آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے
بلوچستان کے ضلع شیرانی میں چلغوزے کے جنگل میں آگ: 26 ہزار ایکڑ پر محیط قیمتی جنگل تباہی کے دہانے پر
- مصنف, محمد کاظم
- عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، کوئٹہ
جنگلات اور جنگلی حیات کے تحفظ کے لیے کام کرنے والی تنظیموں کے کارکنوں نے بلوچستان کے خیبرپختونخوا سے متصل ضلع شیرانی میں خطے کی چلغوزے کے ایک بڑے جنگل میں لگنے والی آگ کو بجھانے کے لیے اقدامات پر عدم اطمینان کا اظہار کیا ہے۔
انھوں نے اس خدشے کا اظہار کیا ہے کہ اگر آگ کو بجھانے کے لیے فوری اقدامات نہیں کیے گئے تو چلغوزے کے قیمتی جنگلات اور جنگلی حیات کی پناہ گاہوں کو بڑے پیمانے پر نقصان پہنچ سکتا ہے۔
بی بی سی سے بات کرتے ہوئے بلوچستان میں چلغوزے کے پراجیکٹ کے کوآرڈینیٹر محمد یحییٰ موسیٰ خیل نے کہا کہ آگ پر قابو پانے کے لیے کم ازکم 15 سے 20 ہیلی کاپٹروں کو استعمال میں لانا چاہیے۔
مقامی لوگوں کی جانب سے آگ کو بجھانے کی کوشش کے دوران تین افراد ہلاک اور تین زخمی بھی ہوئے۔
ڈپٹی کمشنر شیرانی اعجاز احمد نے بتایا آگ اندازاً پانچ سے چھ کلومیٹر رقبے پر پھیلی ہوئی ہے جس کو بجھانے کے لیے کوششیں جاری ہیں لیکن ایسے میں بارش ہی ایک بہت بڑی غیبی مدد ثابت ہوسکتی ہے۔
آگ ضلع شیرانی کے کس علاقے میں لگی ہے؟
ضلع شیرانی میں یہ آگ 18 مئی کو لگی تھی۔
ڈپٹی کمشنر شیرانی نے بتایا کہ آگ ضلع کے علاقے شرغلی میں ایسے پہاڑی علاقوں میں لگی ہے جن کی بلندی اندازً پانچ ہزار فٹ ہے
ان کا کہنا تھا کہ یہ آگ ایک بڑے علاقے میں پھیلی ہوئی جو کہ اندازاً پانچ سے چھ کلومیٹر کا علاقہ ہے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
انھوں نے بتایا کہ اس علاقے میں چلغوزے کے جنگلات ہیں اور یہ جنگلات ہی آگ کی لپیٹ میں آگئے ہیں۔
اپنے اثاثوں کو بچانے کے لیے جانوں کی قربانی
چلغوزے کا شمار ان خشک فروٹ میں ہوتا ہے جن کی قیمت نہ صرف پاکستان بلکہ دنیا کے دیگر ممالک میں بہت زیادہ ہے۔
کوئٹہ کی مارکیٹ میں خشک میوے کے کاروبار سے وابستہ کاروباری افراد کے مطابق کورونا کے باعث چین کی جانب اس کی ایکسپورٹ میں کمی کے باعث پہلے کے مقابلے میں اگرچہ اس کی قیمتوں میں کمی آئی ہے لیکن اس کی اعلیٰ کوالٹی کی فی کلو کی قیمت اب بھی 7ہزار روپے سے زائد ہے۔
چونکہ چلغوزے کے جنگلات شیرانی اور اس سے متصل اضلاع کے لوگوں کی آمدن کا اہم ذریعہ ہیں اس لیے جب علاقے کے لوگوں نے دیکھا کہ آگ ان کے اس اہم اثاثے کو بھسم کررہی ہے تو علاقے لوگوں نے اس کو بجھانے کی کوشش کی۔
ڈپٹی کمشنر شیرانی نے بتایا کہ اس کوشش کے دوران علاقے سے تعلق رکھنے والے تین افراد ہلاک اور تین زخمی ہوگئے۔
چلغوزے کے جنگلات میں آگ لگنے کی وجہ کیا بنی؟
جنگلات اور جنگلی حیات کے تحفظ کے لیے کام کرنے والی تحریک اشر سے تعلق رکھنے والے رضاکار سالمین خان اخپلواک نے بتایا کہ علاقہ مکینوں مطابق آگ بہت بڑے علاقے میں پھیلی ہوئی ہے۔
