حکومت کی ناقص منصوبہ بندی یا کچھ اور: موسم سرما میں گیس کا ممکنہ بحران گھریلو اور صنعتی صارفین کو کیسے متاثر کرے گا؟

    • مصنف, تنویر ملک
    • عہدہ, صحافی، کراچی

وزیر اعظم پاکستان عمران خان کی جانب سے گذشتہ دنوں قوم سے خطاب کے دوران رواں سال موسم سرما میں ملک میں گیس کی شدید کمی کی پیش گوئی کی گئی تھی۔

پاکستان میں گذشتہ کئی برسوں سے گھریلو اور تجارتی صارفین کو موسم سرما میں گیس کی کمی کا سامنا کرنا پڑتا ہے جس کی وجہ سے گھریلو صارفین کو گیس کی فراہمی میں کمی کر دی جاتی ہے تو دوسری جانب صنعت و تجارت کو گیس کی بندش کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔

گھریلو صارفین کو گیس کی فراہمی کے ساتھ قومی معیشت اپنی توانائی کی ضرورت کو پورا کرنے کے لیے گیس پر بڑی حد تک انحصار کرتی ہے جن میں گیس سے بجلی بنانے والے کارخانے، صنعتوں میں پیداواری عمل کے لیے گیس کی کھپت سے لے کر گاڑیوں میں بطور ایندھن استعمال کرنے کے لیے سی این جی سٹیشنز پر گیس کی فراہمی شامل ہے۔

ملک میں سردیوں کی آمد کے ساتھ گیس کی کھپت میں بھی اضافہ ہو جاتا ہے جس میں زیادہ اضافہ ملک کے شمالی حصے میں گیس پر چلنے والے ہیٹرز اور گیزر کا استعمال بھی ہے جو گھریلو صارفین کی جانب سے گیس استمال کرنے کی شرح کو بڑھا دیتے ہیں۔

حکومت کی جانب سے گھریلو اور تجارتی صارفین کے لیے سردیوں میں گیس کی بجائے بجلی استعمال کرنے کے مراعاتی پیکج بھی دیا گیا ہے جس میں یکم نومبر سے لے کر فروری کے اختتام تک بجلی کے نرخوں میں کمی کا اعلان کیا گیا ہے تاہم اس کے باوجود ملک میں آئندہ دنوں میں گیس کی شدید کمی کی پیش گوئی کی جا رہی ہے۔

ملک میں گیس کی ضرورت کو پورا کرنے کے لیے جہاں مقامی طور پر گیس کی پیداوار ہوتی ہے تو اس کے ساتھ درآمدی گیس بھی سسٹم میں شامل کی جاتی ہے کیونکہ پاکستان میں گیس کی مقامی پیداوار ملکی ضرورت کو پورا کرنے سے قاصر ہے اور ملکی گیس کے ذخائر میں مسلسل کمی بھی دیکھنے میں آرہی ہے۔ جبکہ درآمدی گیس تنازع کا شکار رہی ہے اور بیرون ملک سے درآمد کی جانے والی گیس پر کرپشن اور بدانتظامی کے الزامات بھی تسلسل سے سُننے میں آتے ہیں۔

پاکستان میں گیس کے شعبے کے ماہرین نے اس بات کی تصدیق کی ہے کہ سردیوں میں گیس کا بحران شدید تر ہونے کا خدشہ ہے۔ ان کے مطابق گیس کے شعبے میں بحران کی وجہ اگر کئی برسوں میں اس شعبے میں منظر عام پر آنے والے تنازعات ہیں تو اس کے ساتھ فوری نوعیت کے فیصلوں کے تاخیر نے بھی اس گیس بحران کو شدید بنایا ہے۔

گیس کا بحران کیوں پیدا ہوا اور سردیوں میں کیا ہو گا؟

ملک میں گیس کی کمی کے بارے میں اس شعبے سے وابستہ افراد کا کہنا ہے کہ اس بحران کی وجہ طویل مدتی منصوبہ بندی نہ ہونے کے ساتھ فوری نوعیت کی فیصلہ سازی کا بھی فقدان ہے۔

