ممنوعہ فنڈنگ پر الیکشن کمیشن کا فیصلہ اور پانچ سوالات

عمران خان

،تصویر کا ذریعہAFP

    • مصنف, عزیز اللہ خان
    • عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، پشاور

ممنوعہ فنڈنگ کے بارے میں الیکشن کمیشن کے فیصلے کے بعد پاکستان تحریک انصاف اور عمران خان کو اس وقت ایک مشکل صورتحال کا سامنا ہے جہاں ایک طرف حکومتی عہدیداروں نے سخت تنقید کرنی شروع کر دی ہے وہاں عام شہری بھی ذہنی الجھن کا شکار ہو گئے ہیں۔

اس بارے میں قانونی ماہرین اپنے اپنے طور پر اس فیصلے کی تشریح کر رہے ہیں بعض کے نزدیک اس فیصلے کا کوئی اثر نہیں ہوگا اوریہ صرف شو کاز نوٹس تک ہے اور زیادہ سے زیادہ فنڈز ضبط ہو سکتے ہیں۔

لیکن دوسری جانب ایسے ماہرین بھی ہیں جو اس فیصلے کو ایک بڑا فیصلہ سمجھتے ہیں جس کی بنیاد پر سخت فیصلے ہو سکتے ہیں۔

موجودہ صورتحال میں پاکستان تحریک انصاف کے سپورٹرز اس کشمکش کا شکار نظر آتے ہیں۔

الیکشن کمیشن نے یہ فیصلہ کس قانون کے تحت سنایا ہے اور اس میں کیا دکھایا گیا ہے، جماعت اور جماعت کے سربراہ پر الزام کیا تھا، کیا بیرون ملک سے فنڈ لینا جرم ہے ، اور کیا عمران خان اور ان کی جماعت نے جھوٹ بولا ہے؟

اس فیصلے کے بعد اب کیا صورتحال ہے ، کیا عمران خان صادق اور امین نہیں رہے یا وہ اب بد عنوان ہو گئے ہیں، عمران خان کا سیاسی مستقبل کیا ہوگا، فارن فنڈنگ کیا ہے اور یہ جرم کیوں ہے ایسے ہی متعدد سوالات سامنے آ رہے ہیں۔ انہی سوالات کے بارے میں سوشل میڈیا کے مختلف پلیٹ فارمز پر بحث بھی ہو رہی ہے۔

یہ قانون کیا ہے؟

پاکستان کے پولیٹکل پارٹیز آرڈر 2002 اور الیکشن ایکٹ 2017 کے سیکشن 204 کو دیکھیں تو اس میں فارن فنڈنگ یا بیرونی ممنوعہ فنڈنگ کا ذکر ہے۔

الیکشن کمیشن

،تصویر کا ذریعہGetty Images

اس قانون میں کہا گیا ہے کہ کوئی بھی شراکت داری یا چندہ براہ راست یا بالواسطہ طور پر کسی بھی غیر ملکی ذریعے سے ہو چاہے وہ کسی بیرونی ملک سے ہو ، کسی ملٹی نینشل پبلک یا پرائیویٹ کمپنی، کوئی پروفیشنل ادراہ یا انفرادی طور ممنوعہ فنڈنگ ہو گی۔ اس میں مزید کہا گیا ہے کہ اگر ممنوعہ فنڈنگ ہو تو اس کو بحق سرکار ضبط کیا جا سکتا ہے۔

پاکستان میں پارلیمانی ترقی کے لیے کام کرنے والے ادارے پلڈیٹ کے سربراہ احمد بلال محبوب نے بی بی سی کو بتایا کہ جس قانون کے تحت یہ ممنوعہ فنڈنگ کی کارروائی ہو رہی تھی اس کے تحت کمیشن نے اس کی صرف تحقیق کرنی تھی کہ آیا ممنوعہ فنڈنگ ہوئی ہے یا نہیں اور کمیشن نے فیصلہ دے دیا ہے کہ ممنوعہ فنڈنگ ثابت ہوئی ہے اور اس کے لیے انھوں نے شواہد ظاہر کیے ہیں اور اب شو کاز نوٹس دیا جائے گا اور پی ٹی آئی اس کا جواب دے گی اور اگر کمیشن مطمئن نہ ہوا تو یہ فنڈز بحق سرکار ضبط کر دیے جائیں گے۔

