نیوی سیلنگ کلب: ’غیرقانونی‘ کلب کی عمارت کو تین ہفتے میں گرانے اور سابق نیول چیف سمیت ذمہ داران کے خلاف فوجداری کارروائی کا حکم

،تصویر کا ذریعہSM Viral post
- مصنف, شہزاد ملک
- عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، اسلام آباد
پاکستان کے دارالحکومت اسلام آباد کی ہائی کورٹ نے راول ڈیم کے کنارے پاکستانی بحریہ کی جانب سے تعمیر کیے جانے والے نیوی سیلنگ کلب کو غیر قانونی قرار دیتے ہوئے اسے تین ہفتوں میں منہدم کرنے اور بحریہ کے سابق سربراہ ایڈمرل ظفر محمود عباسی سمیت ملوث افسران کے خلاف فوجداری کارروائی کا حکم دیا ہے۔
عدالت نے نیول فارمز کی تعمیر کے لیے جاری کیے گئے اجازت نامے کو بھی غیرقانونی قرار دیا ہے اور کہا ہے کہ وفاقی ترقیاتی ادارے (سی ڈی اے) کو یہ این او سی جاری کرنے کا اختیار نہیں تھا۔
اسلام آباد ہائی کورٹ کے چیف جسٹس اطہر من اللہ کی سربراہی میں اسلام آباد ہائی کورٹ کے بینچ نے جمعے کو پاکستان بحریہ کے زیر انتظام شروع کیے گئے ہاؤسنگ پروجیکٹ اور کلب کے منصوبوں کے خلاف دائر کی گئی درخواستوں پر 45 صفحات پر مشتمل تحریری فیصلہ جاری کیا ہے۔
تحریری فیصلے میں کہا گیا ہے کہ سابق نیول چیف ایڈمرل ظفر محمود عباسی نے اپنے حلف کی خلاف ورزی کرتے ہوئے تجاوزات والی زمین پر غیرقانونی عمارت (نیوی سیلنگ کلب) کا افتتاح کر کے اپنے آئینی فرض سے تجاوز کیا۔ ’یہ (افتتاح) اس کے باوجود کیا گیا کہ سی ڈی اے اور سمال ڈیمز آرگنائزیشن کی جانب سے اس حوالے سے نوٹسز بھی جاری کیے جا چکے تھے۔‘
تحریری فیصلے میں کہا گیا ہے کہ چیف آف نیول سٹاف اور اس غیرقانونی سیلنگ کلب کی تعمیر اور اس کے افتتاح میں ملوث دیگر افسران فوجداری کارروائی کے مستحق ٹھہرے ہیں۔ ’مجاز حکام اس بات کو یقینی بنائیں کہ ذمہ داران کے خلاف فوجداری کارروائی فوری طور پر شروع کی جائے۔‘
مزید کہا گیا کہ وفاقی حکومت ایڈمرل ظفر محمود عباسی کے خلاف آرڈیننس 1961 کے تحت مس کنڈکٹ کی کارروائی کا آغاز کرے۔
یاد رہے کہ یہ فیصلہ جمعرات کو ہونے والی سماعت کے بعد محفوظ کیا گیا تھا۔

،تصویر کا ذریعہM Hussain
فیصلے میں کہا گیا ہے نیول سیلنگ کلب کی غیرقانونی عمارت کو تین ہفتے کے اندر گرا کر عملدرآمد رپورٹ عدالت میں جمع کروائی جائے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
فیصلے میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ پاکستان بحریہ کو یہ اختیار حاصل نہیں کہ وہ ’ریئل سٹیٹ وینچر‘ کرے اور اس قسم کے کاروبار کے لیے پاکستان بحریہ یا کسی بھی ریاستی ادارے کا نام استعمال نہیں کیا جا سکتا تھا۔