پاکستان میں گیس کا ایک بہترین انفراسٹرکچر موجود ہے جس میں معیاری ٹرانسمیشن اور ڈسٹری بیوشن نظام ہے۔ معیشت میں گیس کا ایک بہت بڑا کردار ہے۔ ملک میں اس وقت 13315 کلومیٹر طویل ٹرانسمیشن لائن، 149715 کلومیٹر ڈسٹری بیوشن اور 39612 کلو میٹرسروس گیس پائپ لائن کا نیٹ ورک ہے جو ملک میں ایک کروڑ سے زیادہ صارفین کو گیس فراہمی کے کام آتا ہے۔

گیس سیکٹر کے افراد کے مطابق گذشتہ بیس، تیس برسوں میں ملک میں گیس کی طلب اس کی رسد سے بڑھ گئی جس کی وجہ مقامی طور پر گیس کی پیداوار میں کمی ہے اور پاکستان کو 2015 میں گیس درآمد کرنا پڑی۔ پاکستان میں اس وقت درآمدی گیس کے دو ٹرمینل پورٹ قاسم کراچی پر کام رہے ہیں جو اینگرو اور پاکستان گیس پورٹ کی جانب سے لگائے گئے ہیں جن میں درآمدی ایل این جی لائی جاتی ہے اور پھر اسے ملک بھر میں تقسیم کیا جاتا ہے۔

پاکستان میں اگر مقامی طور پر گیس کی پیداوار کا جائزہ لیا جائے تو ادارہ شماریات پاکستان کے مطابق 18-2017 میں ملک میں گیس کی مقامی پیداوار 1458935 ایم ایم سی ایف ٹی تھی جس میں مسلسل کمی دیکھی جا رہی ہے اور یہ گذشتہ مالی سال تک 962397 ایم ایم سی ایف ٹی تک گر چکی ہے۔ مقامی پیداوار میں کمی کی وجہ سے گیس درآمد کی جار ہی ہے جو اس وقت تک ملکی ضرورت کا 23 فیصد پورا کرتی ہے۔

گیس کے شعبے کے ماہر اور عارف حبیب لمیٹڈ کے ہیڈ آف ریسرچ طاہر عباس نے بی بی سی اردو کو بتایا کہ پاکستان میں یومیہ چار بلین کیوبک فیٹ کی ضرورت ہے جس میں سے 2.8 بلین کیوبک فیٹ مقامی ذرائع سے پیدا ہوتی ہے تو 1.2 بلین کیوبک فیٹ درآمد کی جاتی ہے

موجودہ سردی کے سیزن میں گیس کی زیادہ قلت کے بارے میں بات کرتے ہوئے ماہرین نے کہا کہ اس کی بڑی وجہ جو اب تک سامنے آئی ہے وہ گیس کی عالمی قیمتیں ہیں جس کی وجہ سے پاکستان کو کچھ درآمدی گیس کے ٹینڈر منسوخ کرنا پڑے۔

طاہر عباس نے کہا کہ رواں سال گذشتہ سال کے مقابلے میں ایک چیز جو مختلف ہوئی وہ گیس کے عالمی سطح پر بہت زیادہ نرخ ہیں۔ انھوں نے بتایا کہ عالمی مارکیٹ میں ایل این جی جو ان مہینوں میں سات ڈالر فی ایم ایم بی ٹی یو فراہم کی جا رہی تھی اس کی موجودہ قیمت تیس ڈالر سے تجاوز کر چکی ہے۔

انھوں نے کہا کہ پاکستان کے درآمد کے کچھ معاہدے طویل مدتی ہیں تو کچھ ’سپاٹ کارگو‘ ہوتے ہیں یعنی موجودہ قیمت پر ایل این جی خریدنا۔ طاہر نے کہا کہ کورونا وائرس کے بعد طلب اتنی زیادہ بڑھی کہ دوسری چیزوں کی طرح گیس کی قیمتیں بھی اپنی بلند ترین سطح پر پہنچ گئیں۔

واضح رہے کہ پاکستان نے حال ہی میں سپاٹ ٹریڈنگ کے لیے ایمرجنسی ٹینڈر جاری کیے کیونکہ پاکستان کو درآمدی گیس فراہم کرنے والی دو کمپنیوں نے زیادہ قیمت کی وجہ سے پہلے نرخوں پر گیس بیچنے سے انکار کر دیا تھا۔

