے مقامی میڈیا میں پس پردہ مذاکرات کے متعلق شائع ہونے والی ایک خبر کا حوالہ دیتے ہوئے تبصرہ کیا کہ اگر پی ٹی آئی اور حکومت کے درمیان مذاکرات کی خبر درست ہے تو شاید عمران خان لانگ مارچ کا اعلان کرنے میں اس لیے احتیاط برت رہے ہیں کیونکہ وہ ان کے مذاکرات کے نتیجے کا انتظار کرنا چاہتے ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ وہ لانگ مارچ کا ہوا ضرور بنا رہے ہیں مگر وہ اس سے گریز اس لیے کر رہے ہیں کیونکہ وہ لانگ مارچ کس کے خلاف کریں گے۔ اگر ان کے اور اسٹیبلشمنٹ کے درمیان ڈیڈ لاک برقرار ہے تو عمران خان اس پر فیصلہ نہیں کر پا رہے کہ وہ لانگ مارچ کو کس نہج پر لے جائیں گے۔ کیونکہ اگر لانگ مارچ کے مطلوبہ نتائج حاصل نہ ہوئے تو پارٹی اور ورکر میں بہت زیادہ مایوسی پھیل جاتی ہے۔ ایسے میں حکومت پر دباؤ بنائے رکھنا اور لانگ مارچ کا بھرم قائم رکھنا ان کے حق میں ہے۔

عمران خان

،تصویر کا ذریعہGetty Images

حکومت کے ساتھ مذاکرات کی حقیقت کیا ہے؟

مقامی میڈیا پر چلنے والوں خبروں میں پس پردہ مذاکرات اور پی ٹی آئی کی جانب سے لچک اور مفاہمت کی پالیسی اختیار کرنے کے سوال پر پی ٹی آئی رہنما اسد عمر کے کہا کہ حکومت کے ساتھ کوئی مذاکرات نہیں ہو رہے اور نہ ہی کوئی مذاکراتی ٹیمیں ہیں۔ البتہ مسلم لیگ ن اور پیپلز پارٹی سمیت دیگر جماعتوں کے رہنماؤں سے انفرادی حیثیت پر تبادلہ خیال ہوتا رہتا ہے۔ مگر کسی بھی طرح کے کوئی مذاکرات نہیں ہو رہے۔

پی ٹی آئی رہنما فواد چوہدری کا مزید کہنا تھا کہ'لانگ مارچ کا اعلان جلد ہو گا، ہم حکومت کو وقت دے رہے ہیں کہ وہ ہوش کے ناخن لے۔ حکومت لاکھوں لوگوں کو سنبھال نہیں سکے گی۔'

پی ٹی آئی

،تصویر کا ذریعہGetty Images

فواد چوہدری کا کہنا تھا کہ 'ہم ملک کو سری لنکا جیسی صورتحال سے دوچار نہیں کرنا چاہتے۔'

’عمران خان ملک بھر کے واحد مقبول لیڈر ہیں اور لاکھوں کی تعداد میں عوام ان کی ایک کال پر باہر نکلیں گے۔ مگر ملک کی معاشی صورتحال کے پیش نظر ہم حکومت کو وقت دے رہے ہے اس کو مفاہمت نہیں کہا جا سکتا۔ اب تک حکومت نے ہمارے صبر کا مثبت طریقے سے جواب نہیں دیا۔ ‘

ان کا کہنا تھا کہ 'عمران خان کو نہ کسی اشارے کا انتظار ہے نہ ضرورت، اور اگر شہباز شریف نے اکتوبر کے آخر تک انتخابات کی تاریخ کا اعلان نہ کیا تو ہم ملک گیر سطح پر احتجاج اور لانگ مارچ کا اعلان کر دیں گے۔'