قانونی ماہرین کا کہنا ہے کہ الیکشن کمیشن نے جو فیصلہ سنایا ہے وہ ممنوعہ فنڈنگ کا ہے۔

ممتاز قانون دان ریاست آزاد ایڈؤوکیٹ نے بی بی سی کو بتایا کہ اس ممنوعہ فنڈنگ کے بارے میں جماعت کے سربراہ کی جانب سے ایک سرٹیفیکیٹ دیا گیا ہے جس پر جماعت کا سربراہ دستخط کرتا ہے اور عام طور پر یہ سرٹیفیکیٹ جماعت کے عملے سے ایک عہدیدارکی جانب سے تیار کیا جاتا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ عام سرٹیفیکیٹ ہے کوئی حلف نامہ نہیں ہے جس کی بنیاد پر کسی کے صادق اور امین کا فیصلہ کیا جا سکے۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر یہ حلف نامہ ہوتا تو اس کو پھر مختلف تناظر میں دیکھا جاتا ہے۔

اس بارے میں سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن کے سابق صدر لطیف آفریدی ایڈووکیٹ نے بتایا کہ الیکشن ایکٹ 2017 کے مطابق جرم ثابت ہوا ہے سٹیٹ بینک اور دیگر اداروں میں فنڈنگ کے شواہد الیکشن کمیشن کو پیش کیے گئے ہیں اور اس کا فیصلہ تین سے چار ماہ میں ہو سکتا تھا لیکن اس کو آٹھ سال تک طول دیا گیا ہے اور اس کی وجہ پی ٹی ائی کی جانب سے تاخیری حربے تھے۔

انھوں نے کہا کہ `اس بارے میں الیکشن کمیشن نے قانون کے مطابق کارروائی کی ہے حالانکہ پی ٹی آئی کی جانب سے کمیشن پر بھر پور دباؤ بھی ڈالا گیا تھا۔ `

کیا الیکشن کمیشن نے اپنے فیصلے میں عمران خان کو بدعنوان قرار دیا ہے؟

اس بارے میں مختلف آرا سامنے آئی ہیں۔ اگرچہ سوشل میڈیا پر اس بارے میں بحث ہو رہی ہے جس میں لوگ یہ کہہ رہے ہیں کہ سب سیاستدان ایک جیسے ہوتے ہیں لیکن ماہرین کی رائے اس سے قدرے مختلف ہے۔

سینیئر صحافی اور تجزیہ کار زاہد حسین نے بی بی سی کو بتایا کہ `ایسا ہر گز نہیں ہے کہ اس فیصلے کی رو سے کسی کو بد عنوان قرار دیا جائے یہ صرف ایک ممنوعہ فنڈنگ کا کیس تھا ہاں ایک بے قاعدگی ہوئی ہے اور اس کے لیے قانون میں سب کچھ بیان کیا گیا ہے پارٹی یا پارٹی سربراہ نے ایسا کیا کیا ہے کہ بد عنوانی کا ٹھپہ لگا دیا جائے۔‘

اس بارے میں لطیف آفریدی ایڈووکیٹ کا سخت موقف تھا اور ان کا کہنا تھا کہ جو سرٹیفیکیٹ پیش کیے گئے اس میں جھوٹ واضح ہوا ہے اور اس کے علاوہ بھی الیکشن کمیشن کے پاس ایسے شواہد ہیں جس سے ممنوعہ فنڈنگ ثابت ہوئی ہے۔

