ڈینیئل پرل کیس: سندھ حکومت کا عمر شیخ کی سزائے موت کے خاتمے کے خلاف اپیل کا فیصلہ

ڈینیئل پرل

،تصویر کا ذریعہAFP

،تصویر کا کیپشنامریکی اخبار وال سٹریٹ جنرل کے جنوبی ایشیا میں نمائندے ڈینیئل پرل 23 جنوری 2002 کو کراچی سے لاپتہ ہوئے تھے

پاکستان کے صوبہ سندھ کی حکومت نے ہائی کورٹ کی جانب سے امریکی صحافی ڈینیئل پرل کے قتل کے مقدمے میں مرکزی ملزم احمد عمر سعید شیخ کی سزائے موت کو ختم کر کے اغوا کے جرم میں سات برس قید کی سزا دینے کے فیصلے کے خلاف اپیل دائر کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔

دریں اثناء وزارت داخلہ کی جانب سے جاری ہونے والی ایک پریس ریلیز میں وفاقی حکومت نے ہائی کورٹ کے فیصلے پر تشویش کا اظہار کیا ہے تاہم اس کا کہنا ہے کہ فوجداری مقدمات کے تناظر میں یہ ایک صوبائی معاملہ ہے اور اسی تناظر میں سندھ حکومت کے ساتھ بھی یہ معاملہ اٹھایا گیا ہے۔

وفاقی حکومت نے سندھ حکومت کو اس معاملہ پر پاکستان کے اٹارنی جنرل سے بھی مشاورت کرنے کا کہا ہے۔

سندھ ہائی کورٹ کے فیصلے کے خلاف اپیل اآئندہ ہفتہ سپریم کورٹ میں دائر کی جائے گی۔ اور وفاق نے سندھ حکومت کو انصاف کے تمام تقاضے پورے کرنے، اپیل دائر کرنے کے حوالے سے بہترین وسائل استعمال کرنے کا بھی کہا ہے۔

اس کے علاوہ وفاقی حکومت نے اپیل کا عمل مکمل ہونے تک تمام ملزمان کو نقص عامہ کے قانون کے تحت تین ماہ کے لیے نظر بند کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔

پریس ریلیز میں کہا گیا ہے کہ وزارت داخلہ اور حکومت پاکستان دہشت گردوں کو منطقی انجام تک پہنچانے کے لیے تمام قانونی ضابطے پورے کرنے کے لیے پرعزم ہے۔

واضح رہے کہ دو اپریل کو پاکستان کے صوبہ سندھ کی ہائی کورٹ نے امریکی صحافی ڈینیئل پرل کے قتل کے مقدمے میں مرکزی ملزم احمد عمر سعید شیخ کی سزائے موت ختم کرتے ہوئے انھیں اغوا کے جرم میں دی گئی سات برس قید کی سزا برقرار رکھی تھی۔ جبکہ عدالت نے دیگر تین ملزمان کو بری کرتے ہوئے ان کی رہائی کا حکم بھی جاری کیا تھا۔

یہ بھی پڑھیے

احمد عمر شیخ بھی قید میں سات برس سے زیادہ عرصہ گزار چکے ہیں اس لیے ان کی جلد رہائی کی توقع کی جا رہی تھی۔

ڈینیل پرل کیس میں فیصلہ

نامہ نگار ریاض سہیل کے مطابق سندھ ہائی کورٹ کے جسٹس کریم خان آغا اور جسٹس ذوالفقار سانگی پر مشتمل ڈویژن بینچ نے جمعرات کو ملزمان کی اپیل پر چھ مارچ کو محفوظ کیا گیا فیصلہ سنایا۔

ملزمان کے وکیل خواجہ نوید کا کہنا ہے کہ فیصلے کے مطابق ہائی کورٹ نے شیخ عمر کو صرف اغوا کے کیس میں ملوث قرار دیا ہے جبکہ قتل کے الزام سے بری کر دیا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ ’وہ 20 سال سے جیل میں ہیں۔ دیگر تین ملزمان پر بھی دو سال مقدمہ چلا اور وہ 18 سال اپیل کے فیصلے کے متتظر رہے ہیں۔ اب 20 سال کے بعد یہ ثابت ہو گیا ہے کہ یہ تمام بےگناہ ہیں۔ جو سزا شیخ عمر کاٹ چکے ہیں اس کا انھیں ریلیف ملے گا۔‘