تیل و گیس کے شعبے کے ماہر زاہد میر نے بی بی سی اردو کو بتایا کہ دنیا میں ایل این جی کی بڑھی ہوئی قیمتوں کی وجہ سے جہاں بہت سارے دوسرے ممالک متاثر ہوئے وہیں پاکستان بھی ان میں شامل ہے۔ انھوں نے بتایا کہ اگر برطانیہ کو دیکھا جائے تو وہاں گیس سپلائی کرنے والے 20 سپلائرز اس وجہ سے ڈیفالٹ کر گئے کہ وہ پرانے نرخوں پر گیس فراہم کرنے سے قاصر تھے۔

میر نے بتایا کہ پاکستان میں اگلے دو مہینوں میں گیس کی کمی بہت زیادہ ہو گی جس کی وجہ یہی ہے کہ پاکستان لانگ ٹرم معاہدوں پر گیس حاصل کر لے گا لیکن سپاٹ کارگو اتنے مہنگے ہیں کہ انھیں برداشت کرنا مشکل ہو گا۔

انھوں نے بتایا کہ پاکستان نے حال ہی میں اگر مہنگی ایل این جی گیس تیس ڈالر فی ایم ایم بی ٹی یو پر خریدی ہے اس سے زیادہ خریدنا اور اسے سستے داموں صارفین کو فراہم کرنا اس شعبے میں گردشی قرضے کو بڑھائے گا۔

یہ بھی پڑھیے

میر نے بتایا کہ پاکستان میں مقامی پیداوار سے حاصل ہونے والی گیس کی قیمت 2.50 سے 5 ڈالر ایم ایم بی ٹی یو ہے اور اگر طویل مدتی معاہدوں پر حاصل ہونے والی گیس کو اس میں شامل کر لیا جو گیارہ ڈالر کے لگ بھگ بنتا ہے تو پھر بھی یہ کسی حد تک قابل قبول ہے لیکن تیس ڈالر اور اس سے اوپر کے نرخوں پر ایل این جی کی خریداری کر کے اسے کم نرخوں پر بیچنا ممکن نہیں۔

میر نے کہا کہ آنے والے مہینوں میں پاکستان کو چار سو ملین کیوبک فیٹ گیس کی روزانہ کی بنیادوں پر کمی کا سامنا کرنا پڑے گا جو گیس کی بہت زیادہ کمی کی علامت ہے۔

تیل و گیس کے شعبے میں کام کرنے والی کمپنیوں کے اعلیٰ انتظامی عہدوں پر کام کرنے والے نجم الحسن نے بتایا کہ سپاٹ ٹریڈنگ میں اس وقت مہنگی گیس مل رہی ہے اور یہ ممکن نہیں کہ اس مہنگی گیس کو خرید کر صارفین کو کم نرخوں پر بیچا جائے۔

انھوں نے کہا گیس کا بحران تو ہے لیکن اس کی وجہ گیس کی عالمی قیمتیں ہیں۔ انھوں نے بتایا کہ سردیوں میں گیس کی زیادہ کھپت کی وجہ سے حکومت سپاٹ کارگو خریدتی ہے تاہم اس سال کورونا کے بعد جب تیل اور گیس کی طلب بڑھی تو ان کی قیمتیں بھی اس بلند سطح پر پہنچ چکی ہیں کہ اب درآمدی گیس کو خرید کر اسے مقامی صارفین کو بیچنا مشکل نظر آتا ہے۔

گیس بحران میں مختلف شعبوں کو کیسے ترجیح دی جائے گی؟

سردیوں میں گیس کی کمی کی وجہ سے مختلف شعبوں کو گیس فراہمی کے حوالے سے ترجیح کے بارے میں بات کرتے ہوئے طاہر عباس نے کہا حکومت نے اس سلسلے میں ایک مراعاتی پیکج دیا ہے جس میں بجلی کے استعمال کو زیادہ کرنے کے لیے تھوڑے سے نرخ کم کیے گئے ہیں۔ انھوں نے بتایا کہ اس سلسلے میں سب سے پہلے حکومت گیس پر چلنے والے بجلی کے کارخانوں کو گیس کی فراہمی منقطع کرے گی اور انھیں فرنس آئل یا دوسرے ایندھن پر بجلی بنانے کے لیے کہے گی۔