اس حوالے سے بات کرتے ہوئے تـجزیہ کار مظہر عباس کا کہنا تھا کہ حالیہ ہفتوں کے دوران کہیں نہ کہیں کچھ برف تو پگھلی نظر آ رہی ہے کیونکہ فواد چوہدری کا گذشتہ دنوں یہ بیان بھی سامنے آیا کہ اگر حکومت قبل از وقت انتخابات کا اعلان کر دے تو بات چیت کرنے کو تیار ہیں جبکہ حال ہی میں حکومت کی جانب سے مذاکرات کے لیے بیٹھنے کی بات کی گئی ہے۔

انھوں نے جنگ اخبار میں شائع ہونے والی خبر کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ اگر یہ درست ہے تو یقیناً پی ٹی آئی اور اتحادی حکومت اپنے اپنے تحفظات پر کچھ بات کر رہے ہیں اور ان کے درمیان کوئی ضامن بیٹھیں ہیں۔

واضح رہے کے پاکستان کے مقامی میڈیا پر گذشتہ کئی روز سے حکومت اور پی ٹی آئی کے درمیان پس پردہ ملاقاتوں کی خبریں چل رہی ہیں اور اس بارے میں حکومت ارکان اور پی ٹی آئی رہنما بھی بات کرتے رہے ہیں۔

عمران خان قبل از وقت الیکشن کروانے کے لیے زور دے رہے ہیں تو پی ڈی ایم کی قیادت اپنی حکومت کی مدت مکمل کرنے پر اصرار کر رہی ہے۔

عمران خان

،تصویر کا ذریعہGetty Images

لانگ مارچ میں تاخیر سے سیاسی طور پر نقصان ہو گا؟

کیا لانگ مارچ جس پر عمران خان خود کئی مرتبہ بات کر چکے، میں تاخیر سیاسی نقصان کا باعث بنے گی کے سوال کے جواب میں اسد عمر کا کہنا تھا کہ عمران خان کی سیاسی حکمت عملی کی کامیابی کا نتیجہ تو گذشتہ اتوار ہی ضمنی انتخابات کے نتائج میں سامنے آ گیا تھا جب گیارہ نشستوں میں سے تحریک انصاف نے آٹھ سیٹیں یعنی 75 فیصد کامیابی حاصل کر لی۔

تحریک انصاف کو کوئی سیاسی نقصان نہیں ہو رہا اور نہ ہو گا کیونکہ اب تحریک انصاف کا ووٹر اور کارکن بھی سیاسی طور پر باشعور ہے اور سمجھتا ہے کہ عمران خان جذباتی ہو کر نہیں بلکہ دلیری، بہادری اور حکمت سے فیصلے کریں گے۔

فواد چوہدری نے بھی ضمنی انتخابات کے نتائج کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ عمران خان پاکستان کے سب سے مقبول لیڈر ہیں اور پارٹی کو کسی سیاسی نقصان کا اندیشہ نہیں ہے بلکہ حکومت اس وقت ہونے والے سیاسی نقصان سے خوفزدہ ہے اور اس لیے انتخابات کی تاریخ نہیں دے رہی۔

اس سوال کے جواب میں تجزیہ کار مظہر عباس کا کہنا تھا کہ عمران خان اپنے بیانات بدلتے رہتے ہیں مگر عمران خان چاہتے ہیں کہ وہ اسلام آباد ہائیکورٹ سے الیکشن کمیشن کے فیصلے کو چیلنج کرنے کے فیصلے کا انتظار کر لیں۔

دوسرا الیکشن کمیشن کے فیصلے سے یہ واضح ہے کہ عمران خان کی نا اہلی صرف اس مدت کے لیے ہے اور آئندہ انتخابات میں وہ حصہ لے سکے گے تو وہ اس بارے میں پریشان نہیں۔ مگر اگر الیکشن کمیشن کے فیصلے کے مطابق اگر کوئی فوجداری کی کارروائی ہوتی ہے تو وہ اس بیانیے کو بھی اپنے حق میں استعمال کریں گے۔