جمعے کے روز وزیر اعلیٰ بلوچستان کو دی جانے والی ایک بریفنگ کے دوران حکام نے بتایا کہ بلوچستان میں یہ آگ خیبر پختونخوا کے علاقوں سے شیرانی پہنچی۔
چلغوزہ پراجیکٹ بلوچستان کے کوآرڈینیٹر نے بتایا کہ ’بدقسمتی سے یہ آگ دس روز پہلے تورغر میں لگی تھی جہاں سے یہ آگ شیرانی تک پہنچی اور پھر شیرانی کے مختلف علاقوں تک پھیلنے کے بعد پھر یہ شرغلی تک پہنچ گئی۔‘
ان کا کہنا تھا کہ ’ہوا تیز ہے اور آگ پر اگر فوری طور پر قابو پانے کے لیے اقدامات نہیں کیے گئے تو یہ پورے علاقے کو اپنی لپیٹ میں لے گی۔‘
چلغوزے کے جنگلات کی علاقے میں کیا اہمیت ہے؟
اشر تحریک کے سالمین خان نے بتایا کہ اس علاقے میں چلغوزے کے جنگلات کا شمار دنیا کے بڑے جنگلات میں ہوتا ہے۔
انھوں نے کہا کہ ہزاروں لوگوں کے روزگار اور معاش کا انحصار اسی جنگل پر ہے۔
'میرے علاقے سے تعلق رکھنے والے ایک شخص بات ہوئی جو اس تباہی پر رو رہا تھا۔‘
ان کا کہنا تھا ایک خاندان کو انہی جنگلوں سے سالانہ 7 لاکھ روپے ک آمدنی ہوتی تھی۔
انھوں نے کہا کہ یہ جنگلات تین ارب ڈالر پیداوار کی صلاحیت رکھتے ہیں لیکن بدقسمتی سے یہ جل کر راکھ ہورہے ہیں۔
یحییٰ موسیٰ خیل نے بتایا کہ سلیمان رینج میں چلغوزے کا یہ جنگل دنیا کا ایک اہم جنگل ہے اور یہ مجموعی طور 26 ہزار ایکڑ پر محیط ہے۔
انھوں نے بتایا کہ یہاں سے ہر سال 650 سے لے کر 675 میٹرک ٹن کا چلغوزہ پیدا ہوتا ہے اور مجموعی طور پر چلغوزے کی 2.6 ارب کی تجارت ہوتی ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ یہاں چلغوزے کے جنگلات سے متعلق ہونے والے سروے کے مطابق ایک ایکڑ پر 950 درخت آرہے ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ اگر ہر ایکڑھ کے حساب سے اتنے زیادہ درخت تباہ ہوجائیں گے تو اس کا اندازہ لگائیں کہ چلغوزے کے پیداوار پر کتنا بڑا اثر پڑے گا۔
’آگ سے پہاڑ پر جنگلات کا بڑا حصہ متاثر ہوا ہے۔ اس سے یہاں کے لوگ اچانک آسمان سے زمین پر آجائیں گے'۔
آگ بجھانے کے لیے ایک نہیں 15 سے 20 ہیلی کاپٹروں کی ضرورت ہے
علاقہ مکینوں نے آگ پر فوری طور پر قابو پانے کے لیے اقدامات نہ ہونے پر احتجاج کیا اور علاقے میں اہم شاہراہ پر رکاوٹیں کھڑی کردیں۔
اشر تحریک کے سالمین خان اخپلواک نے آگ بجھانے کی کوششوں پر عدم اطمینان کا اظہار کیا۔
یحیٰی موسیٰ خیل نے آگ کی تیزی سے پھیلنے پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ آگ زرغون زبر کی طرف پھیل رہی ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ درمیان میں ایک نالہ ہے اگر آگ نے نالے کو عبور کرکے آگے زرغون زبر کی طرف گیا تو اس سے ہمارا سارا جنگل تباہ ہوجائے گا۔
ان کا کہنا تھا اس وقت جو اقدامات کیے جارہے ہیں وہ ناکافی ہیں۔
انھوں نے تجویز پیش کی کہ اگر پندرہ سے بیس ہیلی کاپٹر اور فائر بالز بھیجے جائیں تو اس سے آگ پر قابو پایا جاسکتا ہے۔
معاشی نقصان کے علاوہ جنگلی حیات کی پناہ گاہیں متائثر ہورہی ہیں
