نور مقدم نے ایک نہیں بلکہ دو مرتبہ ملزم ظاہر جعفر کے گھر سے فرار ہونے کی کوشش کی: پولیس دستاویز

نور

،تصویر کا ذریعہSara Mukaddam

    • مصنف, شہزاد ملک
    • عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، اسلام آباد

نور مقدم قتل کیس میں عدالت میں پولیس کی جانب جمع کروائے جانے والی نئی دستاویزات کے مطابق نور مقدم نے قتل کی واردات سے قبل مرکزی ملزم ظاہر جعفر کے گھر سے ایک نہیں بلکہ دو مرتبہ فرار ہونے کی کوشش کی لیکن گھر کا مرکزی دروازہ عبور کرنے سے پہلے ہی گھریلو ملازمین نے ان کوششوں کو ناکام بنا دیا۔

ابتدائی طور پر کہا جا رہا تھا کہ نور مقدم نے صرف 20 جولائی (یعنی اپنے قتل ہونے سے چند گھنٹوں قبل) ظاہر جعفر کے گھر سے فرار کی کوشش کی تاہم نئی تفصیلات ظاہر کرتی ہیں کہ نور ایسی ہی ایک کوشش 19 جولائی کی رات کو بھی کی تھی جس میں انھیں ناکامی کا سامنا کرنا پڑا تھا۔

یہ تفصیلات منگل کے روز اسلام آباد کی مقامی عدالت میں پولیس کی جانب سے جمع کرائی جانے والی ان دستاویزات (ٹرانسکرپٹ) سے سامنے آئی ہیں جو مرکزی ملزم ظاہر جعفر کے گھر کے باہر لگے کمیرے کی سی سی ٹی وی ویڈیو کے مکمل جائزے سے حاصل کی گئی ہیں۔

اس کیس کی آئندہ سماعت کل (بدھ) ہو گی اور پولیس کی جانب سے عدالت میں جمع کروائی گئی اس نئی دستاویز کی نقل عدالتی حکم پر ملزمان کے وکلا کو بھی فراہم کی گئی ہے۔

ان دستاویزات سے جہاں کئی ایسی معلومات سامنے آئی ہیں جو پہلے سے ہی ریکارڈ کا حصہ ہیں مگر اس کے ساتھ ساتھ یہ بھی پتہ چلتا ہے کہ نور مقدم کی جانب سے ایک بار نہیں بلکہ کم از کم دو مختلف اوقات میں گھبراہٹ اور خوف کی حالت میں مرکزی ملزم کے گھر سے فرار کی کوشش کی جسے ناکام بنا دیا گیا۔

18/19 جولائی کو کیا ہوا؟

ظاہر جعفر

،تصویر کا ذریعہGetty Images

،تصویر کا کیپشنمرکزی ملزم ظاہر جعفر

بی بی سی اُردو نے عدالت میں جمع کروائی گئی اس پولیس دستاویز کو دیکھا ہے جس میں بتایا گیا ہے کہ مرکزی ملزم ظاہر جعفر کے اسلام آباد کے علاقے ایف سیون میں گھر کے باہر لگے ڈی وی آر کیمرے کا وقت پاکستانی سٹینڈرڈ ٹائم سے پینتیس منٹ ’ایڈوانس‘ یعنی آگے ہے۔

سی سی ٹی وی کی پولیس ٹرانسکرپٹ کے مطابق پہلی ویڈیو اٹھارہ جولائی کو رات دس بج کر اٹھارہ منٹ کی ہے جب نور مقدم مرکزی ملزم ظاہر جعفر ہاؤس ایف سیون کے مین گیٹ سے گھر میں ٹیلی فون سنتے ہوئے داخل ہوتی نظر آتی ہیں۔ اس فوٹیج میں گیٹ پر چوکیدار افتخار بھی موجود دکھائی دیتا ہے۔

یہ بھی پڑھیے

گھر میں داخلے کے تقریبا ساڑھے چار گھنٹے کے بعد رات دو بج کر 39 منٹ پر ظاہر جعفر اور نور مقدم کو بڑے بیگ لے کر گھر کے مین گیٹ سے باہر نکلتے دیکھا جا سکتا ہے لیکن دو بج کر 40 منٹ پر گھر کے مین گیٹ کے باہر کھڑی ٹیکسی میں سامان رکھ کر دونوں واپس گھر میں داخل ہوتے نظر آتے ہیں۔

اس کے تھوڑی ہی دیر بعد دو بج کر 41 منٹ پر نور مقدم بظاہر انتہائی گھبراہٹ اور خوف کی حالت میں ننگے پاﺅں باہر نکلتی ہے اور گھر کے گیٹ کی طرف بھاگتی ہے جہاں موجود چوکیدار افتخار مرکزی گیٹ کو بند کرتا نظر آتا ہے۔

ٹرانسکرپٹ کے مطابق اسی دوران مرکزی ملزم ظاہر جعفر گھر سے جلدی میں گیٹ پر آتا ہے اور نور مقدم کو دبوچ لیتا ہے، پولیس کے مطابق فوٹیج میں دیکھا جا سکتا ہے کہ نور مقدم ہاتھ جوڑ کر ملزم سے منت سماجت کرتی نظر آتی ہے جس کی پرواہ نہ کرتے ہوئے ظاہر جعفر نور مقدم کو زبردستی کھینچ کر گھر کے اندر لے جاتا نظر آتا ہے۔

