نائجیریا میں اغوا ہونے والے پاکستانی ڈاکٹر کی رہائی: ’بہت دنوں بعد گھر میں کوئی مسکرایا‘

    • مصنف, محمد زبیر خان
    • عہدہ, صحافی

’میری بیٹے کی صیح سلامت رہائی کا مطلب مجھے عید کا تحفہ ہے۔ یہ ایسا تحفہ ہے جس پر خوشی سے میری آنسو ہی نہیں تھم رہے ہیں۔‘

یہ افریقہ کے ملک نائیجیریا میں تین ماہ قبل اغوا ہونے والے پاکستانی شہری ڈاکٹر ابوذر افضل غفاری کی والدہ کے جذبات تھے جن کے بیٹے کو 100 دن کی اسیری کے بعد رہا کر دیا گیا ہے۔

واضح رہے کہ ڈاکٹر ابوذر افضل عفاری کو نائجیریا میں ایک شہر سے دوسرے شہر جاتے ہوئے ٹرین کے سفر کے دوران رواں سال 28 مارچ کو اغوا کر لیا گیا تھا۔

مختلف رپورٹوں کے مطابق اغوا کی اس واردات میں مجموعی طور پر 160 سے زیادہ لوگوں کو اغوا کیا گیا تھا، جن میں اکثریت نائیجیریا کے شہریوں کی تھی۔ ان میں سے ایک پاکستانی ڈاکٹر ابوذر افضل بھی تھے۔

ڈاکٹر ابوذر افضل عفاری کو گزشتہ رات اپنے چند نائیجریا کے ساتھیوں کے ہمراہ رہا کیا گیا جس کی تصدیق پاکستان کے وزیر خارجہ بلاول بھٹو زرادی نے ایک ٹویٹ میں کی۔

ڈاکٹر ابوذر افضل عفاری کے والد شیخ محمد افضل اور ان کی والدہ فرحت بی بی نے بھی بی بی سی سے بات کرتے ہوئے رہائی کی تصدیق کی۔

’میری عید کی خوشیاں دوبالا ہو گئیں‘

ڈاکٹر ابوذر افضل عفاری کی والدہ نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے بتایا کہ ان کے بیٹے کی رہائی گذشتہ رات ہی ہوئی۔

’اس کو پاکستان میں عید کی رات کو رہا کیا گیا۔ رہائی کے بعد میری اس سے بات ہوئی ہے۔ وہ ٹھیک ٹھاک ہے اور اس نے کہا ہے کہ وہ اگلے چند دنوں میں پاکستان آ رہا ہے۔ ہم اتنے خوش ہیں، اتنے خوش ہیں کہ میں بتا نہیں سکتی ہوں۔ مجھے لگتا ہے کہ میری عید اب ہوئی ہے۔ عید کی خوشیاں دوبالا ہو گئی ہیں۔‘

ان کا کہنا تھا کہ ’میری بیٹے کی صیح سلامت رہائی کا مطلب مجھے عید کا تحفہ ہے۔ یہ ایسا تحفہ ہے جس پر خوشی سے میرے آنسو ہی نہیں تھم رہے ہیں۔ میں حکومت پاکستان، نائیجیریا اور جس جس نے بھی میرے بیٹے کی رہائی کے لیے کوشش کی ہے، ان کی شکرگزار ہوں اور باقی سب لوگ جنھیں ابھی تک رہائی نہیں ملی ہے ان کے لیے بھی دعاگو ہوں۔‘

ڈاکٹر ابوذر افضل عفاری کے والد شیخ محمد افضل کا کہنا تھا کہ ’ہمارا بیٹا ہمیں مل گیا ہے، اس سے بڑھ کر خوشی کیا ہوسکتی ہے۔‘

’عید کی رات بیٹے سے بات کر کے کئی دنوں بعد ہمارے گھر میں کوئی مسکرایا اور ہم نے عید کی تیاری بھی کی۔‘

بی بی سی کو موصول ایک ویڈیو میں ڈاکٹر ابوذر افضل عفاری رہائی کے بعد ویڈیو پیغام میں اپنی رہائی کے بارے میں اطلاع دیتے نظر آئے۔ انھوں نے اپنی کمپنی اور حکومت پاکستان سمیت وزیر خارجہ بلاول بھٹو اور وزیر مملکت برائے خارجہ حنا ربانی کھر کا شکریہ ادا کیا۔ انھوں نے بتایا کہ وہ خیریت سے ہیں۔

وزیر خارجہ بلاول بھٹو نے ٹوئٹر پر جاری بیان میں کہا کہ ’پاکستانی شہری کی محفوظ رہائی پر نائجیریا کی حکومت اور عوام کا شکریہ ادا کرتے ہیں۔‘ انھوں نے کہا کہ ’پاکستان میں بھی ہر اس شخص کا شکریہ ادا کرتا ہوں جنھوں نے ان کی رہائی کے لیے انتھک کوشش کی۔‘

یہ بھی پڑھیے

ڈاکٹر ابوذر کون ہیں؟

ڈاکٹڑ ابوذر کا تعلق پنجاب کے ضلع راجن پور کی تحصیل جام پور سے ہے جو نائجیریا میں کام کرنے والی کمپنی 'جے میرنیز' میں کچھ عرصہ سے بحثیت جنرل مینجر خدمات سرانجام دے رہے تھے۔

ڈاکٹر ابوذر مائیکروبیالوجی میں پی ایچ ڈی ہیں جبکہ انھوں نے ایم فل میں گولڈ میڈل حاصل کیا تھا۔

ان کو اغوا کرنے کی ذمہ داری بنڈیٹ کہلانے والے گروپ نے قبول کی تھی۔ اس گروپ کے نائجیریا کی حکومت کے ساتھ طویل عرصہ سے تنازعات چل رہے ہیں، اور نائجیریا کی حکومت نے اس مسلح گروپ پر پابندی عائد کر رکھی ہے۔

اغوا کاروں نے جے میرنیز کو نائجیریا ہی میں ایک ویڈیو بھی بھیجی تھی جس میں اغوا کار حکومت سے مختلف مطالبات کر رہے ہیں۔ اسی ویڈیو میں ڈاکٹر ابوذر کا پیغام بھی شامل تھا جس میں ان کے ہمراہ پانچ دیگر لوگ بھی موجود تھے۔

ویڈیو میں دیکھا جا سکتا ہے کہ ایک مسلح نقاب پوش ان کے ہمراہ کھڑا ہے۔ ویڈیو میں ڈاکٹر ابوذر کہہ رہے ہیں کہ میرا نام ابوذر افضل ہے اور میں پاکستانی شہری ہوں۔

ان کے اغوا کے بعد بی بی سی سے بات کرتے ہوئے ان کے والد نے بتایا تھا کہ ڈاکٹر ابوذر کے دو بچے ہیں۔ بڑا بیٹا دو سال کا ہے جبکہ بیٹی چند ماہ کی ہے۔

' باپ بیٹی نے ایک دوسرے کو نہیں دیکھا ہے۔ ابوذر نے کبھی بھی اپنی نو مولود بیٹی کو گود میں نہیں کھلایا۔