پاکستان میں کورونا وائرس خدشات کے باعث لاک ڈاؤن کے حوالے سے سوشل میڈیا پر بحث: ’قومی سلامتی کا مسئلہ بنا کر پیش کیا جاتا تو فوری لاک ڈاؤن ہو جاتا‘

پاکستان

،تصویر کا ذریعہGetty Images

پاکستان میں سوشل میڈیا پر یہ مطالبہ زور پکڑتا دکھائی دے رہا ہے کہ ملک میں کورونا کا پھیلاؤ محدود کرنے کے لیے لاک ڈاؤن کر دیا جائے۔ ٹوئٹر پر سنیچر کی صبح #lockdownpakistan ٹاپ ٹرینڈ ہے اور ملک میں سماجی کارکنوں سے لے کر شوبز کی شخصیات تک سب اس بارے میں بات کر رہے ہیں۔

خیال رہے کہ پاکستان کے وزیراعظم عمران خان نے جمعے کو اپنے خطاب میں کہا تھا کہ ملک لاک ڈاؤن کا متحمل نہیں ہو سکتا۔

ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ مکمل طور پر لاک ڈاؤن کرنے کا مطلب ملک میں کرفیو نافذ کر دینا ہے۔ انھوں نے کہا کہ اس وقت یہ کرنا ممکن نہیں کیونکہ اس کے وسائل پاکستان کے پاس نہیں۔

تاہم ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ ’ضرورت پڑنے پر ہم لوگوں کو کلسٹر میں لاک ڈاؤن کریں گے۔‘

خیال رہے کہ کورونا وائرس کی عالمی وبا اب تک 186 ممالک کو متاثر کر چکی ہے اور جو ممالک اس پر کچھ حد تک قابو پانے میں کامیاب ہوئے ہیں وہاں لاک ڈاؤن کا سہارا لیا گیا ہے۔

مزید پڑھیے

چین کے صوبہ ہوبائی کے شہر ووہان سے شروع ہونے والے اس وائرس پر قابو پانے کے لیے چین میں پورے کے پورے شہر قرنطینہ میں تبدیل کر دیے گئے تھے اور لوگوں کو کسی ضروری کام کے علاوہ گھروں سے نکلنے کی اجازت نہیں دی جاتی تھی۔ اٹلی اور فرانس سمیت یورپ کے متعدد ممالک بدستور لاک ڈاؤن میں ہیں۔

ٹوئٹر پر اکثر صارفین اور مقبول شخصیات نے حکومت کو شہروں کو لاک ڈاؤن کرنے کی درخواست کی۔

اداکار علی ظفر نے ٹوئٹر پر ایک سروے کا آغاز کیا ہے جس میں انھوں نے یہ سوال پوچھا ہے کہ آپ کے خیال میں کیا حکومت کو لاک ڈاؤن کا اعلان کرنا چاہیے یا نہیں؟ اپنے ایک دوسرے ٹویٹ میں انھوں نے راشن فنڈ اور یوٹیلٹی بل معاف کرنے کے بارے میں تجویز دی ہے۔

ٹویٹ

،تصویر کا ذریعہ@AliZafarsays

فخر عالم نے دو ہفتوں کے لیے مکمل لاک ڈاؤن کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ اس سے کورونا وائرس کے خطرے کو کم کیا جا سکتا ہے۔ انھوں نے سوشل میڈیا پر اس سے متعلق ایک ویڈیو بھی شیئر کی جس میں انھوں نے وزیر اعظم عمران خان کو کرفیو جیسی صورتحال نافذ کرنے کی اپیل کی ہے۔

ان کی اس ویڈیو پر سابق کرکٹر شعیب اختر نے اپنے تبصرے میں اس تجویز کو قابل عمل قرار دیا جس پر فخر عالم نے اس امید کا اظہار کیا کہ اس حوالے سے بہترین فیصلہ لیا جائے گا۔

فحر

،تصویر کا ذریعہTwitter/@falamb3

فریحہ عزیز نے لکھا کہ اگر یہ قومی سلامتی کا مسئلہ بنا کر پیش کیا جاتا تو پھر فوری طور پر لاک ڈاؤن ہو جانا تھا اور کسی نے غریب اور دیہاڑی دار کی پرواہ نہیں کرنی تھی۔ ان کے مطابق (لاک ڈاؤن سے متعلق) فیصلے میں تاخیر مار دے گی اور یہ ایسا ہی ہو رہا ہے۔

شیر

،تصویر کا ذریعہTwitter/@sherryrehman

صحافی نسیم زہرہ کے خیال میں لاک ڈاؤن ہی واحد حل ہے۔ انھوں نے لکھا کہ مسٹر پی ایم لاک ڈاؤن سے متعلق ضروری اقدامات نہ لینا مجرمانہ غفلت ہے۔ انھوں نے سوالات اٹھائے کہ کیا ہم مکمل تباہی کی طرف بڑھ رہے ہیں۔ لاک ڈاؤن میں تاخیر تفتان بارڈر سے بھی زیادہ خطرناک معاملہ ثابت ہو گا۔

نسیم زہرہ

،تصویر کا ذریعہTwitter/@NasimZehra

پاکستان پیپلز پارٹی سے تعلق رکھنے والی سینیٹر شیری رحمان نے ٹویٹ کیا کہ خطرے کی شدت کو سمجھنے کی ضرورت ہے، سوشل فاصلہ رکھنے کا مطلب لاک ڈاؤن ہے۔ ان کے مطابق لاک ڈاؤن کا مطلب ہوتا ہے کہ ضروری خدمات دستیاب رہیں گی۔

فریحہ عزیز

،تصویر کا ذریعہTwitter/FariehaAziz

ان کے مطابق معاشی طور پر یہ ایک مشکل فیصلہ ہے لیکن ہمیں مشکل فیصلے کرنے ہوں گے، ہمیں پہلے قیمتی جانیں بچانی ہوں گی، یہی وہ چیز ہے جسے حکومتوں اور لوگوں کو کرنا ہو گا۔

ایک صارف نے لاک ڈاؤن کی حمایت کرتے ہوئے کہا کہ رزق تو خدا دے گا۔ اپنی بات سمجھانے کے لیے انھوں نے کہا کہ کچھ لوگ دو وقت کی روٹی کے محتاج ہیں آپ کی ذخیرہ اندوزی وہ بھی چھین لے گے۔