گھر
،تصویر کا کیپشنملزم ظاہر جعفر کا گھر جہاں سے نور کی ڈیڈ باڈی ریکور کی گئی تھی

اس دوران گھر کے صحن میں کالے رنگ کا کتا بھی نظر آتا ہے۔

20 جولائی کو کیا ہوا؟

انیس جولائی کے بعد پولیس دستاویزات میں بیس جولائی کی فوٹیج کا ذکر کیا گیا ہے جب شام سات بج کر بارہ منٹ پر نور مقدم کو گھر کے پہلے فلور سے چھلانگ لگا کر گراﺅنڈ فلور کی گیلری کے ساتھ لگے جنگلے پر گرتے دیکھا جا سکتا ہے۔

فوٹیج کی ٹرانسکرپٹ کے مطابق اس وقت نور مقدم کے ہاتھ میں موبائل فون موجود ہے اور وہ لڑکھڑاتی ہوئی مین گیٹ پر آتی ہیں۔ پولیس ٹرانسکرپٹ کے مطابق نور مقدم گھر سے باہر جانا چاہتی ہیں لیکن گیٹ پر موجود چوکیدار افتخار اور ایک شخص جسے گھر کا مالی بیان کیا گیا ہے گیٹ بند کرتے نظر آتے ہیں۔

پولیس کی ویڈیو ٹرانسکرپٹ کے مطابق اسی اثنا میں مرکزی ملزم ظاہر جعفر کو بھی گھر کے پہلے فلور کے ٹیرس سے چھلانگ لگا کر گراونڈ فلور پر آتا دیکھا جا سکتا ہے جس کے بعد وہ دوڑ کر گیٹ سے نور مقدم کو پکڑتا ہے اور نزدیکی کیبن میں بند کر دیتا ہے۔

پولیس ٹرانسکرپٹ کے مطابق ملزم ظاہر جعفر کو کیبن کا دروازہ کھول کر پہلے موبائل فون چھینتے ہوئے اور پھر نور مقدم کو زبردستی کیبن سے نکال کر گھر کے اندر گھسیٹتے ہوئے دیکھا جا سکتا ہے۔

پولیس
،تصویر کا کیپشننور کی تدفین اسلام آباد کے مقامی قبرستان میں کی گئی تھی

عدالت میں جمع کرائی جانے والی مرکزی ملزم کے گھر لے باہر کی سی سی ٹی وی فوٹیج کی ٹرانسکرپٹ کے مطابق اس کیس کی اگلی اہم ویڈیو بیس جولائی کو رات آٹھ بج کر چھ منٹ کی ہے جب تھراپی ورکس کی پانچ سے چھ افراد پر مشتمل ٹیم گھر کے گیٹ سے اندر آتی ہے اور تقریباً چھتیس منٹ بعد آٹھ بج کر بیالیس منٹ پر ان افراد کو گھر میں داخل ہوتے دیکھا جا سکتا ہے۔

سی سی ٹی وی ٹرانسکرپٹ کے مطابق تیرہ منٹ بعد آٹھ بج کر پچپن منٹ پر تھراپی ورکس کی ٹیم ایک زخمی شخص کو گھر سے باہر گیٹ کی طرف لاتی نظر آتی ہے۔

واضح رہے کہ اس کیس کی گذشتہ سماعت کے دوران مرکزی ملزم ظاہر جعفر نے عدالت میں شور شرابا کیا تھا اور پولیس اہلکاروں کے ساتھ جھگڑا کیا تھا جس پر عدالت نے کہا تھا کہ اگر آئندہ اس نوعیت کا واقعہ پیش آیا تو کیس کی مزید سماعتیں جیل کے اندر ہی ہوں گی۔ اسلام آباد ہائی کورٹ نے 23 ستمبر کو ٹرائل کورٹ کو دو مہینوں میں اس مقدمے کی سماعت مکمل کر کے فیصلہ سنانے کا حکم دیا تھا۔

اس مقدمے میں اب تک سات گواہوں کے بیانات قلمبند ہو چکے ہیں جن میں تمام کے تمام سرکاری ملازم ہیں۔ اس مقدمے میں دو پرائیویٹ گواہ ہیں جن میں سے ایک نور مقدم کے والد شوکت مقدم اور دوسرے اُن کا دوست شامل ہیں اور پولیس کے مطابق ان دونوں گواہوں کا کردار اس حد تک ہے کہ پولیس نے جب جائے حادثہ سے مقتولہ کا موبائل فون برآمد کیا تھا تو اس وقت یہ دونوں گواہان وہاں پر موجود تھے۔

اس مقدمے سے منسلک ایک پولیس اہلکار نے بتایا کہ ابھی مزید 12 گواہان کے بیان ریکارڈ ہونے ہیں جس کے لیے وقت درکار ہے اور بظاہر یہ ٹرائل اسلام آباد ہائی کورٹ کی جانب سے مکمل ہوتا نظر نہیں آتا۔