انھوں نے کہا کہ `جب پارٹی سربراہ جھوٹے سرٹیفیکیٹ پیش کریں تو وہ صادق اور امین کیسے ہو سکتے ہیں۔‘

ان سے جب کہا گیا کہ پی ٹی آئی کے رہنماؤں کا کہنا ہے کہ یہ مقدمہ بد نیتی کی بنیاد پر تھا اور یہ کہ یک طرفہ تھا تو ان کا کہنا تھا کہ ایسا نہیں ہے اس کا فیصلہ روکے رکھا گیا حالانکہ کمیشن کو دستیاب شواہد میں یہ تین سے چار ماہ میں فیصلہ ہو سکتا تھا۔

ممتاز قانون دان ریاست آزاد ایڈووکیٹ کا کہنا تھا کہ ایسا کچھ نہیں ہے، اس وقت حکومت اور پی ڈی ایم کے قائدین نے ایک پریشر بنایا ہوا ہے قانون کے تحت نہ تو یہ بد عنوانی کے زمرے میں آتا ہے اور ناں ہی اس کی کوئی ایسی سزا ہو سکتی ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ `اگر حکومت کسی جماعت پر پابندی لگانا چاہے تو وہ کسی بھی ایشو پر کوئی نا کوئی جواز بنا سکتی ہے اور اس کے بغیر بھی سپریم کورٹ میں شواہد اور ایسے دستاویز پیش کر سکتی ہے کہ فلاں جماعت پر پابندی عائد کر دی جائے لیکن اس کے بعد پھر سپریم کورٹ اس بارے میں سماعت کرتی ہے اور دستیاب شواہد اور ان کی حقیقت کو پرکھ کر فیصلہ کرتی ہے۔

اگر الیکشن ایکٹ 2017 کو دیکھا جائے تو اس میں بھی ایسی کوئی بات نہیں ہے بلکہ اس میں یہ کہا گیا ہے کہ شو کاز نوٹس دیا جائے گا جس میں زیادہ سے زیادہ ممنوعہ فنڈنگ بحق سرکار ضبط کرنے کا ذکر ہے۔

احمد بلال محبوب نے اس بارے میں بتایا کہ `یہ کیس عمران خان کے خلاف نہیں تھا بلکہ یہ ایک سیاسی جماعت پی ٹی آئی کے بارے میں تھا کہ جماعت نے ممنوعہ فنڈنگ حاصل کی ہے۔‘

مزید پڑھیے

ان کا کہنا تھا کہ `اس وقت تو عمران خان کے بارے میں کچھ نہیں ہے لیکن چونکہ عمران خان اس جماعت کے سربراہ ہیں اور انھوں نے ہی اکاونٹس کی سٹیٹمنٹ جمع کرانی ہوتی ہے اور اگر اس میں انھوں نے کوئی غلط بیانی کی ہے یا کچھ چھپایا ہے یا اس میں کوئی بددیانتی کی ہے تو پھر ان کی امانت اور صداقت پر سوال اٹھ سکتے ہیں اور اس کے لیے اب بنیاد تو فراہم کر دی گئی ہے اور آگے چل کر اس بارے میں پیش رفت ہوتی ہے تو یہ آگے چل کر دیکھا جا سکے گا۔‘

کیا عمران خان اپنے ہی بیانیے کا شکار ہوئے ہیں؟

TWITTER/@ASBABAR786

،تصویر کا ذریعہTWITTER/@ASBABAR786

اس بارے میں عام تاثر یہ ہے کہ چونکہ پی ٹی آئی نے دیگر سیاسی جماعتوں کے بارے میں انتہائی سخت موقف رکھا ہے اور ان جماعتوں کے قائدین پر الزامات لگائے ہیں اور وہ الفاظ ذرائع ابلاغ اور سوشل میڈیا پر بار بار دہرائے گئے ہیں۔ ان کی ان تقریروں سے وہ خود کو صادق اور امین قرار دیتے رہے اور لوگ ان کے اس تاثر کو سچ مانتے رہے ہیں۔

