نور مقدم کیس: ظاہر جعفر کو کرسی پر بٹھا کر عدالت میں کیوں لایا گیا؟

ظاہر جعفر

،تصویر کا ذریعہVideo Grab

    • مصنف, شہزاد ملک
    • عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، اسلام آباد

اسلام آباد میں گذشتہ برس جولائی میں سابق سفارت کار شوکت مقدم کے بیٹی نور مقدم کے قتل کے بعد سے مقدمے کے مرکزی ملزم ظاہر جعفر عدالت میں اپنے ہیجانی انداز کی وجہ سے خبروں میں رہے ہیں۔

17 جنوری کو اس مقدمے کی سماعت کے دوران جب انھیں کرسی پر بٹھا کر عدالت میں پیش کیا گیا تو اس کی ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہوئی اور یہ سوال کیا جانے لگا کہ ظاہر جعفر کو اس حالت میں عدالت میں کیوں لایا گیا اور آیا ان کی حالت اتنی خراب ہے جتنی ویڈیو میں دکھائی دے رہی ہے۔

ویڈیو کے بارے میں ملزم کے وکیل کا کہنا ہے کہ ان کے موکل کی صحت دن بدن خراب ہو رہی ہے اس لیے انھیں کرسی پر بٹھا کر عدالت میں پیش کیا گیا تاہم اسلام آباد کی مقامی عدالت کے بخشی خانے کی سکیورٹی پر مامور اہلکار اس موقف سے متفق نہیں دکھائی دیتے۔

بخشی خانے میں سکیورٹی پر مامور ایک اہلکار نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بی بی سی کو بتایا کہ پیر کو جب ظاہر جعفر کو عدالت میں پیشی کے لیے لایا گیا تو وہ بظاہر ٹھیک ٹھاک لگ رہے تھے۔

اہلکار کے مطابق پیر کے روز ملزمان کو لے کر تین گاڑیاں اڈیالہ جیل سے آئی تھیں جن میں ظاہر جعفر اور ان کے والد ذاکر جعفر سمیت دیگر ملزمان بھی سوار تھے۔

اہلکار کے مطابق گذشتہ چند سماعتوں کے دوران ملزم ظاہر جعفر نے عدالت میں شور شرابہ کیا تھا تو اس کے بعد انھیں یہ احکامات ملے تھے کہ جب عدالت کی طرف سے پیش کرنے کا حکم ہو تبھی مذکورہ ملزم کو عدالت لایا جائے اسی لیے جب مقدمے کی سماعت شروع ہوئی تو ظاہر جعفر کو دیگر ملزمان کے ساتھ ایڈیشنل سیشن جج عطا ربانی کی عدالت میں پیش نہیں کیا گیا۔

بخشی خانے کے اہلکار کے مطابق عدالتی حکم پر جب پولیس اہلکار ظاہر جعفر کو بخشی خانے کے مرکزی دروازے سے نکال کر عدالت لے جانے لگے تو کچھ دور چلنے کے بعد ملزم نے چلنے سے انکار کر دیا اور اس کی باڈی لینگویج سے ایسے لگ رہا تھا کہ اگر اسے پکڑا نہ گیا تو وہ ابھی نیچے گر جائے گا۔

انھوں نے کہا کہ ’ایسی صورت حال میں وہاں پر چند وکیل بھی آ گئے اور انھوں نے کہا کہ اسے کرسی پر بٹھا کر عدالت لے جاؤ اور اگر ملزم کو کچھ ہو گیا تو ساری ذمہ داری پولیس پر آ جائے گی۔`

اہلکار کے مطابق اس صورتحال میں قریبی ہوٹل سے کرسی منگوا کر ظاہر جعفر کو کرسی پر بٹھا کر کمرۂ عدالت میں لے جایا گیا۔

اس اہلکار سے جب پوچھا گیا کہ ان وکلا میں سے کوئی وکیل اس مقدمے میں نامزد کسی ملزم کا وکیل تھا تو اہلکار کا کہنا تھا کہ اس کی ڈیوٹی ملزمان کو عدالت تک پہنچانے کی ہے اور وہ کسی وکیل کو شناخت نہیں کرتے۔

موقع پر موجود ایک عینی شاہد خورشید کے مطابق پولیس اہلکار ملزم کو بخشی خانے کے مرکزی دروازے کے باہر سے ہی کرسی منگوا کر اس پر بٹھا کر عدالت میں لے گئے تھے۔

راولپنڈی کی اڈیالہ جیل کے ایک اہلکار نے بھی نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بی بی سی کو بتایا کہ 17 جنوری کو جب نور مقدم کے مقدمۂ قتل کے ملزمان کو پیشی کے لیے ایک جگہ پر جمع کیا گیا تو اس وقت بھی ظاہر جعفر کی حالت ٹھیک تھی۔