محمد یحیٰی نے بتایا کہ مارخوروں کی معروف نسل سلیمان مارخور کی پناہ گاہیں یہی جنگلات ہیں ۔جبکہ یہاں بلیک بیئر اور دیگر جنگلی حیات کی بھی پناہ گاہیں۔
انھوں نے بتایا کہ ’جہاں اس آگ سے ایک اہم اور قیمتی جنگل تباہ ہورہا ہے وہاں جنگلی حیات کی پناہ گاہیں بھی متاثر ہورہی ہیں۔‘
ان کا کہنا تھا کہ اس جنگل کی تباہی موسمیاتی تبدیلی کے حوالے سے بھی علاقے میں ایک بڑے نقصان کا باعث بنے گا۔
ان کا کہنا تھا کہ اب بھی وقت ہے کہ وزرات موسمیاتی تبدیلی ایکشن لے اور اس تباہی سے جنگلات کو بچائے۔
چلغوزے کے جنگلات کو بچانے کے لیے کیا اقدامات ہورہے ہیں؟
ڈپٹی کمشنر نے شیرانی اعجاز احمد نے بتایا کہ پی ڈی ایم اے، محکمہ جنگلات، انتظامیہ کے اہلکار علاقے کے رضاکاروں کے علاوہ ایک ہیلی کاپٹر بھی آگ بجھانے کی کوششوں میں مصروف ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ اس وقت جو بھی دستیاب وسائل ہیں ان کو بروئے کار لایا جارہا ہے لیکن آگ جتنے بڑے پیمانے پر پھیلی ہے اس میں بظاہر انسانی کوششوں سے اس پر قابو پانے کے امکانات بہت زیادہ نہیں ہیں۔
انھوں نے کہا کہ ایسے میں بارش ہی اس اہم اثاثے کو بچانے میں ایک بڑی غیبی مدد ثابت ہوسکتی ہے۔
دریں اثنا ایک سرکاری اعلامیہ کے مطابق جمعہ کے روز وزیراعلیٰ بلوچستان میر عبدالقدوس بزنجو کو شیرانی کے جنگلات میں لگی آگ بجھانے کے اقدامات پر سیکرٹری جنگلات دوستین جمالدینی اور ڈی جی پی ڈی ایم اے نصیر احمد ناصر نے بریفنگ دی۔
وزیر اعلیٰ کو بتایا گیا کہ آگ خیبر پشتونخوا کے جنگلات سے بلوچستان کی حدود میں پہنچی ہے ۔ جس سے جنگلات اور جنگلی حیات متاثر ہورہی ہیں تاہم انسانی زندگیوں کو خطرات لاحق نہیں۔
انھوں نے بتایا کہ آگ بجھانے کی کارروائی میں پاکستان فوج اور ایف سی کی ٹیمیں بھی بھرپور حصہ لے رہی ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ پہاڑوں کے دامن میں متاثرین کے لیے 100 خیموں پر مشتمل سٹی قائم کرکے خوراک اور دیگر ضروری اشیاء فراہم کی جارہی ہیں۔
انھوں نے بتایا کہ بین الاقوامی اداروں سے بھی معاونت حاصل کی جا رہی ہے۔
اس موقع پر وزیر اعلیٰ نے ہدایت دی کہ آگ بجھانے کے لیے حکومت مزید وسائل بھی فراہم کریگی اور جنگلات کی بحالی کو بھی یقینی بنایا جائے گا۔
وزیر اعلیٰ نے یہ بھی ہدایت کی کہ بین الاقوامی اداروں کی معاونت بھی حاصل کی جائے۔
بلوچستان میں جنگلات کا مجموعی علاقہ کتنا ہے؟
محکمہ جنگلات کوئٹہ ڈویڑن کے کنزرویٹر نیاز کاکڑ نے بتایا کہ کسی بھی علاقے میں ماحول کی بہتری کے لیے اس کا کم سے کم پچیس فیصد حصہ جنگلات پر مشتمل ہونا چاہیے۔
انھوں نے اس امر پر افسوس کا اظہار کیا کہ بلوچستان میں توجنگلات کا علاقہ ویسے بھی نہ ہونے کے برابر ہے لیکن پورے ملک میں اس کا حصہ بمشکل پانچ فیصد ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ بلوچستان میں جنگلات کا علاقہ بمشکل 1.5فیصد ہے۔ ’ان میں گوادر کے ساحلی علاقے میں مینگروز کے جنگلات بھی شامل ہیں۔اگر مینگروزکو نکال دیا ہے تو یہ علاقہ اس سے بھی کم رہ جائے گا۔‘