پاکستان میں شمسی ذرائع سے بجلی کی زیادہ پیداوار کیوں نہ کی جا سکی؟

،تصویر کا ذریعہGetty Images
- مصنف, تنویر ملک
- عہدہ, صحافی، کراچی
وزیر اعظم شہباز شریف نے ملک میں شمسی توانائی سے بجلی پیدا کرنے کے منصوبے پر عملدرآمد کی منظوری دیتے ہوئے اس کی جلد تعمیر کی ہدایت کی ہے۔ وزیرا عظم کے اعلان کے مطابق ملک میں دس ہزار میگا واٹ بجلی شمسی توانائی کے ذرائع سے حاصل کی جائے گی۔
وزیر اعظم کی جانب سے یہ اعلان ملک میں مہنگے درآمدی ایندھن کی بجائے سستے ذرائع سے بجلی پیدا کرنے کے منصوبے کا حصہ ہے۔
پاکستان میں درآمدی فرنس آئل، کوئلے اور آر ایل این جی سے بنائی جانے والی بجلی اس وقت ملک میں انرجی مکس کا 60 فیصد ہے اور عالمی مارکیٹ میں ان تینوں کی قیمتوں میں بے تحاشا اضافے سے پاکستان میں بجلی بنانے کی لاگت میں اضافہ ہوا جسے فیول ایڈجسٹمنٹ کی مد میں صارفین سے وصول کیا جاتا ہے۔
جولائی اور اگست میں فیول ایڈجسٹمنٹ کی زیادہ لاگت کی وجہ سے بجلی کے بل بہت زیادہ آئے جس کی وجہ سے حکومت کو تنقید کا نشانہ بننا پڑا۔
توانائی کے شعبے کے ماہرین ملک میں قابل تجدید توانائی کے ذرائع سے بجلی پیدا کرنے کی ضرورت پر زور دیتے ہیں جس میں شمسی اور ونڈ پاور شامل ہیں۔ تاہم پاکستان میں ان دونوں ذرائع سے بجلی پیدا کرنے میں ملک کو کوئی خاطر خواہ کامیابی نہیں ملی۔
ملک میں شمسی توانائی سے پیدا ہونے والی بجلی کا ملک کی مجموعی بجلی کی پیداوار میں حصہ نہ ہونے کے برابر ہے۔ نیشنل گرڈ میں ڈالی جانے والی شمسی بجلی کے علاوہ انفرادی طور پر پاکستان میں گھریلو اور زراعت کے شعبے میں سولر پینلز سے بجلی پیدا کی جاتی ہے تاہم اس کا ملکی کی مجموعی توانائی کی ضروریات پوری کرنے میں بھی حصہ نہ ہونے کے برابر ہے۔
ماہرین شمسی توانائی کے شعبے میں کوئی قابل ذکر پیشرفت نہ ہونے کی وجہ حکومتی سطح پر پالیسی میں عدم تسلسل کو قرار دیتے ہیں۔
ان کے مطابق اگر پاکستان میں موجود شمسی توانائی کے پوٹینشل کے صرف 0.07 فیصد کو قابل استعمال بنا لیا جائے تو یہ ملک کی توانائی کی ضرورت کو پورا کر سکتا ہے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی

،تصویر کا ذریعہAFP
پاکستان میں شمسی توانائی کی پیداوار کی موجودہ صورتحال
پاکستان میں شمسی توانائی کی پیداوار ملک کی بجلی کی پیداوار میں نہ ہونے کے برابر ہے۔ ملک میں بجلی کے نظام یعنی نیشنل گرڈ میں صرف 430 میگاواٹ شمسی توانائی فراہم کی جاتی ہے۔
اس وقت پاکستان میں پیک سیزن میں 26000 سے 27000 میگاواٹ بجلی کی ضرورت ہے جبکہ ملک میں بجلی کی پیداوار اٹھارہ سے انیس ہزار میگاواٹ ہے۔ طلب اور رسد میں فرق کی وجہ سے تقریباً پورا پاکستان بجلی لوڈشیڈنگ کا شکار ہے۔