اسلام آباد کچہری کا بخشی خانہ
،تصویر کا کیپشنپولیس اہلکار کے مطابق عدالتی حکم پر جب ظاہر جعفر کو بخشی خانے کے مرکزی دروازے سے نکال کر عدالت لے جایا جانے لگا تو کچھ دور چلنے کے بعد ملزم نے چلنے سے انکار کر دیا تھا

جیل کے اہلکار کے مطابق قیدیوں کی وین میں بیٹھانے تک اس مقدمے کے کسی بھی ملزم نے خرابی صحت کی شکایت نہیں کی تھی جبکہ عدالت میں پیشی سے واپسی پر تمام ملزمان کو متعلقہ بیرکوں میں بھیج دیا گیا تھا۔

واضح رہے کہ پیر سے پہلے ہونے والی سماعت پر بھی عدالت تک پہنچنے سے کچھ پہلے پولیس اہلکار ملزم کو سہارا دے کر کمرۂ عدالت میں لے گئے تھے جبکہ اس سے دو تین سماعتیں قبل عدالت نے ظاہر جعفر کو جب کمرۂ عدالت سے نکلنے کا حکم دیا تھا تو ملزم پانچ پولیس اہلکاروں کے قابو میں بھی نہیں آ رہا تھا جس پر پولیس نے اس کے خلاف کارِ سرکار میں مداخلت اور پولیس اہلکاروں پر حملہ کرنے کا مقدمہ بھی درج کیا تھا۔

یہ بھی پڑھیے

طریقۂ کار کیا ہے

محکمہ جیل خانہ جات کے ایک اہلکار حسن مراد کا کہنا ہے کہ اگر کسی ملزم کی کسی عدالت میں پیشی ہے اور اس کی صحت خراب ہے تو وہ اس بارے میں متعلقہ حکام سے شکایت کر سکتا ہے۔

انھوں نے کہا کہ قیدی کی شکایت پر جیل کا عملہ ڈاکٹر کو بلا کر اس کا طبی معائنہ کروانے کا پابند ہے اور اگر ڈاکٹر طبی معائنے کے بعد یہ تجویز کرے کہ ملزم سفر کرنے کے قابل نہیں ہے تو اسے پیشی پر نہیں بھیجا جاتا اور عدالت کو اس بارے میں تحریری طور پر آگاہ کر دیا جاتا ہے۔

انھوں نے یہ بھی بتایا کہ اگر ڈاکٹر یہ تجویز کرے کہ ملزم کی صحت اس قابل ہے کہ وہ عدالت میں پیش ہو سکتا ہے تو پھر اس کے بعد ہی ملزم کو قیدیوں کی وین میں بٹھایا جاتا ہے۔

حسن مراد کا کہنا تھا کہ ملزمان کی ہر پیشی پر ان کا طبی معائنہ نہیں کروایا جاتا البتہ جب کسی بھی ملزم کو پہلی بار جیل لایا جاتا ہے تو اس کا طبی معائنہ ہوتا ہے۔

ملزمان کے وکلا کا موقف

اس مقدے کے مرکزی ملزم ظاہر جعفر کے وکیل ذوالقرین سکندر تو کوشش کے باوجود موقف دینے کے لیے دستیاب نہیں ہوئے تاہم ظاہر جعفر کے والد کے وکیل بشارت اللہ خان کا کہنا تھا کہ مرکزی ملزم کی حالت تشویش ناک ہے اور اسی لیے ملزم کے وکیل نے اپنے موکل کی جسمانی صورت حال کو دیکھتے ہوئے ہی ان کا طبی معائنہ کروانے کی درخواست دی ہے۔

بی بی سی سے بات کرتے ہوئے انھوں نے کہا کہ گذشتہ سماعت کے دوران بھی جب مرکزی ملزم کو عدالت میں لایا گیا تو کرسی پر بیٹھنے ہونے کے باوجود اس کا سر نیچے جھکا ہوا تھا۔ انھوں نے کہا کہ اپنے بیٹے کی اس حالت کو دیکھتے ہوئے ان کے والد ذاکر جعفر بھی کافی پرشان تھے۔

بشارت اللہ خان نے دعوی کیا کہ ظاہر جعفر کو جیل میں قائم ہائی سکیورٹی زون میں رکھا گیا ہے اور ان کے ساتھ کسی کی بھی ملاقات نہیں کروائی جا رہی۔ ان کا کہنا تھا کہ فیصلے سے قبل ملزم سے اس طرح کا سلوک کسی طور پر بھی جائز نہیں ہے۔

خیال رہے کہ بشارت اللہ خان کے دعوے کے برعکس ملزم ظاہر جعفر کی طرف سے متعلقہ عدالت سے اس بارے میں کوئی شکایت نہیں کی گئی ہے۔

نور مقدم کے مقدمۂ قتل کی اگلی سماعت 20 جنوری کو ہو گی جس میں عدالت نے تمام ملزمان کو پیش کرنے کا حکم دے رکھا ہے۔