حیدرآباد کی انسداد دہشت گردی کی عدالت نے 2002 میں احمد عمر سعید شیخ عرف شیخ عمر کو سزائے موت جبکہ دیگر ملزمان فہد نسیم، سلمان ثاقب اور شیخ عادل کو عمر قید کی سزا سنائی تھی اس کے علاوہ دیگر ملزمان ہاشم، عاصم عرف قاسم، حسن، احمد بھائی، امتیاز صدیقی اور امجد فاروقی کو مفرور قرار دیا گیا تھا۔

ہاشم عرف عارف کو 2005 میں پنجاب سے گرفتار کیا گیا تھا، جنھیں بعد میں سندھ پولیس کے حوالے کیا گیا۔ ہاشم کا تعلق حرکت المجاہدین سے ظاہر کیا گیا تھا۔

انسداد دہشت گردی کی عدالت کے فیصلے کے خلاف ملزمان نے ہائی کورٹ میں اپیل دائر کیں تھیں تاہم وکلا کی عدم حاضری اور عدم دستیابی کے باعث ان کی سماعت کئی سال تاخیر کا شکار رہی۔

ملزمان کے وکلا رائے بشیر اور خواجہ نوید نے عدالت میں موقف اختیار کیا کہ کیس میں تمام گواہ پولیس اہلکار تھے اور اس کے علاوہ پولیس کوئی ٹھوس ثبوت پیش نہیں کرسکی ہے لہٰذا پولیس اہلکاروں کی گواہی پر اعتماد نہیں کیا جا سکتا۔

وکلا کا یہ بھی موقف تھا کہ ملزم نسیم اور ثاقب سے ای میلز اور پیغامات سے بھرا لیپ ٹاپ برآمد کیا گیا اور اور مجسٹریٹ کے روبرو ان کا جو اعتراف جرم ریکاڈ کیا گیا وہ رضاکارانہ نہیں تھا اس میں نقص ہے۔

انھوں نے کہا تھا کہ ’پولیس نے لیپ ٹاپ کی ریکوری 11 فروری 2002 کو ظاہر کی جبکہ کمپیوٹر ماہر رونالڈ جوزف کا دعویٰ ہے کہ اسے یہ لیپ ٹاپ چار فروری کو بھیجا گیا جو اس کے پاس چھ روز رہا۔ پولیس کے اس موقف میں بھی تضاد ہے، لہٰذا ملزمان کی سزا معطل کر کے انھیں رہا کیا جائے۔

امریکی اخبار وال سٹریٹ جنرل کے جنوبی ایشیا میں نمائندے ڈینیئل پرل 23 جنوری 2002 کو کراچی سے لاپتہ ہوئے تھے۔

ڈینیئل پرل
،تصویر کا کیپشن21 فروری 2002 میں پاکستانی حکام کو ایک ویڈیو موصول ہوئی جس میں ڈینیئل پرل کی ہلاکت دکھائی گئی تھی

27 جنوری کو ایک غیر معروف تنظیم ’دا نیشنل موومنٹ فار دا ریسٹوریشن آف پاکستانی سوورینٹی‘ کی جانب سے دھمکی آمیز پیغام منظر عام پر آیا تھا کہ اگر 24 گھنٹوں کے اندر گوانتانامو بے میں قید پاکستانیوں کو رہا نہ کیا گیا، پاکستان کو ایف 16 طیارے فراہم نہ کیے گئے اور تاوان ادا نہ کیا گیا تو امریکی صحافی کو ہلاک کر دیا جائے گا۔