حکومتی ادارے الٹرنیٹ انرجی ڈویلپمنٹ بورڈ یعنی قابل تجدید توانائی کے ترقیاتی ادارے کی فراہم کردہ معلومات کے مطابق ملک میں چار سو میگا واٹ شمسی توانائی قائد اعظم سولر پاور پارک میں لگے چار پراجیکٹس سے نیشنل گرڈ میں فراہم کی جا رہی ہے۔ اس کے علاوہ تیس میگاواٹ کے دو اور چھوٹے منصوبوں سے شمسی توانائی حاصل کی جاتی ہے۔
حکومت کی قابل تجدید توانائی پالیسی 2019 کے مطابق، جس میں شمسی اور ہوا سے بجلی پیدا کرنے والے ذرائع شامل ہیں، 2025 تک 25 فیصد بجلی ان ذرائع سے حاصل کی جائے گی اور 2030 تک اس کی شرح 30 فیصد تک کرنے کا ہدف مقرر کیا گیا ہے۔
قابل تجدید توانائی شعبے کی ماہر ہنیہ اسعاد نے بتایا کہ ان چار سو میگا واٹ کے علاوہ سو میگا واٹ کے الیکٹرک شمسی توانائی سے حاصل کرتا ہے تاہم وہ نیشنل گرڈ میں شامل نہیں ہوتا۔ انھوں نے کہا کہ ملک میں قائد اعظم سولر پاور چین پاکستان اقتصادی راہداری کے تحت لگایا گیا۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
شمسی توانائی کے شعبے میں رکاوٹیں درپیش رہیں
پاکستان میں سولر پاور کے شعبے میں پیش رفت نہ ہونے کے بارے میں ہنیہ اسعاد کا کہنا ہے کہ پاکستان میں شمسی توانائی کا بے پناہ پوٹینشل موجود ہے۔ ’پاکستان کے بہت بڑے حصے میں سورج کی روشنی پورا سال موجود ہوتی ہے۔‘
انھوں نے کہا کہ ملک میں شمسی توانائی کے شعبے میں ترقی نہ ہونے کی سب سے بڑی وجہ حکومتی سطح پر پالیسی میں تسلسل نہ ہونا ہے۔ ’اس کی وجہ سے اس شعبے میں سرمایہ کاری نہ ہو سکی اور نہ ہی اس کے بے تحاشا پوٹینشل کو ابھی تک قابل عمل بنایا جا سکا ہے۔‘
پائیدار ترقی کی پالیسی کے ادارے (ایس ڈی پی آئی) میں ریسرچ فیلو اور انرجی شعبے کی ہیڈ ڈاکٹر حنا اسلم نے اس حوالے سے بتایا کہ شمسی توانائی کے شعبے کی ترقی میں سے بڑی رکاوٹ ریگولیٹری مشکلات اور بیوروکریٹک رکاوٹیں ہیں۔ ملک میں بجلی کا نیشنل گرڈ سولر ٹیکنالوجی سے مطابقت بھی نہیں رکھتا۔
انھوں نے کہا کہ سولر ٹیکنالوجی میں ترقی بھی ملک میں اس شعبے میں کسی پیشرفت کے سلسلے میں بڑی رکاوٹ ہے۔ ’ملک میں سولر آلات کی لوکلائزیشن پر بھی کوئی کام نہیں ہوا جس کی وجہ سے مقامی طور پر ان کی تیاری کے ذریعے اس شعبے کو ترقی دینے میں کوئی پیش رفت نہیں ہو سکی۔‘
انھوں نے کہا کہ سولر کے شعبے کی ٹیرف پالیسی پر نظر ثانی کی ضرورت ہے تاکہ اس کے ذریعے اس شعبے میں زیادہ سرمایہ کاری کو ملک میں لایا جا سکے۔
قابل تجدید توانائی یعنی رینیو ایبل انرجی ڈویپلرز کے مصطفیٰ امجد کا کہنا ہے کہ قابل تجدید توانائی پالیسی پہلی بار 2002 میں متعارف کرائی گئی تاہم اس پر کوئی خاص پیش رفت نہ ہو سکی۔
’شمسی توانائی کے شعبے میں سب سے بڑی رکاوٹ تو اس کا حکومتی ترجیحات میں شامل نہ ہونا رہا ہے۔ مثلاً گذشتہ حکومتوں میں جب گیس سستی تھی تو زیادہ تر پلانٹ گیس پر لگائے گئے اور ان سے بجلی کی ضرورت پوری کی گئی۔ حکومتوں کی جانب سے شمسی توانائی کے ذریعے کو پس پشت ڈال دیا گیا۔‘