اسی طرح سی این جی سیکٹر اور برآمدی شعبے کے علاوہ دوسری صنعتوں کو بھی گیس کی فراہمی منقطع ہو سکتی ہے۔ طاہر نے بتایا کہ گھریلو صارفین اور برآمدی شعبہ حکومت کی پہلی ترجیح ہو گا۔

حکومت کی جانب سے تاہم ابھی تک کوئی واضح حکمت عملی سامنے نہیں آئی ہے کہ گیس کی کمی کی وجہ سے مختلف شعبوں کو گیس کی فراہمی میں کیسے ترجیح دی جائے گی۔

پنجاب اور خیبر پختونخوا کو گیس کی سپلائی کے حکومتی ادارے سوئی نادرن گیس پائپ لائن لمیٹڈ سے جب ان دو صوبوں میں سردیوں میں گیس کی سپلائی اور مختلف شعبوں کی ترجیحات پر موقف لیا گیا تو ان کی جانب سے جواب دیا گیا کہ وہ اس سلسلے میں وزارت توانائی کی ہدایات کے منتظر ہیں تاہم گیس یوٹیلیٹی کے مطابق صارفین کو بلاتعطل سپلائی کے لیے بھرپور کوشش کی جائے گی۔

دوسری جانب وزیر توانائی حماد اظہر کی جانب سے پارلیمنٹ میں دیے گئے بیان کے مطابق سردیوں کے دوران گیس دن میں تین دفعہ فراہم ہو گی۔ ان کے مطابق صارفین کو پورے دن میں ناشتے، دوپہر اور رات کے کھانے کے دوران گیس فراہم کی جائے گی۔ انھوں نے اپنے پالیسی بیان میں کہا حکومت گھریلو صارفین اور صنعتی شعبے کو گیس فراہم کرنے کی کوشش کرے گی۔

تاہم وفاقی وزیر نے اپنے بیان کے برعکس اپنی وزارت کے جانب سماجی رابطے کی ویب سائٹ کی جانب سے پوسٹ کیے جانے والے ایک پیغام کو ری ٹویٹ کیا جس میں کہا گیا کہ ’میڈیا میں گھریلو صارفین کو دن میں تین وقت میں گیس کی فراہمی کی خبریں بے بنیاد ہیں۔ وزارت توانائی کی جانب سے ابھی تک کوئی ایسا فیصلہ نہیں کیا گیا کیونکہ وزارت توانائی نے سوئی نادرن گیس کمپنی کو کھانے کے اوقات میں گھریلو صارفین کو گیس فراہمی کی ہدایات جاری کر رکھی ہیں۔‘

وزیر اعظم کے مشیر تجارت رزاق داؤد سے جب کراچی میں ایک پریس کانفرنس کے بعد گیس کی کمی اور اس کی فراہمی کے بارے میں پوچھا گیا تو انھوں نے بی بی سی کو بتایا کہ گھریلو صارفین کو گیس کی فراہمی یقینی بنائی جائے گی۔ انھوں نے کہا کہ ان کی کوشش ہو گی کہ صنعتوں خاص کر برآمدی شعبے کو گیس کی فراہمی یقینی بنائی جائے۔

رزاق داود نے بتایا کہ انھوں نے اس سلسلے میں وزیر توانائی حماد اظہر سے بھی میٹنگ کی ہے تاہم ان کے مطابق ملک میں گیس کی کمی تو ہے اور ان کی کوشش ہو گی کہ برآمدی شعبے کو گیس کی کمی فراہمی کی صورت میں نقصان کم سے کم ہو کیونکہ اس وقت ملکی برآمدات میں اضافے کا رجحان برقرار ہے اور ان کی کوشش ہو گی کہ اس اضافے کے رجحان کو جاری رکھا جائے۔ رزاق داود نے کہا کہ دسمبر اور جنوری میں گیس کا شدید بحران ہو سکتا ہے۔