تحریری فیصلے میں کہا گیا کہ آئین میں مسلح افواج کا مینڈیٹ واضح طور پر متعین کیا گیا ہے اور اس مینڈیٹ کے تحت پاکستان نیوی کے پاس رئیل اسٹیٹ کے کسی بھی منصوبے میں براہ راست یا بالواسطہ طور پر شامل ہونے کا کوئی اختیار نہیں تھا۔ چنانچہ پاکستان نیوی کی طرف سے نیول فارمز کا منصوبہ شروع کرنا (نیوی کے) دائرہ اختیار سے تجاوز اور غیر قانونی تھا۔
فیصلے میں پاکستان نیوی کو حکم دیا گیا ہے کہ وہ راول جھیل میں اپنی تمام تر سرگرمیوں کو ختم کرے اور غیرقانونی طور پر قبضہ کی گئی تمام زمین سمال ڈیمز آرگنائزیشن کو واپس کرے۔ آڈیٹر جنرل آف پاکستان کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ سیلنگ کلب اور نیوی فارمز کا فورنزک آڈٹ کرے تاہم قومی خزانے کو پہنچنے والے نقصان کا تخمینہ لگایا جا سکے۔ ’اس غیرقانونی عمل کے ذریعے خزانے کو پہنچنے والے تمام تر نقصان کی وصولی ان افسران سے کی جائے جو اس غیرقانی عمل میں ملوث پائے جائیں۔‘
فیصلے میں کہا گیا ہے کہ یہ ستم ظریفی ہے کہ پورے معاملے میں چیف آف نیول سٹاف اور مسلح افواج کا ایک بازو، یعنی پاکستان نیوی، قانون کی خلاف ورزی اور ملک کے آئین کے تحت طے شدہ مینڈیٹ سے تجاوز کی مرتکب پائی گئی ہے۔
یاد رہے کہ راول ڈیم کے کنارے پر نیوی کلب کی تعمیر کے خلاف درخواست زینت سلیم نامی خاتون نے دائر کر رکھی تھی جس میں مؤقف اپنایا گیا کہ سپریم کورٹ کے حکم کے مطابق اسلام آباد نیشنل پارک میں تعمیرات غیر قانونی ہیں کیونکہ اس سے قدرتی ماحول متاثر ہو رہا ہے۔
تحریری فیصلے میں عدالت نے متعلقہ حکام کو ہدایت کی ہے کہ وہ اس کیس میں درخواست گزار خاتون زینت سلیم اور ان کے شوہر کی سکیورٹی کا بندوبست کریں اور اس بات کو یقینی بنائیں کہ درخواست گزار کو اس فیصلے کی بنیاد پر کسی طور ہراساں نہ کیا جائے۔
زینت سلیم نے اپنی درخواست میں کہا گیا تھا کہ راول ڈیم سے راولپنڈی شہر کو پانی کی ترسیل کی جاتی ہے۔ اس لیے راول ڈیم کے کنارے سیلنگ کلب سے ماحولیاتی آلودگی پھیلے گی۔
یہ معاملہ جولائی 2020 سے اسلام آباد ہائی کورٹ میں زیر سماعت تھا۔ ابتدائی طور پر نیوی حکام نے موقف اپنایا تھا کہ 1991 میں حکومت پاکستان نے یہ جگہ سیلنگ کی پریکٹس کے لیے پاکستان نیوی کے لیے مختص کی تھی۔
سماعت کے دوران اسلام آباد ہائی کورٹ کے چیف جسٹس نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا تھا کہ ملک کے لیے فوج کی قربانیوں سے کسی کو انکار نہیں ہے لیکن ایسے غیر قانونی کام کرکے ملک کے لیے جان دینے والوں کی روحوں کو تکلیف پہنچائی جا رہی ہے۔
سماعت کے دوران عدالت نے اس وقت کی بحری فوج کے سربراہ کو نوٹس جاری کیا تھا جس کے جواب میں نیول چیف نے کہا تھا کہ 'وفاقی حکومت کی ہدایات پر نیشنل واٹر سپورٹس سینٹر گذشتہ 25 برس سے پاکستان نیوی کے پاس ہے جس کے قیام کا مقصد واٹر سپورٹس میں نوجوان ایتھلیٹس کی استعدادکار بڑھانا ہے۔