یہ بھی پڑھیے
ان کا مزید کہنا ہے کہ اسی طرح جب سی پیک کے تحت قائد اعظم سولر پارک بنایا گیا تو منصوبے کی ورکنگ اتنی اچھی نہیں تھی اور نہ ہی اس میں سارے پہلوؤں کو مد نظر رکھا گیا جس کی وجہ سے اس کی آؤٹ پٹ کم رہی۔
ان کا کہنا ہے کہ اس منصوبے سے 1000 میگا واٹ بجلی پیدا کرنے کا پلان تھا تاہم اس سے چار سو میگاواٹ پیدا کیا جا رہا ہے جس کی وجہ یہ ہے کہ یہاں یہ منصوبہ لگایا گیا وہاں گرد و آلود سے انھیں محفوظ رکھنے کا خیال نہیں رکھا گیا۔ ’اس کی بجلی پیدا کرنے کی استعداد مطلوبہ سطح تک نہ پہنچ سکی۔‘
مصطفیٰ نے بتایا کہ شمسی توانائی کے سلسلے میں جو اب تک بڑی رکاوٹ سامنے آئی ہے وہ حکومت کی جانب سے اس کے پلانٹ لگانے کے لیے آکشن کا پراسس متعارف کرانا تھا تاہم اس کے لیے قواعد و ضوابط ابھی تک جاری نہیں کیے جا سکے جس کی وجہ اس سلسلے میں پیش رفت نہ ہوسکی۔
ان کا کہنا ہے کہ شمسی توانائی کے منصوبے میں آکشن طریقہ کار میں کمپنیوں سے بڈز طلب کی جاتی ہیں کہ وہ اتنی بجلی پیدا کریں گی جو حکومت لے گی۔ تاہم ان کا کہنا ہے کہ اس سلسلے میں قواعد کو ابھی تک نہیں طے نہیں کیا جا سکا جس کی وجہ سے اس شعبے میں پیش رفت نہیں ہو رہی۔
کیا دس ہزار میگا واٹ شمسی بجلی کا منصوبہ قابل عمل ہے؟

،تصویر کا ذریعہGetty Images
وزیر اعظم پاکستان کی جانب سے ملک میں دس ہزار میگا واٹ شمسی بجلی پیدا کرنے کے منصوبے کو اگلی گرمیوں سے پہلے مکمل کرنے کی ہدایت کی گئی ہے۔ ان کے اعلان کے مطابق حکومت کے دفاتر اور ٹیوب ویل کو شمسی توانائی پر منتقل کیا جائے گا۔
مصطفیٰ امجد نے کہا کہ وزیر اعظم کے اعلان سے ظاہر ہوتا ہے کہ اس دس ہزار میگاواٹ میں آف گرڈ اور آن گرڈ شمسی بجلی شامل ہے یعنی ایک طرف منصوبے لگا کر ان سے شمسی توانائی حاصل کر کے اسے نینشل گرڈ میں ڈالنا ہے۔ جبکہ دوسری جانب ٹیوب ویلز، دفاتر اور گھروں کو شمسی توانائی پر منتقل کرنا ہے جس کا نیشنل گرڈ سے کوئی واسطہ نہیں ۔
ان کا کہنا ہے کہ ویسے تو آئی جی سی ای پی پالیسی 2021 کے مطابق بجلی پیدا کرنے کے لیے حکومت کی جانب سے ایک نمبر دیا جاتا ہے کہ جس کے تحت اتنی بجلی پیدا کی جائے گی، تاہم دس ہزار میگا واٹ کے اس منصوبے میں آف گرڈ اور آن گرڈ دونوں طرح کی شمسی توانائی شامل ہے۔
حکومت کی جانب سے ملک میں شمسی توانائی کے فروغ کے لیے سولر پینلز کی درآمد پر ٹیکس پر چھوٹ ہے۔
مصطفیٰ امجد نے کہا کہ بظاہر لگتا یہی ہے کہ یہ ایک بیان دے دیا گیا ہے تاہم دس ہزار میگاواٹ بجلی کے شمسی توانائی کے منصوبے کو مکمل کرنے کے لیے کافی محنت کرنا پڑے گی کیونکہ آن گرڈ شمسی توانائی کے آکشن کے قواعد کو ابھی حتمی صورت نہیں دی جا سکی ہے۔