اب جب عمران خان پر بات بن گئی ہے اور الیکشن کمیشن نے فیصلے میں کہا ہے کہ ممنوعہ فنڈنگ ثابت ہوئی ہے۔ اب عام شہری یہ سوال اٹھا رہے ہیں کہ کیا تمام سیاستدان ایک ہی طرح کے ہیں وہ جو امیدیں تھیں وہ دم توڑ رہی ہیں۔

اس بارے میں سینیئر صحافی اور تجزیہ کار زاہد حسین کہتے ہیں کہ ایسا نہیں ہے کہ صرف ایک فیصلے سے ان کے سیاسی کیرئیر پر کوئی اثر نہیں پڑے گا اور ناں ہی ووٹرز میں ان کی حمایت کم ہوگی۔

ان کا کہنا تھا کہ `اس سے بڑے واقعات ایسے ہوئے ہیں اور ان پر الزامات بھی عائد کیے گئے ہیں لیکن عمران خان کی حمایت میں کوئی فرق نہیں آیا بلکہ ان کی حمایت میں اضافہ ہوا ہے۔ `

لطیف آفریدی ایڈووکیٹ کا کہنا تھا کہ عمران خان اب صادق اور امین نہیں رہے اس لیے اب ان کی وہ اہمیت نہیں رہے گی۔

تجزیہ کار عام طور یہی کہتے آئے ہیں کہ عمران خان پر الزامات اس وقت سے عائد ہونا شروع ہو گئے تھے جب انھوں نے سیاست میں قدم رکھا تھا اور مختلف طریقوں سے ان کے کردار پر بھی سوالات اٹھائے گئے تھے لیکن ان کی مقبولیت میں کمی نہیں آئی تھی، اس مرتبہ تمام سیاسی جماعتیں ان کی مخالفت میں متحد ہیں اور وہ تمام حکومت کا حصہ ہیں اس لیے ان کی کوشش ہے کہ پی ٹی آئی اور ان کے قائدین کے خلاف ایسی کارروائی کی جائے جس سے ان کی حمایت میں کمی آ سکے۔

کیا اوورسیز پاکستانی، الیکشن کمیشن کے اس فیصلے کے بعد کسی پاکستانی سیاسی جماعت کو چندہ نہیں دے سکتے؟

الیکشن کمیشن کے اس فیصلے کے بعد یہ سوال بھی سامنے آ رہا ہے کہ کیا اب اوورسیز پاکستانی سیاسی جماعتوں کو فنڈز یا چندہ نہیں دے سکیں گے۔

اس بارے میں ماہرین قانون کا کہنا ہے کہ ایسا نہیں ہے بلکہ اوورسیز پاکستانی انفرادی طور پر چندہ بھی دے سکتے ہیں اور شراکت داری بھی کر سکتے ہیں لیکن وہ وہاں کسی تنظیم یا ادارے یا ایسی ملٹی نیشنل کمپنیوں کے ساتھ مل کر فنڈنگ نہیں کر سکتے۔

یہاں سوال یہ بھی اٹھ رہا ہے کہ کیا دیگر جماعتوں کو بیرونی فنڈنگ نہیں ہوتی؟

اس بارے میں لطیف آفریدی ایڈووکیٹ کا کہنا تھا کہ دیگر سیاسی پارٹیوں پر اب تک یہ الزام ثابت نہیں ہوا ہے اس لیے ان کے بارے میں کچھ نہیں کہا جا سکتا لیکن پی ٹی آئی پر یہ الزام اب ثابت ہو چکا ہے۔

سیاسی مبصرین کا کہنا ہے کہ دیگر جماعتوں کو بھی فنڈنگ ہوتی ہے اب ان کے خلاف کوئی الیکشن کمیشن میں جائے اور سارے ثبوت فراہم کرے اگر ممنوعہ فنڈنگ ثابت ہو جاتی ہے تو ان کے بارے میں بھی اس طرح کے فیصلے آ سکتے ہیں۔