انھوں نے کہا کہ سینٹر کو پاکستان میں واٹر سپورٹس کی ترقی کے لیے جدید سہولیات سے اراستہ اور اپ گریڈ کرنے کا پراجیکٹ جولائی 2020 میں نان پبلک فنڈز سے مکمل ہوا اور اس میں عوامی پیسے کا استعمال نہیں کیا۔' انھوں نے عدالت سے استدعا کی تھی کہ معاملے کو وسیع تر قومی مفاد میں دیکھا جائے۔
عدالت نے ان درخواستوں کی سماعت کے دوران گذشتہ سال جولائی کے مہینے میں اسلام آباد کی کیپیٹل ڈیولپمنٹ اتھارٹی کو بھی نوٹس جاری کیا تھا جس نے عدالت کو بتایا کہ پاکستان نیوی سیلنگ کلب کو اس کی غیرقانونی اور غیرمجاز تعمیر کے لیے نوٹس جاری کیا گیا تھا۔
سی ڈی اے کے بلڈنگ کنٹرول سیکشن کی جانب سے جاری کردہ نوٹس میں پاکستان نیوی سیلنگ کلب کو ہدایت کی گئی تھی کہ وہ کلب کی عمارت کی غیرقانونی اور غیرمجاز تعمیر کو فوری طور پر روکے۔ نوٹیفکیشن میں کہا گیا تھا کہ 'اتھارٹی کے نوٹس میں ایک مرتبہ پھر یہ آیا کہ غیرقانونی تعمیراتی سرگرمیاں پھر بحال کر دی گئی ہیں اور کلب کو فعال کردیا گیا ہے، یہ سی ڈی اے (بائی لاز) کی صریح خلاف ورزی ہے جسے فوری طور پر روکنے کی ضرورت ہے'۔
یہ بھی پڑھیے
ساتھ ہی یہ بھی لکھا گیا تھا کہ 'آپ کو یہ ہدایت کی جاتی ہے کہ غیرقانونی/غیرمجاز تعمیراتی کام اور پاکستان نیوی سیلنگ کلب کی فعال سرگرمیوں کو فوری طور پر روکیں'۔
اس دوران راول جھیل کے کنارے تعمیرات کے معاملے میں پاکستان نیول فارمز سے متعلق شکایت کنندہ زینت سلیم کی عدالت عالیہ میں دائر کردہ درخواست پر معاملہ مزید ابھرا تھا اور پھر 16 جولائی کو اسلام آباد ہائی کورٹ نے 'غیرقانونی تعمیرات' کے خلاف درخواست پر چیف آف نیول اسٹاف، اٹارنی جنرل برائے پاکستان اور کیپیٹل ڈیولپمنٹ اتھارٹی (سی ڈی اے) کو نوٹسز جاری کیے تھے۔
راول جھیل کے کنارے تعمیر کی گئی نیول کلب کو کمرشل بنیادوں پر چلایا گیا اور اس کلب کی ممبر شپ فیس کی مد میں عوام سے لاکھوں بھی وصول کیے گئے تھے۔

،تصویر کا ذریعہ SM Viral post
عدالت نے اپنے حکم میں نیول کلب میں تجارتی سرگرمیوں کو روکنے کا حکم دیا تھا تاہم اس دوران عدالت کے نوٹس میں لایا گیا کہ عدالتی حکم کے باوجود وہاں پر تجارتی سرگرمیاں جاری ہیں جس پر عدالت نے برہمی کا اظہار کیا تھااور بینچ کے سربراہ نے اپنے ریمارکس میں کہا تھا کہ وفاقی دارالحکومت میں ایلیٹ کلاس عدالتی احکامات کو یکسر نظر انداز کرتی ہے جس سے یہ تاثر ملتا ہے کہ جیسے اسلام آباد میں قانون کی حکمرانی نہیں ہے۔
نیول حکام نے مبینہ طور پر کلب کی تعمیر کرکے وہاں پر عام لوگوں کا داخلہ بند کردیا تھا اور اس علاقے میں لوگوں کو مچھلیاں پکڑنے کی بھی اجازت نہیں تھی۔
یہاں یہ امر قابل زکر ہے کہ اسلام آباد ہائی کورٹ میں نیول ہیڈ کوراٹر کے اردگر تعمیر کی گئی دیوار کے خلاف بھی ایک درخواست اسلام آباد ہائی کورٹ میں زیر سماعت ہے اور اس درخواست کی سماعت کے دوران بھی عدالت کی طرف سے سخت ریمارکس آئے تھے۔