وزارت توانائی کے ترجمان کے مطابق کابینہ کمیٹی برائے توانائی کے آئندہ اجلاس میں مختلف شعبوں کو گیس کی فراہمی کے لحاظ سے ترجیحات کا تعین کیا جائے گا۔ تاہم اس کمیٹی کے آخری اجلاس میں میڈیا اطلاعات کے مطابق فرٹیلائزر اور بجلی کے شعبے کو گیس کی فراہمی کی جائے گی تاکہ زرعی شعبے میں کھاد کی ضرورت کو پورا کیا جائے اور ربیع کی فصلوں کو مطلوبہ کھاد فراہم کی جا سکے۔ اسی طرح پاور کے شعبے کو بھی گیس دی جائے تاکہ زیادہ بجلی پیدا کر کے صارفین کو زیادہ بجلی استعمال کرنے کی جانب سے راغب کیا جا سکے جس کے لیے حکومت نے بجلی کے کم نرخوں کی صورت میں مراعاتی پیکج کا اعلان کیا ہے

گیس بحران کی وجہ ناقص حکومت عملی یا کچھ اور؟

ملک میں تیل و گیس کے شعبے میں کام کرنے والی کمپنیوں کے ساتھ منسلک کچھ عہدیداروں نے اس سلسلے میں بتایا کہ اگر اس گیس بحران کو دیکھا جائے تو اس میں ایک چیز بہت واضح نظر آتی ہے کہ ایل این جی کی درآمد جس تنازع کا شکار رہی اور گذشتہ حکومت کے دور میں ایل این جی کے معاہدے پر نیب نے جس طرح کارروائیاں کیں اس کے بعد حکومتی ادارے اور ان میں کام کرنے والے افسران بھی اپنے آپ کو غیر محفوظ سمجھتے ہے کہ وہ کسی ایک نرخ پر سودا کریں اور عالمی مارکیٹ میں ریٹ گر جائے تو کل انھیں پیشیاں بھگتنا پڑتی ہیں۔

ایک عہیدیدار نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ سابق وزیر اعظم شاہد خاقان عباسی نے پاکستان میں ایل این جی درآمد شروع کی اس وقت پاکستان کو گیس کی ضرورت تھی۔ پاکستان پہلی بار ایل این جی خریداری کی مارکیٹ میں جا رہا تھا اور اس کا پریمیئم رسک بھی زیادہ تھا لیکن پھر بھی پاکستان نے 13 ڈالر پر یہ سودے کیے۔

انھوں نے کہا کہ اس ریٹ پر اب تک پاکستان سو کارگو خرید چکا تھا جب ندیم بابر نے تحریک انصاف کے دور میں سودے کیے تو پاکستان این ایل جی کی عالمی مارکیٹ میں داخل ہو چکا تھا اور انھوں نے دس ڈالر پر ایل این جی خریدی تو اس کی وجہ اس وقت ایل این جی کی کم قیمت تھی۔

نجم الحسن نے اس سلسلے میں بتایا کہ پاکستان میں گیس کی خریداری کا نظام ہی نقائص سے بھرا ہوا ہے۔ انھوں نے بتایا کہ پی ایس او یہ گیس درآمد کرتا ہے اور پھر اسے آگے بیچتتا ہے۔

انھوں نے کہا کہ سپاٹ کارگو کے لیے آپ کو فوری فیصلہ کرنا ہوتا ہے لیکن پاکستان میں پیپرا رولز اس کے آڑے آ جاتے ہیں۔ انھوں نے بتایا کہ اندرون ملک کسی نوعیت کی خریداری کے لیے پیپرا رولز تو سمجھ آتے ہیں لیکن جب بین الاقوامی مارکیٹ میں سے کوئی چیز خریدنا ہے اور اس کے نرخ بڑھ رہے ہوں تو پیپرا رولز پر عملدرآمد ممکن نہیں۔

طاہر عباس نے کہا کہ کرپشن کا عنصر تو اس میں شامل نہیں ہے تاہم یہ بات کہی جا سکتی ہے کہ اس بات کا جائزہ شاید نہیں لیا گیا کہ اگر ایل این جی کی طلب بڑھتی ہے اور اس کی قیمتیں بڑھتی ہیں تو اس کی کیا حکمت عملی ہو گی۔