21 فروری 2002 میں پاکستانی حکام کو ایک ویڈیو موصول ہوئی جس میں ڈینیئل پرل کی ہلاکت دکھائی گئی تھی۔ پھر مئی میں کراچی میں ہی ایک گڑھے سے ایک سر بریدہ لاش برآمد ہوئی جو ڈی این اے رپوٹ کے مطابق یہ ڈینئیل پرل کی تھی۔

بعدازاں کراچی کے آرٹلری میدان تھانےمیں فہد نعیم، سید سلمان ثاقب، شیخ عادل، احمد عمر شیخ کے خلاف اِغوا اور قتل کا مقدمہ درج کیا گیا اور بعد میں دیگر ملزمان کے نام بھی شامل کر دیے گئے۔

تاہم واشنگٹن ڈی سی کی جارج ٹاؤن یونیورسٹی کے تین سالہ پرل پروجیکٹ کی جانب سے دعویٰ کیا گیا تھا کہ ان چاروں مجرموں نے صحافی کے اغوا میں ضرور مدد کی تھی تاہم قتل انھوں نے نہیں کیا تھا۔

امریکی صحافیوں کی طرف سے تیار کی گئی اس رپورٹ کے مطابق قتل کی ویڈیو بھی دو مرتبہ بنائی گئی تھی۔ پہلی میں صحافی کی گردن کٹ چکی تھی لیکن کیمرا مین نے انھیں قتل کرنے والے خالد شیخ محمد سے کہا کہ وہ دوبارہ اسے ریکارڈ کروائیں اور دوسری مرتبہ خالد نے ڈینئل پرل کا سر تن سے جدا کیا۔

کراچی پولیس نے 2019 میں ایک مبینہ پولیس مقابلے میں شاہد شیخ نامی شخص کو بھی ہلاک کیا تھا جس کے بارے میں دعویٰ کیا گیا تھا کہ وہ ڈینیئل پرل کے قتل میں بھی ملوث تھا۔

احمد عمر سعید شیخ
،تصویر کا کیپشن1994 میں عمر شیخ نے انڈین دارالحکومت میں تین برطانوی اور ایک امریکی شہری کو اغوا کیا اور ان کے رہائی کے بدلے دس کشمیری رہنماؤں کی جیل سے رہائی کا مطالبہ کیا تھا

پولیس کے مطابق شاہد شیخ کو سنہ 2002 میں انھیں گرفتار کیا گیا تاہم سنہ 2006 میں انھیں رہا کر دیا گیا تھا اور وہ اسی مقدمے میں گرفتار ملزم نعیم بخاری عرف عطا الرحمان کے قریبی ساتھی تھے۔

عطاالرحمان کو فوجی عدالت نے سزائے موت سنائی تھی اس پر ڈینیئل پرل کے اغوا اور قتل کے علاوہ کراچی ایئرپورٹ پر حملے کا بھی الزام تھا۔

عمر سعید شیخ کون ہیں؟

1973 میں لندن میں ایک متمول اور مذہبی رجحان رکھنے والے پاکستانی خاندان میں پیدا ہونے والے عمر سعید شیخ کے بارے میں سابق پاکستانی فوجی صدر جنرل ریٹائرڈ پرویز مشرف سنہ 2006 میں شائع ہونے والی اپنی کتاب 'ان دی لائن آف فائر' میں لکھا کہ ’عمر شیخ کو لندن اسکول آف اکنامکس میں دوران تعلیم ہی برطانوی انٹیلی جنس ادارے ایم آئی سکس نے بھرتی کر لیا تھا۔ ان کے ذریعے بوسنیا میں سرب جارحیت کے خلاف لندن میں مظاہرے منعقد کروائے گئے حتیٰ کہ برطانوی انٹیلی جنس نے اسے کوسوو میں جہاد کے لیے بھی بھیجا'۔

ان معلومات کی کبھی باضابطہ تردید نہیں کی گئی اور خود عمر شیخ نے بھی یہ اعتراف کیا تھا وہ سنہ 1992 میں زمانہ طالب علمی میں بوسنیا گئے تھے اور وہاں مسلمانوں کے خلاف سربوں کے ظلم اور اس پر عالمی طاقتوں کی 'بے حسی' نے ان کے ذہن پر گہرے نقوش چھوڑے۔

بوسنیا سے جہاد میں حصہ لینے کا تصور لیے عمر شیخ افغانستان پہنچے جہاں انھوں نے ’جنگی تربیت‘ حاصل کی لیکن مبصرین کے مطابق اس 'جنگی' تربیت کے استعمال کی انھیں شاید کبھی ضرورت نہیں پڑی کیونکہ انھوں نے اپنی مغربی تعلیم اور تربیت کو استعمال کرتے ہوئے مغرب سے تعلق رکھنے والوں کو اغوا کر کے اپنے مقاصد پورا کرنے کا پروگرام بنایا۔

1994 میں عمر شیخ نے انڈین دارالحکومت نئی دہلی میں تین برطانوی اور ایک امریکی شہری کو اغوا کیا اور ان کے رہائی کے بدلے دس کشمیری رہنماؤں کی جیل سے رہائی کا مطالبہ کیا تاہم یہ منصوبہ ناکام ہوا، وہ پولیس مقابلے میں زخمی ہوئے اور انڈین حکام کی قید میں چلے گئے۔

اس قید سے اسے رہائی دسمبر 1999 میں اس وقت ملی جب ایک انڈین مسافر طیارہ کھٹمنڈو سے دلی جاتے ہوئے اغوا ہو کر قندھار لے جایا گیا۔ طیارے کے مسافروں کے بدلے تین افراد کی رہائی عمل میں آئی جن میں کشمیری جیلوں میں بند مولانا مسعود اظہر، مشتاق زرگر اور عمر شیخ شامل تھے۔

پھر امریکی خفیہ ادارے سی آئی نے دعویٰ کیا کہ امریکہ پر نائن الیون کے حملوں میں شامل ایک شخص محمد عطا کو پاکستان سے ایک بڑی رقم عمر شیخ نے امریکہ بھیجی تھی۔ ابھی یہ انکشاف اخبارات کی زینت نہیں بنا تھا کہ پاکستان میں امریکی صحافی ڈینئل پرل کا اغوا ہو گیا۔

تفتیش کے دوران اس معاملے میں عمر سعید شیخ کا نام سامنے آیا اور پھر کراچی پولیس نے عمر شیخ کو لاہور میں تلاش کر لیا۔ ایک افسر کی ان سے فون پر بات بھی ہوئی اور انھیں ڈینیئل پرل کو رہا کرنے کے بدلے رعایت دینے کی پیشکی کی گئی لیکن پھر وہ تفتیش کاروں کے ریڈار سے غائب ہو گئے۔

دس روز تک تلاش جاری رہی جس کے بعد عمر شیخ نے خود گرفتاری دے دی لیکن اس وقت تک ڈینیئل پرل کو قتل کیا جا چکا تھا۔

گرفتار ہونے کے بعد عمر شیخ نے تفتیش کاروں کو بتایا کہ ڈینیئل پرل کے اغوا کے بعد اور گرفتاری سے پہلے کے دو ہفتے انھوں نے لاہور میں اس وقت کے ایک سینیئر بیوروکریٹ اور آج پاکستان کے وزیرِ داخلہ بریگیڈئر ریٹائرڈ اعجازشاہ کے پاس گزارے تھے۔

ڈینیئل پرل کے اغوا اور قتل میں شامل افراد پر مقدمہ امریکہ میں چلانے کا فیصلہ ہوا لیکن پاکستانی حکومت نے عمر شیخ کو امریکہ کے حوالے کرنے سے انکار کر دیا تھا۔

پھر پاکستان میں اس مقدمے میں سنہ 2002 میں عمر شیخ کو انسداد دہشت گردی کی عدالت نے سزائے موت سنائی جس پر اپیل کا فیصلہ 18 برس بعد دو اپریل 2020 کو ہوا ہے اور عدالت نے ان کی سزائے موت ختم کرتے ہوئے اسے اغوا کے جرم میں سات برس قید کی سزا سے بدل دیا۔